عصر حاضر میں اردو افسانے کی آبیاری کرنے والے ناموں میں ایک نام ایثار کشمیری کا ہے۔ان کا اصلی نام صابر حسین ہے ،لیکن ادبی حلقوں میں ایثار کشمیری کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ایثار اگر چہ انگریزی ادب کے طالب علم رہ چکے ہیں لیکن اردو زبان وادب سے انہیںخاصی دلچسپی ہے ۔اردونے انہیں صاحب کتاب بنایااوران کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’کرب ریزے‘‘شائع ہوا ۔متذکرہ مجموعہ منظر عام پر آنے سے قبل ان کا پہلا افسانہ ’’بکھرے خواب‘‘ کے عنوان سے سامنے آیا ۔یہ افسانہ جب مقامی اخبار میںچھپ گیا تو قارئین نے ان کو سراہااور باقاعد ہ افسانے لکھنے پر اکسایا ۔جلد ہی انہوں نے باقاعدہ طور پر افسانے لکھنے شروع کئے ۔مجموعہ ’’کرب ریزے‘‘ میں کل 31 کہانیاں ہیں جن میں کئی افسانچے بھی ہیں ۔ان کی بیشتر کہانیا ں وادی کے حالات و واقعات پر مبنی ہیں۔
مجموعہ میں شامل افسانہ ’’بکھرے خواب ‘‘ کشمیر کے پر آشوب حالات کی سچی تصویر ہے۔کشمیر کی سرحد پار کرنے کے جرم کو افسانے کا موضوع بنایا گیا ہے۔افسانے میںیہ جرم عبداللہ میر کا اکلوتا بیٹا کامران جو شادی کے21 سال بعدپیدا ہوتا ہے،کرتا ہے۔لیکن یہ صرف کامران کی کہانی نہیں بلکہ ہر اس کشمیری نوجوان کی کہانی ہے جو کشمیر میں ہورہے ظلم وجبرکی انتہاسے تنگ آکر سرحد پار کرکے بندوق یا ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوجاتاہے ۔افسانے میںکامران کے اچانک غائب ہونے پر ان کے گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے ۔کامران کے والدین کی زندگیوںمیںکبھی اجالا نہ ہونے والا اندھرا چھا جاتا ہے۔ افسانے میں کامران کی والدکی موت اس ڈر سے ہوجاتی ہے کہ اسے کامران کی لحد کھودنی ہوگی اور اس کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھا ناہوگا ۔اس منظر کو یاد کرتے کرتے کامران کے والد عبداللہ میر کی وفات ہوجاتی ہے۔اس کی منظرکشی افسانے میں یوں کی گئی ہے۔
’’پوری بستی میں کہرام بپا تھا۔اشک بار آنکھوں کے ساتھ عبداللہ میر کوسپرد خاک کیا گیا اورپیچھے رہ گیاکچی اینٹوں کا مکان ــ،ستارہ کی لاچاری ،عبداللہ میر کی یادیں اور کامران کی واپسی کی آس‘‘۔
اب عبداللہ میر کے گھر میں صرف اس کی بیوی ستارہ رہتی تھی جو غم کی تاریک راتیں اکیلے کاٹنے پر مجبور تھی لیکن ستارہ کی غموں کی گھڑی نے اس وقت ٹک ٹک کرنا بند کر دیا جب اس کے گھر کی دہلیز پر کامران چار کندھوں پر سوار ہو کر آیا ۔محلے کے ہر گھر، ہر آنگن میں ماتم چھا گیا ۔لیکن اب ستارہ ہر غم سے آزاد ہو چکی تھی۔اب اس کے پاس نہ اکیلی راتیں تھیں اور نہ ہی کامران کی واپسی کی آس ۔
دراصل یہ تاریک دن و راتیں اور یہ واپسی کی آس نہ صرف کامران کی ماں کی روداد ہے بلکہ تقریبا کشمیر کے ہر گھر کی داستان ہے۔کشمیر میں رہنے والے لوگ ظلم و جبر کی انتہا میں رہتے ہیں اور جو نوجوان ان مظالم کو برداشت نہیں کرتے وہ سرحد پار کرنے پر مجبو ہو جا تے ہیں ۔ان کی حالات کو مد نظر رکھ کر ایثار نے اس کہانی کا تانا بانا پیش کیا ہے۔
افسانے میں افسانہ نگار نے کشمیر کے یک رخ کی سچی جھلک دکھانے کی کوشش کی ہے جس میں موصوف کامیاب ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ افسانہ موضوعاتی حوالے سے پر تاثیر افسانہ ہے۔ حالانکہ اس کا موضوع اچھوتا نہیں ہے۔ان حالات واقعات کواوربھی کئی فکشن نگاروں نے موضوع بحث بنایاہے لیکن موصوف نے افسانے میں وحدت تاثر کو برقرار رکھ کر افسانے میں جان پیدا کی ہے۔اس افسانے کی پذیرائی ہونے کے بعد انہوں نے اس موضوع کے ساتھ باقی موضوعات کے حوالے سے بنا قلم تھمے افسانے لکھنے شروع کئے اور انہی افسانوںکو مجموعی صورت دے کر اپنا پہلا مجموعہ قارئین کے سامنے پیش کیا ۔
افسانوی مجموعہ کرب ریزے میں نہ صرف کشمیر کے پرآشوب حالات وقعات کا ذکر ہے بلکہ کشمیر کی تہذیب و ثقا فت کو بھی موضوع بحث بنایا گیا ہے ۔وادی کشمیر اپنی منفرد تہذیب وثقافت سے جانی جاتی ہے لیکن یہاں کی تہذیب کو پامال کرنے میں یہاں کے لوگوں کا ہاتھ رہا ہے ۔وادی کشمیر اپنی پر کشش فضائوں ،سرسبز و شاداب درختوں ،پرندو چرندکی چہچہاہٹ سے کھل کھلاہٹ اٹھتی تھی لیکن ان سب کا گلا آج کل کی Forwardسوچ رکھنے والی نئی نسل نے گھونٹ دیا۔نئی نسل natural beautyپر technologyکو ترجیح دیتی ہے۔درختوں کو کاٹ کرصنعتیں اورہوٹل قائم کئے جا رہے ہیں۔بظاہر ہر کشمیری ترقی یافتہ نظر آرہا ہے لیکن اس کی تہذیب و ثقافت جس قدرتی نظارے کی وجہ سے خوبصورت اور ترو تازہ نظر آرہی ہے ،ان ٹیکنالوجیوں کی وجہ سے ہر برے اثرات سے متاثر ہو رہی ہیں ۔موصوف نے افسانہ ’’میں کشمیر ہوں ‘‘ میں اسی بات کو پر اثر انداز سے تحریر کیا ہے ۔
سر سبز و شاداب درخت پرندوں کے گھر ہوا کرتے تھے لیکن ترقی کے نام پر لوگوںنے اس فطری نظام میں خلل ڈال دیا اور درختوں کو کاٹ کر نہ صرف پرندوں کے گھروں کو لوٹا بلکہ اپنی زندگیوں کو بھی مشکل بنایا ۔افسانے میں شروعات سے لے کر آخر تک ایک بوڑھے کی آواز ابھرتی رہتی ہے جو ترقی کے نام پر لوگ جنگل صاف کر رہے ہیں ان کو نصیحت کرتا رہتا ہے۔افسانے میں ایک آدمی پانچ ستارہ ہوٹل تعمیر کرنا چاہتا ہے لیکن بوڑھے کی آواز اسے روکتی ہے۔
افسانے میں فنی چابکدستی سے بوڑھے کو کشمیر کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔جیسا کہ افسانے کے عنوان ’’میںکشمیر ہوں ‘‘سے ہی پتہ چلتا ہے کہ یہ کشمیر کی درد و کرب پر لکھا گیا ہے ۔بوڑھا جو کہ افسانے کی شروعات میں جوان دکھایا گیا ہے جو ہر صدی کے لوگوں کی بانسری بجھا نے سے لطف اندوز ہوجاتا ہے لیکن صدیاں گزر جاتی ہیں۔لوگ بدلتے گئے ۔لوگ ترقی کی طرف گامزن ہورہے تھے جو اس بوڑھے (کشمیر) کو فکر مند کر رہی تھی ۔وہ ہر generationکیلئے فطری نظام کو سنبھال کر رکھنا چاہتا تھا۔آخر کار لوگوں سے التجا کرکے بوڑھے (کشمیر)کی موت ہوجاتی ہے دراصل یہ ایک علامت ہے یہ اصل میں کشمیر ہے جس کی موت صرف نئی ذہن رکھنے والے لوگوں سے ہورہی ہے ۔افسانے کی قرأت کرنے سے موصوف کے تفکر کا احساس ہو رہا ہے۔وہ بھی اس علامتی بوڑھے کی طرح کشمیر کوبکھرتے نہیں دیکھ سکتے ہیں۔
افسانہ ’’واپسی‘‘خواب پر مبنی افسانہ ہے ۔جس میں انسان کی حرص اور لالچ کو موضوع بنایا گیا ہے۔افسانے میں ایک نوجوان جو خواب میں اپنے آپ کو ایک شہزادے سے کم تر نہ دیکھتا ہے ۔اس نوجوان کے پاس گاڑی ،بنگلہ ،نوکرچاکر، رہنے کو عالیشان گھر ہے ۔لیکن افسانے میں جیسے نوجوان سکون کا مارا ہے۔نوجوان اپنی شاندار گاڑی میں سوارہو کر اپنی ضعیف ماں کو سڑک پر چلتے دیکھتا ہے۔نوجوان کے اصرار کرنے پر بھی اس کی ماں اس کی شاندارگاڑی میں بیٹھنے سے انکار کر دیتی ہے ۔افسانے میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے ماں باپ کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا ہے۔لیکن اس کی ماںکی بے رخی سے احساس ہوتا ہے کہ نوجوان نے اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ہے۔اور بڑھاپے میںان کوبے آسرا چھوڑ ا ہے۔نوجوان کو کہیں نہ کہیں اس باپ کا احساس ہوچکا ہے آخر پر وہ بڑ بڑاتا ہے اس کی ماں سرہانے بیٹھی اسے بلا رہی تھی۔
افسانہ نگار نے آج کل کی نوجوان نسل، جو اپنے والدین کو بے آسرا چھوڑتے ہیں ،پر قلم اٹھا یا ہے۔یہ عقل سے پرے کہانی نہیں بلکہ تقریباًہر گھر کی کہانی ہے۔افسانہ نگار نے افسانے میں وعظ و نصیحت طریقے کو نہیں اپنا یا ہے بلکہ سیدھے طور پر کہانی پیش کی ہے۔یہ افسانہ مولوی نزیر احمد کے ناول ’’توبتہ النصوح‘‘کی یاد کو تازہ کراتا ہے۔ناول میں نصوح بھی خواب دیکھتا ہے اور پھر لغزشوں سے باز آتا ہے ۔افسانے میں یہ بات پنہاں ہے کہ زیادتی کی لالچ انسان کو غافل کرتی ہے۔اور اسی وجہ سے آنکھوں پر پردہ رونما ہوجاتا ہے۔
مجموعے میں اسی موضوع پر ایک اور کہانی ’’اداس چاند‘‘کے نام سے شامل ہے۔افسانے میں ایک غریب آدمی ’’کبیر‘‘کی غربت اور استحصال کو موضوع بنایا گیا تھا ۔کبیر کا استحصال ایک امیر سیٹھ صاحب کے ہاتھوں اسطرح ہوتا ہے ۔ان کے گھر کی ملازمہ کبیر کی بیٹی ماہ پارہ ہے ۔وہ گھر کا سارا کام خوش دلی سے انجام دیتی ہے۔اچانک سیٹھ صاحب کے اکلوتے بیٹے کلمان کے دونوں گردے خراب ہوجاتے ہیں ،سیٹھ کے ذہن میں ایک بات سوجھی اور وہ ماہ پارہ سے ہم کلام ہوتا ہے ۔
’’دیکھو بیٹی ہر بیماری کا علاج ممکن ہے۔میرے لاڈلے کی بیماری کا علاج بھی سوفی صد ممکن ہے۔مگر شرط یہ ہے کہ کوئی اپنا مل جائے ۔دیکھو بیٹی اگر تم کلمان کی خاطر اپنا ایک گردہ خیرات کردو گی تو یہ پھر سے چلنے پھرنے کے قابل ہوجائے گا ۔اور پھر میرا بیٹا آخر تمہارا ہی ہے۔‘‘
ماہ پارہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد معصوم بھی تھی وہ سیٹھ کی چالاکی کو جان نہ سکی اور اپنا ایک گردہ دینے کے بعد اپنی محبت اور خوبصورتی سے ہاتھ دو بیٹھی ۔کلمان بھی اب صحت یاب ہونے لگا ۔اور ماہ پارہ سیٹھ صاحب اور اس کی بیوی کو بوجھ لگنے لگی ۔ انہوں نے ماہ پارہ کے باپ کبیر کو گھر بلایا ۔۔
’’دیکھو کبیر ۔۔۔ہم سب کچھ برداشت کرتے لیکن تم جانتے ہو کہ کوئی بھی عقل مند انسان اپنی عزت پر آنچ آنے نہیں دئے گا ۔تم سمجھ دار ہو میری بات کو اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہو ۔۔۔بس یہی کہنا تھا مجھے۔‘‘
سیٹھ صاحب نے بنا انجام کا سوچے سارا الزام ایک معصوم کے سر ڈال دیا ۔اور یہ بوجھ ماہ پار ہ کا باپ کبیر برداشت نہ کر سکا اور وہ زندگی کی جنگ ہار کر ماہ پارہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اکیلا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ موصوف نے افسانے میںلالچی سیٹھ اور اسکی بیوی کا انجام بھی دکھایا ہے۔سیٹھ کی موت سڑک کے حادثے میں ہوجاتی ہے ۔اور اسی غم کے بوجھ تلے اس کی بیوی کی موت بھی ہوجاتی ہے۔دراصل موصوف قاری کو اس بات کی تلقین کرانا چاہتا ہے کہ برائی کا انجام ہمیشہ برا ئی ہوتا ہے۔حرص و لالچ انسان کی آنکھوں میں صرف دھول جھونکتی ہے اور انسان اندھا ہوجاتا ہے۔
افسانہ نگارکو زبان کو بیان الفاظ کے استعمال پر پوری گرفت حاصل ہے۔مجموعہ میں مختلف موضوعات پر افسانے لکھے گئے ہیں۔اور ان مختلف موضوعات کو اپنے منفرد انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایثار اپنے افسانوںمیں تلخ سچائی کا اظہار بے باکی سے کرتے ہیں ،یعنی جو بھی سچائی یا نا مساعد واقعات ہو ان کو بیان کرنے میں غیرجانبدارانہ انداز اختیار کرنے میں قاصر نہیں رہتے۔اور یہی غیر جانبداری ایک اچھے افسانہ نگار کی نشانی ہے۔وہ افسانوں میں طنز کے تیر بھی برساتے ہیں اور کہیں کہیں باتو ں کو پوشیدہ و مبہم انداز میں بھی ان کی تلخیوں کو بیان کرتے ہیں ۔اس کی مثال افسانہ ’’عندلیب‘‘ہے۔کہانی میں دراصل ’’عندلیب‘‘ایک معصوم لڑکی کو موضوع بنا کر ایک درد ناک واقعے کی تفسیر کی گی ہے۔عندلیب جو زعفران کے پھولوں سے متاثر ہو کر دور کھیتوں میں چلی جاتی ہے، افسانے میں کہیں بھی کھلے طور پر بیان نہیں کیا گیا ہے کہ عندلیب کے ساتھ کیا کیا گیا ہے، افسانے میں ان باتوں کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔لیکن افسانے کی تکنیک کچھ اس طرح ہے کہ قار ی خود بخود سمجھ جاتا ہے کہ افسانہ کن واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ریاست اور ریاست سے باہر بھی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جن میں معصوم لڑکیوں کی عصمت کو تار تار کیا گیا ،افسانے کا موضوع بھی دراصل یہی ہے۔یہ صرف عندلیب ہی نہیں بلکہ ہر اس معصوم کی کہانی جن کی عزت کو نوچ نوچ کر قتل کر دیا گیا ۔افسانے کو علامتی اندازمیںپیش کیا گیا ہے۔
موصوف کے یہاں مختلف انداز اور مختلف موضوعات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔افسانہ ’’لہو کا چراغ ‘‘ کا موضوع خاصا مختلف ہے۔دراصل موضوع کے حوالے سے منفرد نہیں بلکہ افسانے کا انداز بیان مختلف ہے۔افسانہ سوال و جواب کی ہیت میں ہے جس میں پوتا اپنے دادا سے سوالات پوچھتا ہیں ۔افسانے کے عنوان سے انداز ہوتا ہے کہ یہ نامساعد حالات سے اجاگر کیا ہوا افسانہ ہے۔افسانے میں بچہ دادا سے پوچھتا ہے ’’سورج اجالا کہاں سے لاتا ہے‘‘ دادا بچے کو حقیقت سمجھانے کی کی ناکام کوشش کرتا ہے۔دراصل افسانہ نگار قاری کو اس چیز باور کرانا چاہتے ہے کہ جو واقعات گزر چکے ہے یعنی قتل وغارت کی وجہ سے کتنی مائوں کے دل جل رہے ہیں ۔کتنی آہیں ایسی ہے جن سے طوفان بپا ہوتا ہے ۔
مذکورہ افسانے میںکسی کی ماں کا تذکرہ نہیں ہے۔نہ ہی کوئی ماں یا کوئی عورت افسانے کا کردار ہے۔بلکہ افسانے میں صرف دو کردار شروعات سے لے کر آخر تک بنے رہے ہیں۔افسانے میں بچے کے کردار سے ریاست کے احوال کا پتہ چلتا ہے۔اس کی آواز ریاست میں رہنے والے ہر اس انسان کی ہے جو ان نامساعد حالات کا چشم دید گواہ ہے۔اور اس بچے کے سوالات ریاست کی نئی نسل کے سوالات ہیں جنہوں نے اس جنت کو لہولہان ہوتے دیکھا ہے۔افسانہ نگار کے دل میں بھی لاجواب سوالات مدفون ہیں اوران ہی سوالات کو موصوف نے افسانے کی شکل دی ہے ۔
دراصل افسانہ نگار اس سماجی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کرانا چاہتے ہیں کہ کس طرح بے حس لوگ زندگی کی حقیقت سے دور بھاگ جاتے ہیں اور دوسروں کا جینا حرام کرتے ہیں ۔ایک اور سماجی وبا بیٹی کو پیدا کرنا ہے ۔افسانے کا دوسرا پہلو یہی ہے۔اس میں عظمی ٰکے یہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے جس پر اسے منحوسیت کے الزام تلے دبا دیا جاتا ہے اور آخر کار اسے طلاق دی جاتی ہے۔ افسانہ انجام سماجی حقیقت نگاری پر لکھی جانی والی کہانی کا انجام بے حد افسوس ناک ہے۔یہ کہانی آج کل کے سماج میں پنپ رہی ہے۔ اسے سیدھے الفاظ میں افسانہ نگار نے کہانی کا موضوع بنایا ہے۔
زبان وبیان کے حوالے سے اگر مجموعے کا جائزہ لیا جائے تومجموعے کے ہر افسانے کی زبان سریع الفہم ہونے کے ساتھ ساتھ دلکش اور موثر بھی ہے۔ افسانوں میں تاثر ایسا ہے جو قاری کے دل و دماغ کو متاثرکئے بغیر نہیں رہتا اور افسانے کا اثر کافی دیر تک قاری پر رہتا ہے اور اسے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جو ایک بہترین افسانہ اور افسانہ نگار کی مثال ہے۔
(مضمون نگارجامعہ کشمیر میں ریسرچ سکالر ہیں)