سید مصطفیٰ احمد
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ اس کی فطرت اور ساخت اس انداز میں کی گئی ہے کہ وہ تنہا زندگی گزارنے کے بجائے دوسروں کے تعاون اور مدد کا محتاج رہتا ہے۔ اگرچہ انسان اکیلے بھی زندگی گزار سکتا ہے، لیکن اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کے درمیان وہ خود کو زیادہ محفوظ اور مطمئن محسوس کرتا ہے۔ تاہم جب یہی رشتے زہریلے بن جائیں تو انسان ہر قسم کے تعلق سے کنارہ کش ہونے کا سوچنے لگتا ہے۔ایسے بہت سے اسباب ہیں جو ایک خوبصورت اور مفید رشتے کو تلخی اور نفرت میں بدل دیتے ہیں۔ انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لالچ، حسد اور خود غرضی نے ہمیشہ رشتوں کی بنیادوں کو کمزور کیا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے ہی عزیزوں کے حقوق پامال کرکے ذاتی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو رشتوں کا تقدس مجروح ہو جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں رشتے سکون کا ذریعہ بننے کے بجائے ذہنی اذیت کا سبب بن جاتے ہیں۔ جب تعلقات مرہم کے بجائے زخم دینے لگیں تو انسان کے دل میں رشتوں کے تصور سے بھی نفرت پیدا ہونے لگتی ہے۔
موجودہ دور میں رشتوں کے درمیان دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ معمولی غلط فہمیاں بڑے تنازعات کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگ ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کے بجائے مزید ہوا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں محبت اور اعتماد کی جگہ شکوک و شبہات لے لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے رشتے بظاہر قائم ہونے کے باوجود اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں۔ جب حسد اور لالچ رشتوں کا محور بن جائیں تو انہیں برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ایک زمانہ تھا جب رشتوں میں ہمدردی، ایثار، محبت اور خلوص پایا جاتا تھا۔ اگر خاندان کا کوئی فرد کسی مشکل میں مبتلا ہو جاتا تو دوسرے افراد اس کی مدد کے لیے فوراً آگے آتے تھے۔ مالی تعاون، اخلاقی حمایت اور دلجوئی معمول کی بات تھی۔ لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے تھے۔ اگر کسی گھر پر مصیبت آتی تو پورا خاندان اس کے ساتھ کھڑا نظر آتا تھا۔ لیکن آج صورتحال بڑی حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔ اکثر تعلقات مفادات کی بنیاد پر قائم نظر آتے ہیں۔ لوگ اس وقت تک قریب رہتے ہیں جب تک انہیں کوئی فائدہ حاصل ہو رہا ہو۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ محبت اور خلوص کی جگہ مفاد اور مصلحت نے لے لی ہے۔
جدید دور میں سوشل میڈیا اور تیز رفتار ذرائع ابلاغ نے جہاں رابطوں کو آسان بنایا ہے، وہیں غلط فہمیوں اور افواہوں کے پھیلاؤ کو بھی بڑھا دیا ہے۔ تحقیق کے بغیر باتوں پر یقین کرنا اور دوسروں تک پہنچانا کئی خاندانوں اور تعلقات میں دراڑیں ڈال دیتا ہے۔ بسا اوقات ایک بے بنیاد بات برسوں پر محیط محبت اور اعتماد کو چند لمحوں میں ختم کر دیتی ہے۔
ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آج لوگوں نے ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے کے بارے میں رائے قائم کرنا آسان سمجھ لیا ہے۔ سنی سنائی باتوں پر یقین کرنا، تحقیق کے بغیر فیصلے کرنا اور دوسروں کے ارادوں پر شک کرنا بہت سے رشتوں کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ حالانکہ مضبوط رشتے اعتماد، حسنِ ظن اور مکالمے کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ جب اعتماد ختم ہو جائے تو محبت بھی آہستہ آہستہ دم توڑ دیتی ہے اور تعلقات محض رسمی رہ جاتے ہیں۔اسی طرح علم، شعور اور برداشت کی کمی بھی تعلقات کی خرابی کا ایک اہم سبب ہے۔ جب انسان دوسروں کی بات سننے، سمجھنے اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے تو معمولی مسائل دشمنی میں بدل جاتے ہیں۔
اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ آج لوگ دیکھ بھال کرنے والوں کے محتاج ہیں۔ نام کے رشتے تو ہزاروں ہیں، لیکن ضرورت کے وقت ساتھ دینے والا کوئی نہیں ملتا۔ رشتہ داروں کے درمیان رابطے کم ہو چکے ہیں، دلوں میں رنجشیں پلتی ہیں اور ایک دوسرے کے لیے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں۔ ملاقاتیں بھی اکثر رسمی ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے بہت سے صحت مند تعلقات کو زہر آلود بنا دیا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں اور جہاں ممکن ہو رشتوں کی اصلاح کی کوشش کریں۔ معافی، درگزر، حسنِ ظن اور باہمی احترام وہ اوصاف ہیں جو تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔ اگر ہم صرف اپنی ذات اور مفاد کے حصار سے باہر نکل آئیں تو بہت سی تلخیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ ایک مہذب معاشرے کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب رشتوں کی بنیاد اخلاص، اعتماد اور انسان دوستی پر رکھی جائے۔خالقِ کائنات بھی انسانوں کو محبت، رحم دلی اور اخوت کے ساتھ زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے۔ آئیے ہم اپنے حصے کا کردار ادا کریں، دلوں سے حسد اور نفرت کو نکالیں، غلط فہمیوں کو ختم کریں اور جہاں تک ممکن ہو ایسے تعلقات استوار کریں جو انسانیت، محبت اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہوں۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں جب انسان رشتوں کے ہجوم میں بھی خود کو تنہا محسوس کرے گا اور ایک مخلص ساتھی کی تلاش میں سرگرداں رہے گا۔