ذرا سوچو!
مومن فیاض احمد غلام مصطفیٰ
آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں سائنس، ٹیکنالوجی اور مادی ترقی نے انسان کو بے شمار سہولتیں تو عطا کی ہیں، مگر افسوس کہ اخلاقی اقدار اور خاندانی رشتوں کی محبت میں کمی آتی جا رہی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا رشتہ اولاد اور والدین کا ہے۔ آج بہت سے بچے والدین کی نصیحت کو اپنی آزادی میں رکاوٹ سمجھتے ہیں، ان کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہیں، ان سے اونچی آواز میں بات کرتے ہیںبلکہ بعض اوقات دوستوں کی خاطر اپنے والدین کی بے عزتی تک کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف اخلاقی پستی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور آخرت کی تباہی کا سبب بھی ہے۔اسلام نے والدین کے مقام کو اس قدر بلند رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ ہی ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہےکہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو۔ذرا غور کرو،اللہ تعالیٰ نے صرف ’’اُف‘‘ کہنے سے بھی منع فرمایا ہے، جبکہ آج بعض نوجوان غصے میں والدین کو سخت الفاظ کہتے ہیں، ان پر آواز بلند کرتے ہیں اور ان کی دل آزاری کرتے ہیں۔ یہ ایک مسلمان کی شان نہیں۔یہ دنیا ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے۔اس لئے ایک مسلمان کی سب سے بڑی کامیابی دنیا میں دولت، شہرت، عہدہ یا اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی ہے۔ اگر کوئی شخص دنیا میں بہت بڑا افسر، وزیر، صنعت کار یا عالم بن جائے، لیکن والدین کو ناراض کر دے اور اللہ کی رضا سے محروم ہو جائے تو حقیقت میں وہ کامیاب نہیں بلکہ خسارے میں ہے۔ہمیں اپنی زندگی کا ہر فیصلہ آخرت کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے۔ یہ سوچنا چاہیے کہ میرا یہ عمل اللہ کو پسند ہے یا نہیں؟ کیا اس سے میرے والدین خوش ہوں گے؟ کیا اس سے میری آخرت سنورے گی؟
بدقسمتی سے آج نوجوان اپنے دوستوں کی بات تو فوراً مان لیتے ہیں، لیکن والدین کی نصیحت انہیں بوجھ محسوس ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوست وقتی ساتھی ہوتے ہیں، حالات بدلتے ہی اکثر ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، مگر والدین وہ ہستیاں ہیں جو اپنی اولاد کی خوشی کے لیے اپنی پوری زندگی قربان کر دیتے ہیں۔ وہ خود بھوکے رہ سکتے ہیں لیکن اپنی اولاد کو بھوکا نہیں دیکھ سکتے۔ وہ اپنی خواہشات قربان کر دیتے ہیں تاکہ اولاد کے خواب پورے ہو سکیں۔
یاد رکھیں! کوئی بھی ماں باپ اپنی اولاد کا بُرا نہیں چاہتے۔ اگر کبھی وہ سختی کرتے ہیں، کسی بات سے روکتے ہیں یا ڈانٹتے ہیں تو اس کے پیچھے صرف اور صرف اولاد کی بھلائی ہوتی ہے۔ ان کے تجربات، ان کی دعائیں اور ان کی محبت ایسی دولت ہے جو دنیا کی کسی یونیورسٹی میں نہیں مل سکتی۔اگر کبھی ہمیں محسوس ہو کہ والدین کی رائے ہماری سوچ سے مختلف ہے، تب بھی ہمیں ان کے ساتھ ادب، نرمی اور احترام کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ جہاں شریعت کی نافرمانی نہ ہو، وہاں حتیٰ الامکان ان کی بات ماننے اور ان کا دل رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیونکہ ان کے دل کو خوش کرنا اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی زندگی میں برکت صرف والدین کی دعاؤں کی وجہ سے آئی اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو والدین کی نافرمانی کے باعث بے سکونی، ناکامی اور محرومی کا شکار ہوئے۔
آج جن کے والدین زندہ ہیں، وہ بہت خوش نصیب ہیں۔ اس نعمت کی قدر کریں، ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی خدمت کریں، ان کے علاج کا خیال رکھیں، ان کے لیے دعائیں کریں، ان کی ضروریات پوری کریں اور سب سے بڑھ کر انہیں کبھی یہ احساس نہ ہونے دیں کہ وہ بوجھ ہیںاور جن کے والدین اس دنیا سے جا چکے ہیں، وہ ان کے لیے دعا، استغفار، صدقۂ جاریہ اور ایصالِ ثواب کا اہتمام کریں، کیونکہ اولاد کی دعا والدین کے درجات بلند کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔آخر میں ہر نوجوان سے یہی درخواست ہے کہ دنیا کی دوڑ میں اتنے نہ کھو جاؤ کہ اپنے والدین کی محبت، دعاؤں اور خدمت سے محروم ہو جاؤ۔ دنیا چند دن کی ہے، مگر آخرت ہمیشہ کی زندگی ہے۔ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا میں عزت، رزق میں برکت، دل کا سکون اور آخرت میں جنت عطا فرمائے تو اپنے والدین کو راضی رکھو۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرو، ان کے قدموں میں بیٹھ کر ان کی دعائیں حاصل کرو، کیونکہ یہی وہ دولت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
رابطہ ۔ 9890486581
[email protected]>