اکثر وبیشتر اہل ِدنیا وسائل کی کمی کو پریشانی کا سبب مانتے ہیں اور دن رات اس سے نجات حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں لیکن بہت سارے ملکوں میں وسائل کی بہتات ہونے کے باوجود سکون غائب ہے۔ حق یہ ہے کہ انسان چاہے کتناہی بڑی کوششیں کرنے میں لگارہے ،وہ نہ ہی دنیا کوسکون میسر کر سکتا ہے اور نہ ہی پرت پشانیوں سےبچ سکتا ہے۔ ساری دنیا میں تباہی اور جنگی ماحول جیسے عدم استحکام سےچھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایسا نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جو بغیر کسی تعصب کے ہو اور انسان ذات پات، رنگ و نسل اور مذہبی امتیازات سے اُوپر اٹھ کر عظمت انسانی کے کام انجام دینے میں معاون ثابت ہو۔ دنیا کے بیشتر نظریات چاہیے وہ سرمایہ دارانہ نظام ہو، اشتراکی نظام ہو، یا پھر کوئی اور نظریہ ہو، انسانیت کی فلاح کے لئے کام کر نے میں ابھی تک ناکام ہی ر ہے ہیں۔اگر دنیا کے سربراہان عالمی سطح پر امن و استحکام اور اتحاد قائم کر نے کی ذرا بھی پرواہ رکھتے ہوںتو پھر انہیںیہ سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگنی چاہیے کہ نظام الهٰی یا نظام عدل ہی انسانی کامیابی کی کنجی ہے اور اسےہی اپنایا جائے۔
اعلی وادنیٰ سب لوگ انسانیت کی فلاح کے لئے کام کرنے میں ہی یقین رکھیں ۔ اگر قلب و ذہن کی رضامندی کے ساتھ انسانی حقوق بحال کئے جائیں تو ہر ملک کے اندر تعمیر وترقی،اخلاق سر بلندی اور بھائی چارے کو فروغ ملے گا ، اسی صورت میں ہر شخص کی پر یشانی دورہوگی ، مایوسی ختم ہوگی ، افراد اور اقوام کو کامیابی ملےگی۔ اصل میںنا انصافیوںکی وجہ سے عالم انسانیت پریشانیوں میں مبتلا ہے ۔انسان کی بنیادی ضروریات یہ ہیں کہ سماج میں ہر فردبشر کو جان و مال کا تحفظ ، مذہبی آزادی اور روزگار کی فراہمی ضمانت ہو ۔اس کے لئے دنیا کے سارے ملکوں میں توازن برقرار رکھنےکی ازحدضرورت ہے ۔حکومتی اداروں کو بلا مذہب و ملت،رنگ و نسل کے تمام شہر یوں کو یکساں طور انصاف فراہم کرانے میں اپنا فرض ادا کرنا چاہیے ۔ سب سے پہلے لوگوں کو جان و مال کی حفاظت کرانے کے اقدامات پر توجہ مرکوز کی جا نی چاہیے۔ یہ ہر انسان کا بنیاد ی حق ہے جس کی پامالی سے منافرت پھیلتی ہے اور ملکی مسائل میں اضافہ ہو نے کے ساتھ ساتھ تخریب کاری پھیلنے کے مواقع فراہم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے رجحانات کی حوصلہ شکنی کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہر انسان کچھ اچھا کرنے کی سوچ سکے۔ عالم انسانیت کی تمام درد ناک بیماریوں کے علاج کے لئے اگر دنیا کے سربراہانِ حکو مت ، دانشور اورمفکرین فلاحِ انسانیت کے واقعی متمنی اور متلاشی ہیں تو پھر انہیں اس طرح کے اقدامات کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کر نی چاہیے ۔