عمر فروخ نے بیروت کے ایک متوسط الحال اور پڑھے لکھے گھرانے میں ۱۹۰۴ء میں آنکھیں کھولیں۔اس کے دادا نجار اور ناخواندہ تھے۔ مگراس کے والد پڑھے لکھے انسان تھے۔ انھیں عربی ، ترکی اور فرانسیسی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ انگریزی اور جرمن کی بھی انھیں شد بد حاصل تھی۔ گھر میں ان کی ایک ذاتی لائبریری بھی تھی جو اس دور کے ماحول میں بیروت میں ایک قابل ذکر شے تھی۔ انھوں نے انیسویں صدی کے اخیر میں یورپ کا بھی سفر کیا تھا۔ایک علمی، متوسط الحال اور پاکیزہ دینی ماحول میں ان کے بیٹے عمر نے تربیت پائی۔ مشرق ومغرب کے بحر علم وادب میں غوطہ زنی کرکے لازوال موتیوں سے اس نے اپنی زنبیل علم وادب کومعمور کیا۔ مشرق ومغرب کے چشمۂ صافی سے جرعات نوش کرکے اپنی علمی وادبی تشنگی فرو کی۔ بیروت کے مختلف مدارس وجامعات میں تعلیم حاصل کرنے اور تقریبا سات سال تک مختلف مدارس میں تدریس کے فرائض انجام دینے کے بعداس نے جرمنی کا سفر کیا اورمشہور مستشرق یوسف ہل کی نگرانی میں جرمنی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
جرمنی سے واپس آنے کے بعد بھی ڈاکٹر عمر فروخ نے بحیثیت استاذ کا م کرنا شروع کیا۔جمعیۃ المقاصد الخیریہ کے مختلف مدرسوں میں پرائمری کے درجہ چہارم سے لے کربی اے تک کی کلاسوں میں عربی زبان وادبیات، انگریزی، فرانسیسی، تفسیر، فقہ، خط نویسی، حساب، تاریخ، مصوری، فلسفہ، تاریخ العلوم وغیرہ مضامین کی تدریس کا فریضہ انجام دیا۔اپنے استاد گرامی نجیب نصار کی زیر تربیت زمانۂ طالب علمی میں صحافت سے انھوں نے جو رابطہ استوار کیا تھا وہ بدستور جاری رہا۔بعض ساتھیوں کے ساتھ انھوں نے الامالی کے نام سے ایک ہفت روزہ علمی وادبی جریدہ بھی جاری کیا۔دار المعلمین العالمیہ بغداداور دمشق یونیورسٹی میں وزٹنگ پروفیسر رہے۔المجمع العلمی العربی دمشق کے علاوہ مختلف علمی وادبی اکیڈمیوں کے ممبر رہے۔مختلف علمی وادبی موضوعات پر سو سے زائد کتابیںلکھیں اور کئی علمی وادبی اعزازات وانعامات سے نوازے گئے۔مسلسل چوہتر سال تک علمی وادبی، سماجی اور ثقافتی مشاہدات وتجربات کی بھٹیوں میں جل کر کندن بننے کے بعد ۱۹۸۰ء میں انھوں نے اپنی زندگی کی بکھری ہوئی یادوں کو سجاناشروع کیا جوبیروت کے جریدہ السفیرمیں۴/ اگست ۱۹۸۰ء سے لے کر مارچ ۱۹۸۲ء تک بروز سنیچر مسلسل قسط وارشائع ہونے کے بعددار الاندلس بیروت سے ۱۹۸۵ء میں ’’غبار السنین‘‘ کے نام سے زیور طباعت سے آراستہ ہوئیںجس کا اردو ترجمہ ناچیز نے ’’غبار حیات‘‘ کے نام سے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس لال کنواں دہلی سے حال ہی میں شائع کیا ہے۔
عربی میں۲۷۰ صفحات پر مشتمل عمر فروخ کی یہ خود نوشت سوانح دیگر خود نوشتوںسے یوں مختلف ہے کہ اس میں نہ تو بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کے واقعات کا تسلسل ہے نہ ہی قصۂ حیات کو ڈرامے یا کہانی کے اسلوب میں قلمبند کیاگیا ہے۔ بلکہ عمر فروخ نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے مختلف واقعات وحوادث کو مختلف عناوین کے تحت اس طرح بیان کیا ہے کہ ہر حصہ ایک مضمون کے مشابہ ہوگیا ہے۔ عمر فروخ کہتے ہیں کہ یہ کتاب میری زندگی کی تاریخ بیان نہیں کرتی لیکن میری زندگی میں پیش آنے والے واقعات وحوادث کے ایک بڑے حصے کو روشن ضرورکرتی ہے۔ لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ اس کتاب میں عمر فروخ کی زبان قلم سے ان کی زندگی کی ایسی تصویر کشی ہوئی ہے جو نہ تو ناقص ہے نہ ہی نامکمل بلکہ ان کی کتاب حیات کے تمام ابواب اس میںیکساں طور سے درخشاں ہیں اور ان میںاتنے لعل وجواہر پوشیدہ ہیں کہ قاری مالا مال ہوجاتا ہے۔ اس کی فکر روشن ہوجاتی ہے۔عمر فروخ کے ادیب، مورخ، محقق اورایک دیانت دار عالم قلم نے اپنی زندگی کو اس طرح اجالا ہے کہ قاری غور وفکر کے اتھاہ سمندر میں غرق ہوجاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب خود نوشت ہی نہیں فکر وفن کا خوب صورت آئینہ بھی ہے۔
ڈاکٹر عمر فروخ نے ’’غبارحیات ‘‘میںاپنے بچپن سے لے کر عمر رواں کے ستر سال تک کی تقریبا ہر بات پوری امانت اور دیانت کے ساتھ بے کم وکاست بیان کی ہے۔زندگی کا ہر لمحہ اور ہر زاویہ ستر سال کی عمر میں پہنچنے کے بعد بھی ان کے حافظے میں مقید ہے اور ہر زاویے پر انھوں نے تنقیدی نظر ڈالی ہے۔ ان کے کسی دوست نے ان سے اپنی زندگی کے کسی راز پر قلم اٹھانے کے لیے کہا تو انھوں نے کہا کہ میری زندگی کھلی کتاب ہے۔ اس میں ایسی کوئی بات ہی نہیں جو راز ہو۔ ہاںانھوں نے یہ بات چھپانے کی بالکل کوشش نہیں کی کہ انھوں نے دس سال کی عمر میں گرمیوں کی چھٹیوں میں پھیری لگاکر گھر گھر اخبار تقسیم کیا(ص ۸۱)باتھ روم صاف کیا (ص ۸۳) ۱۹۱۹ء میں جب وہ تیرہ سال کے تھے تو انھوں نے ایک فرانسیسی اخبار کے دفتر میں باتھ روم کی صفائی کا کام کیا۔ وہ لفافے تیار کیے جن میں رکھ کر خریداروں تک اخبار بھیجاجاتا تھا(ص ۸۴)یہ سب انھوں نے اس لیے کیا کہ وہ اپنے والدین پربوجھ نہ بنیں ، اپنی تعلیم کا خرچ خود برداشت کرسکیں۔ یہاں تک کہ اعلی تعلیم کے لیے اپنی ذاتی کمائی کے پیسے سے انھوں نے یورپ کا سفر کیا۔
پہلا مدرسہ
بچے کا گھر، گھر کا ماحول اور ماں باپ بچے کی تربیت پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وہ پہلی دانش گاہ ہوتی ہے جہاں اسے وہ ساری باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں جو اسے عمر بھر یادرہتی ہیں اور زندگی کے سردوگرم تھپیڑوں میںحوصلے سے جینے کا ہنر بھی دیتی ہیں۔عمر فروخ لکھتے ہیں کہ میں اس معنی میں بہت خوش نصیب تھا کہ میں نے ایک پڑھے لکھے گھرانے میں آنکھیں کھولیں۔میرے گھر میں بیک وقت عربی ، ترکی اور فرانسیسی زبانوں پر عبور رکھنے والے لوگ موجود تھے ۔کچھ لوگ ٹوٹی پھوٹی انگریزی اور جرمنی زبانیں بھی بول لیتے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ میرے دادا نے مجھے نمازاور قرآن پڑھنا ، تیرنا اور بازار سے سامان خریدنا سکھایا۔میرے والد نے مجھے شاہراہ حیات پر سیدھا چلنا سکھایاتو میری ماں نے ہمیں گھریلو کا م کرنا سکھایا۔ آٹا گودھنا، کھانا پکانا، کپڑا دھونا اور صفائی ستھرائی کے فن سے واقف کرایا۔ جس کا سیدھا اثر میری اولاد پر بھی پڑا۔ انھوں نے مصر، انگلینڈ اور امریکہ تک میں تعلیم حاصل کی لیکن گھریلو کام کاج کی معرفت کی وجہ سے انھیں کبھی بھی گھریلو معاملات میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا( ص۱۰۳-۱۰۵)
انھوں نے لکھا ہے کہ باپ کو اپنے بچے کے لیے بہترین آئیڈیل ہونا چاہیے ۔ بچے کی موجودگی یا غیر حاضری دونوں صورتوں میں اسے درست نمونہ بن کر سامنے آنا چاہیے کیونکہ بچے کی غیر حاضری میں اگرباپ کوئی غلط کام کرے گا تو کسی نہ کسی دن وہ بچے کے سامنے آہی جائے گا (ص۱۰۶)وہ افسوس کرتے ہیں کہ بعض والدین بچے کی بیس سال کی عمر تک اسے نظر اٹھاکر نہیں دیکھتے ، اس کی تربیت کا فریضہ انجام نہیں دیتے پھر اگرکسی دن بچے کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آتا ہے تووہ شکوہ کرنے لگتے ہیں۔(ص ۲۱۱)
استاذکا فریضہ
کہا جاتا ہے کہ اگر کسی انسان کو صحیح استاد مل جائے تو وہ اسے تراش کر نگینے میں تبدیل کردیتا ہے۔ ڈاکٹر عمر فروخ نے اپنی خود نوشت میں اساتذہ کے بارے میں بڑی پتے کی باتیں کہیں ہیں۔ ان کی تعریف کی ہے۔ انھیں ان کے فرائض منصبی سے آگاہ بھی کیا ہے اور ان پر تیکھی تنقید کے نشتر بھی چلائے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ میںنے اپنے پہلے ،دوسرے، تیسرے اور چوتھے مدرسے میں کچھ نہیں سیکھا۔مزید لکھتے ہیں کہ مدرسہ شیخ یوسف حلوانی میں جو استاذ ہمیں فرانسیسی پڑھاتے تھے ہم اس وقت بھی ان سے زیادہ فرانسیسی زبان جانتے تھے۔ (ص ۳۳۳)
وہ کہتے ہیں کہ جن مدارس میں انھوں نے تعلیم حاصل کی وہاں کے سارے اساتذہ بڑے بڑے علماء نہیں تھے لیکن ان کے دل میں علم کا پیغام مخفی تھا۔وہ تعلیم کے لیے بڑے مخلص تھے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ استاد طلبہ سے زیادہ ذہین اور زیادہ علم والا ہو بلکہ ضروری یہ ہے کہ استاذ مخلص ہوتاکہ طلبہ اس سے استفادہ کرسکیں۔(ص۳۳۴) استاد کاکام صرف اتنا ہی نہیں ہوتاکہ وہ کلاس میں لیکچر دے دے یا سبق پڑھادے بلکہ استاد کو شاگردوں کے لیے باپ کی طرح ہونا چاہیے۔ ان کی صلاحیتوں کی جانچ پرکھ کرکے انھیں مستقبل کی زندگی کے لیے تیار کرنا چاہیے۔ (ص ۸۶)ان کا خیال ہے کہ تعلیم نہ تومدارس وجامعات کی بڑی بڑی عمارتوں میں حاضری کا نام نہیں ہے نہ ہی اساتذہ کے سامنے بیٹھنے کا۔ تعلیم یہ ہے کہ اساتذہ اپنے شاگردوں کا ویسے ہی خیال رکھیں جیسے کہ باپ اپنے بچوں کا خیال رکھتا ہے۔ (ص ۹۷)
وہ ابن خلدون کے اس قول کی تائید کرتے ہیں کہ تعلیم کے لیے سفر کا مطلب ہوتا ہے مرحلۂ تعلیم میں کمال اور پختگی حاصل کرنا۔ عقلمند اس لیے تلاش علم کے لیے سفر کرتا ہے کہ وہ اساتذۂ وقت سے ملاقات کرے۔ ان کے ساتھ اٹھے بیٹھے۔ ان کے علم سے استفادہ کرے۔ ان کے طرز فکر تک رسائی حاصل کرے۔ ان کے اسلوب تحقیق کی معلومات حاصل کرے نہ کہ متنبی کے بارے میں کوئی ایسی دس حقیقتوں کی جانکاری حاصل کرنے کے لیے وہ سفر کرتا ہے جن میں سے پانچ کے بارے میں اس نے پہلے ہی اپنے ملک میں معلومات حاصل کرلی تھیں۔(ص ۱۱۷)
عمر فروخ جب جرمنی گئے تو وہ سات سال تک بحیثیت استاد کام کرچکے تھے۔ کئی کتابیں بھی لکھ چکے تھے۔ان کا علم وادب بھی پختہ ہوگیا تھا۔ کئی مستشرقین سے ان کی مراسلت بھی تھی اور کئی سے انھوں نے بیروت میں ملاقات بھی کی تھی۔وہ جب وہاں پہنچے تو ان سے پوچھاگیا کہ تم یہاں کس سے علم سیکھنے آئے ہو۔ کہا سفر علم سیکھنے کے لیے نہیں کیا جاتا علم کو پختہ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے کئی بڑے بڑے مستشرق اساتذہ سے ملاقات کی۔ ان سے سماع کیا، ان کے علم اور تجربات کی زنبیل کو علم وادب کے موتیوں سے مالا مال کیا۔ولیم میرسے سے عمر فروخ کی ملاقات ہوئی تو انھیں وہی حیرت ہوئی جو شبلی کو ابولکلام سے مل کر ہوئی تھی۔ ولیم نے عمر کی تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تم عمر فروخ ہو؟ عمر نے کہا جی ہاں۔ انھوں نے کہا میں تو تمھیں جبہ اور عمامے میں کوئی بہت بڑا بزرگ تصور کرتا تھا۔(ص ۱۴۱)
صحافت
ڈاکٹر عمر فروخ نے کم وبیش ۶۵ سال تک صحافت سے اپنا رشتہ استوار رکھا۔ بیروت وبیرون بیروت کے مختلف رسائل وجرائد اور مجلات میں مسلسل چھپتے رہے۔ در اصل قلم ہی وہ دولت ہے جو انسان کو امر کردیتی ہے۔انھوںنے لکھا ہے کہ کس طرح وہ صحافت اور قلم کی زلف گرہ گیر کی مشاطگی کے اسیر ہوئے۔ کبھی کبھی کسی استاد یا صاحب نظر کی ایک نگہ التفات شاگرد کوشاہراہ حیات کی ایسی سمت کا مسافر بنادیتی ہے جس پر وہ عمر بھر سرپٹ دوڑتا رہتا ہے۔عمر فروخ نے کچھ اسی طرح صحافت سے اپنا رشتہ استوار کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان کے استادنجیب نصار (و ۱۹۳۰ء) نے تمام طلبہ کو طیران (جہاز) پر ششماہی امتحان کے بعد مضمون لکھ کر لانے کے لیے کہا۔ یہ ۱۹۲۳ء کی بات ہے جب عمر فروخ محض سترہ سال کے تھے۔جب مدرسہ دوبارہ کھلا تو طلبہ نے مختلف انداز میںاس پر خامہ فرسائی کی تھی۔ کسی نے اختصار سے کام لیا تھا تو کسی بہت طولانیت سے اور کچھ نے قلت وقت کا بہانہ کرکے کچھ لکھا ہی نہیں تھا۔ نجیب نصار نے تمام طلبہ کے مضامین اصلاح کرکے واپس کردیے مگر عمر فروخ کا مضمون انھوں نے عمر کو واپس کرنے کے بجائے اسے روزنامہ ’’الاحوال‘‘ میں بھیج دیا۔یہ اخبار اس وقت لبنان کے بڑے اخباروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ عمر فروخ کا وہ مضمون دو تین دن کے بعد دو قسطوں میں شائع ہوا بلکہ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس میں سے کچھ اقتباس اخبار کے پہلے صفحے پر بھی شائع ہوئے تھے۔اس کے بعد پھر نصار صاحب نے ان سے مضمون لکھوایا اور ’’الاحوال‘‘ میں شائع کروایا۔(ص۸۶)یہی وہ مرحلۂ انتقال تھا جس نے عمر فروخ کی قلم کے ساتھ دوستی کروادی۔اس کے بعد عمر فروخ عمر بھر مختلف اخبارات میں لکھتے رہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ عمر فروخ نے اخبار میں شائع ہونے والے کسی بھی مضمون کے لیے کبھی کوئی قیمت نہیں لی۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ انھیں اخبار کے دباؤ میں کبھی بھی اپنی بات کہنے میں کوئی تامل نہیں ہوا۔ ۱۹۳۸ء میں جب وہ محض ۳۲ سال کی عمر کے تھے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر’’ الامالی‘‘ کے نام سے ایک ہفت روزہ بھی جاری کیا۔جس نے دو سال کی مدت میں ایک معتبر اخبار کی حیثیت حاصل کرلی تھی۔(ص۱۰۱) مگر مالی پریشانیوں کی وجہ سے انھوں نے اسے بند کرکے تالیف وتصنیف کی طرف توجہ مبذول کی اور چھوٹی بڑی سو کے قریب علمی وادبی کتابیں سپرد قلم کیں۔
رابطہ۔صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
فو ن نمبر۔9086180380