پتہ نہیںہماری اس بستی میں کب اور کون سے موسمی منصوبہ سازوں نے یہاں کے موسم سرما کو تین حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔یوں توخزان کے بعد ہی پوری وادی سرد ہوائوں کے لپیٹ میں آجا تی ہے مگر اصل ٹھنڈ تو دسمبر کے آغاز سے ہی شروع ہوکر فروری مہینے کے آخر تک رہتی ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ بستی پورے سَتر دنوں تک تین باپ بیٹوں یعنی چِلۂ کلان ،چِلہ خورد اور چِلہ بچہ کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔چِلۂ کلان کے چالیس دن ،چِلہ خورد کے بیس دن اور چِلہ بچہ کے دس دن یہاں کے لوگوں کو ناکوں چنے چبواکر اب انسان کی بو الہوسی اور دنیا پرستی نے سائبیریا سے نقل ِ وطن کرنے والے اس مختصر سے خاندان کے زور آور پہلوانوں کے کَس بَل نکال دیئے ہیںلیکن پھر بھی یہ کبھی کبھی بنا کچھ برسائے اور صرف ٹھنڈ ی آہیں بھر کے ہمارے خون کا رنگ تک بدل کر رکھ دیتے ہیں،جس کا ثبوت گذشتہ راتوں کی ذہنوں کو ماؤف کرنے والی وہ ٹھنڈ ہے، جس کے باعث بستی کے اکثر و بیشتر علاقوں سے اب نہ صرف پانی نایاب ہوچکا ہے بلکہ بجلی بھی اب پوری طرح عید کا چاند بن چکی ہے۔اس بات میں ذرہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں کہ دنیا بھر کی موسمی تبدیلی اب یہ بستی بھی محسوس کرنے لگی ہے ۔
حق بات تو یہ ہے کہ قدرت کے حُسن و جمال تہہ و بالا کرنے والا انسان ہی توہے ۔جنگلوں کی بے دریغ کٹائی کرکے ہم نے خوبصورت پہاڑوں کو مادر زاد ننگا بنادیا ۔ہم نے ہی بستی میں موجود پانی سے مالا مال جھیلوں کو مٹی اور کوڑے سے پاٹ کر اُن پر اپنے لئے رنگ محل ،شاندار ہوٹل اور اونچے اونچے شاپنگ کمپلیکس بناکر قدرت کے بے انتہا اور بے پناہ حُسن پر ڈاکہ بھی ڈالا ۔ایمانداری والی بات تو یہ ہے کہ ہوَس کا مارا انسان خود اپنا وجود مٹانے پر تُلا ہوا ہے۔قدرت کے کاموں میں دخل اندازی کرکے اُس نے نہ صرف اپنے لئے بلکہ آنے والی نسل کے لئے بھی فائدے سے زیادہ نقصان اور بربادی ہی محفوظ کرلی ہے،خیر۔۔۔! بات ہورہی ہے سردی کے بے تاج بادشاہ چلۂ کلان کی ،جس کی یہاں تقریباً ستَر اَسی برس پہلے اتنی دھاک تھی کہ بستی کے لوگ اُس کی چنگیزیت سے بچنے کے لئے حسب ِ حیثیت اشیائے خورد و نوش اور باقی ضروریات ِ زندگی تین مہینوں کے لئے ذخیرہ کیا کرتے تھے۔خزان کے شروع ہوتے ہی سبزیوں کو سُکھانے کا عام رواج تھا ،گھروں میں چونکہ چولہے جلائے جاتے تھے اس لئے لکڑی کے ساتھ ساتھ دریائوں سے جمع کیا ہوا ’’ہَکھ‘‘ اور سُکھایا ہوا گوبر ’’بوٹھ‘‘ بھی جلانے کے لئے استعمال میں لایا جاتا تھا ۔کڑاکے کی سردی کا مقابلہ کرنے کے لئے کانگڑی کی بھی اپنی ایک خاص اہمیت تھی جو آج تک جاری و ساری ہے۔صبح و شام گھروں میں چولہے جلا کرتے تھے ،اس طرح کانگڑی میں دوبار آگ ڈال کر کوئلوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں پڑتی ۔مکانوں کی اندرونی دیواروں پر مٹی کا موٹا پلاسٹر چڑھایا جاتا اور چونکہ قدرت نے مٹی کو سرد و گرم دونوں خصوصیات سے نوازاہے لہٰذا سردیوں میں اندر سے مکان قدرے گرم بھی رہتے تھے۔چلۂ کلان ۲۱؍ دسمبر سے شروع ہوکر پورے جنوری تک براجماں رہتا اور کبھی کبھی نومبر مہینے سے ہی وہ اپنی پہلوانی کے کرتب دکھانا شروع کردیتا ۔پوری وادی پر جب تک چھ سات فٹ موٹی برف کی چادر نہ بچھاتا برف باری تب تک تھمنے کا نام نہ لیتی۔دنوں تک انسان گھر سے باہر والے انسانوں کے چہرے دیکھنے کو ترستا ،پڑوسی تو صورت دیکھے بغیر صرف آواز سے ہی ایک دوسرے کی خیر و عافیت پوچھ لیا کرتے ،مکانوں کی چھتوں سے چونکہ برف گرانی پڑتی تھی لہٰذا عام سڑکوں پر برف کے پہاڑ بن جاتے جو مارچ اپریل تک پگھل جاتے ۔اب تو وہ والا چِلۂ کلان ایک خواب سا لگ رہا ہے ۔اُن دنوں نہ تو ذخیرہ اندوزی ہوتی اور نہ کوئی منافع خوری ۔اگر چہ بستی کے لوگ معاشی طور آج کے مقابلے کافی کمزور تھے لیکن دِلوں میں خدا ترسی کوٹ کوٹ کر بھری تھی،ملاوٹ کے لفظ سے ہی ناآشنا تھے۔آج جن سوکھی سبزیوں کو ہمارے لقمان صِفت ڈاکٹر صاحبان کینسر کا ایک سبب مانتے ہیں ،اُن کے آباو اجداد وہی سوکھی سبزیاں کھاکر اپنا پیٹ بھر لیا کرتے تھے اور بہت ساری بیماریوں سے آج سے کہیں زیادہ محفوظ بھی رہتے تھے۔
بہر حال۔ اللہ جانے چِلۂ کلان کو کس کی نظر لگ گئی کہ وہ پچھلے کئی برسوں سے گمنامی کی زندگی بسر کررہا ہے۔آج کے بیس سالہ نوجوان کے سامنے اگر کوئی لفظ چلہ ٔکلان بولتا ہے تو وہ اس طرح آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگتا جیسے بولنے والا کوئی تیسری دنیا کی مخلوق ہو۔گذشتہ برس راقم نے بھی اپنے ایک بزرگ دوست سے جب، اب والے چِلہ ٔ کلان کی ناتوانی کے متعلق پوچھا تو میرے اس نوے سالہ رفیق نے میرے ہاتھ میں کاغذ کی ایک پرچی تھماکر کہا:میں نے اپنی زندگی کے اَسی چلۂ کلان دیکھے ہیں اور مجھے بھی چِلہ کلان کی اس بے بسی پر دل میں افسوس ہورہا تھا کہ ایک رات خواب میں بذات ِ خود چِلۂ کلان نے میرے ہاتھ میں یہی کاغذ جو میں نے تمہیں سونپا ہے ،دے کر کہا :اے اس بستی کے معتبر غلام ! میرا یہ پیغام خود پڑھ کر یہاں کے بے حِس انسانوں تک بھی پہنچا دو تاکہ شائد غفلت کی نیند سے جاگ کر وہ اپنی آخرت بنانے میں جُٹ جائیں:
’’جنت نُما بستی کے غلامو!ابھی مابدولت چلۂ کلان اتنا کمزور نہیں ہوا ہے کہ تم میری فرمانبرداری کو میری ناتوانی اور لاچاری سے تعبیر کرنے لگو۔میں تمہاری طرح نہ تو نافرمان اور رو گردان ہوں اور نہ ہی احسان فراموش ۔میں تو بس اپنے مالک ِ حقیقی کے حُکم کا غلام ہوں،میں دیکھ رہا ہوں کہ تم دنیا کے لہوو لہب میں اس قدر کھو چکے ہو کہ تمہیں ساری لذتوں کو کاٹنے والی موت بھی اب یاد نہیں،تمہاری بالشت بھر پیٹ نے زندگی کی ساری وسعتیں گھیر لی ہیں ،طمع اور لالچ کی اونچی سی اونچی سطح بھی تمہاری تسلی کے لئے کا فی نہیں۔گہرائی سے دیکھتا ہوں کہ ہر طرف لاقانونیت ،اقرباء نوازی ،رشوت خوری ،ذخیرہ اندوزی اور بے راہ روی چھائی ہوئی ہے۔کالا بازاری نے پوری بستی کو بے حال کردیا ہے ،عام خوردونوش کی قیمتیں ٹائفائیڈ والے بُخار کی مانند روز بروز چڑھتی رہتی ہیں،تیس کلو والی کوئلے کی بوری سے پانچ کلو پتھر برآمد ہوتے ہیں اور شکایت کرنے پر یہ کہہ کر خاموش کیا جاتا ہے ،’’گوشت بھی تو اوجڑی کے بغیر نہیں ملتا ،کوئلے کی بوری سے پتھر نہ نکلیں گے تو کیا ہیرے جواہر نکلیں گے‘‘۔بستی کے بے زبانو! عبرت کا مقام ہے کہ ہر موڑاور ہر نُکڑ پر ملاوٹ سے ہی ملاقات ہوتی ہے،دوائوں میں ملاوٹ ،دعائوں میں ملاوٹ،عبادت میں ملاوٹ ،عیادت میں ملاوٹ،رشتوں میں ملاوٹ ،باتوں میں ملاوٹ ،ملاقاتوں میں ملاوٹ ،غرض اب پوری بستی ملاوٹ کی رنگین چادر اوڑھے غفلت کی گہری نیند میں مدہوش ہے۔سرکاری محکموں میں کوئی بھی کام رشوت دیئے بغیر اپنے انجام کو نہیں پہنچتا ،بستی کا موجودہ ’’سالار ِاعظم‘‘اپنے چاپلوسوں اور ہاں میں ہاں ملانے والوں کا عام دربار سجاکر ’لیہہ سے لار تک‘لمبے چوڑے وعدے تو کرتا ہے لیکن ہوتا وہی ہے جو اُس کے باہر والے ’بِگ باس‘چاہیں۔ہر طرف شیطان کے چیلے چانٹے انسانی صورت اختیار کرکے بستی کے بے بس اور مجبور لوگوں پر جورو ستم کے کوڑے برسانے اور اُن کی سوکھی سڑی چمڑی اُتارنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔بہر حال! کہنے کو ابھی بہت کچھ ہے مگر دیکھتا ہوں کہ آسمان میں بادل اکٹھے ہورہے ہیں اور ٹھنڈی ہوائیں بھی چلنے لگی ہیں، گویا کہ مجھے اب برسنے کا حُکم مل گیا ہے اس لئے باقی باتیں برف گرنے کے بعد ہوں گی ،تب تک اجازت چاہتا ہوں‘‘۔۔۔۔آپ کا خیر خواہ ۔چلۂ کلان