محمد عرفات وانی
اردو ادب میں افسانہ محض ایک بیانیہ صنف نہیں بلکہ انسانی شعور، معاشرتی سچائیوں اور نفسیاتی پیچیدگیوں کا ایسا آئینہ ہے جس میں فرد اور سماج دونوں اپنی حقیقی صورت کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اردو افسانہ نگاری کی روایت ہمیشہ ایسے تخلیق کاروں کے ذریعے آگے بڑھی ہے جنہوں نے محض تخیل پر انحصار کرنے کے بجائے زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو اپنی تحریروں کا سرمایہ بنایا۔ اسی روایت میں ڈاکٹر محمد شفیع ایاز کا افسانوی مجموعہ پگڈنڈی کا مسافر ایک اہم اور قابل توجہ اضافہ ہے جو زندگی کی مرکزی شاہراہوں کے بجائے ان گمنام پگڈنڈیوں پر چلنے والوں کی کہانی بیان کرتا ہے جہاں درد خاموش ہے مگر گہرا اور حقیقت سادہ ہے مگر بے حد اثر انگیز۔
ڈاکٹر ایاز کا افسانوی مجموعہ’’ پگڈنڈی کا مسافر‘‘ اردو ادب کے افق پر ایک ایسی ٹھوس تخلیق ہے جو محض تخیل پر نہیں بلکہ گہرے مشاہدے کی بنیادوں پر استوار ہے۔ کتاب کے ابتدائی صفحات اور پیش لفظ سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ مصنف کے نزدیک ادب محض تفریح یا وقت گزاری کا ذریعہ نہیں بلکہ سماج کے ان محروم اور مظلوم طبقات کی آواز ہے جنہیں دنیا سننے سے قاصر رہتی ہے۔ مصنف خود اعتراف کرتے ہیں کہ یہ ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے جو پانچ سالہ تخلیقی ریاض اور فکری محنت کا ثمر ہے۔ ان کے بقول اس کتاب کا مقصد ان خاموش آنسوؤں کو زبان دینا ہے جو معاشرتی بے حسی اور ناانصافی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ صفحہ نمبر 6 پر وہ اس خیال کا اظہار کرتے ہیں کہ انسانیت کا اصل جوہر دوسروں کے درد کو محسوس کرنے میں پوشیدہ ہے اور یہی درد ان کی تحریروں کی روح بن کر ابھرتا ہے۔
’’پگڈنڈی کا مسافر‘‘ دراصل ایک علامتی عنوان ہے، پگڈنڈی عام شاہراہ نہیں ہوتی بلکہ وہ راستہ ہے جس پر اکثر وہ لوگ چلتے ہیں جو زندگی کے مشکل، تنہا اور کم دکھائی دینے والے سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ عنوان مصنف کے فکری رجحان اور سماجی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔ مصنف ڈاکٹر محمد شفیع ایاز کی یہ کتاب 2011 میں شائع ہوئی ہے۔
کتاب کے مندرجات اور موضوعات کی وسعت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ مصنف نے زندگی کے ہر موڑ اور ہر پگڈنڈی پر بکھرے کرداروں کا تعاقب کیا ہے۔ فہرست مضامین میں شامل تمام 34 عنوانات جن میں چھالے، شناختی پریڈ، پگڈنڈی کا مسافر، انگلش میڈیم، ڈکن، وکیل صاحب، حنا، بھیا، ڈگری، کلاس فیلو، اب اور نہیں، بھکارن، الف خان، آرزو، وفا، بھوت، رامو، اکیلا، سوز و گداز، نیلامی، خیرات، رانگ نمبر، باعثِ دام، کشکول، جذبات، نجومی، طلاق، خط، عورت، زینت، آسمانی حور، دیوان خانہ، عبل چور اور رسمِ وفا شامل ہیں، ایک مکمل معاشرتی نقشہ پیش کرتے ہیں۔ یہ عنوانات محض نام نہیں بلکہ وہ سماجی ناسور اور انسانی رویے ہیں جنہیں مصنف نے اپنی جراحت قلم سے بے نقاب کیا ہے۔ بالخصوص انگلش میڈیم، ڈگری اور طلاق جیسے موضوعات براہ راست ہمارے تعلیمی اور عائلی نظام کے تضادات پر ضرب لگاتے نظر آتے ہیں۔اس مجموعے کی سب سے طاقتور دلیل اس کا انتساب ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ افسانے فرضی داستانیں نہیں بلکہ جیتی جاگتی سچائیاں ہیں۔ مصنف نے یہ کتاب ان گمنام کرداروں کے نام کی ہے جن کی زندگی کی حقیقت ان کے اپنے سینے میں امانت ہے۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ڈاکٹر شفیع ایاز نے سماج کے کچلے ہوئے طبقے کے ساتھ وقت گزارا ہے اور ان کے دکھوں کو اس حد تک قریب سے دیکھا ہے کہ اب وہ ان کے وکیل بن کر سامنے آئے ہیں۔
معروف ادیب ویریندر پٹواری کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر محمد شفیع ایاز زندگی کی پگڈنڈی کے ایسے مسافر ہیں جو محض بھیڑ کا حصہ نہیں بنتے بلکہ انسانی کرداروں کے باطن میں جھانک کر ایسی دلچسپ کہانیاں تخلیق کرتے ہیں کہ قاری خود کو اس سفر میں شامل محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ ایاز صاحب کو ایک روایت پسند اور خوبصورت تحریروں کا قائل تخلیق کار مانتے ہیں جن کا یہ افسانوی مجموعہ اردو ادب کی دنیا میں ایک لائق تحسین اضافہ ہے۔ پٹواری صاحب کے مطابق ان کی تحریریں نہ صرف فن پارہ ہیں بلکہ وہ افسانوی دنیا میں ایک نئی اور مثبت جہت متعارف کرواتے ہیں۔
کتاب کے افسانوں کا مطالعہ انسان کی نفسیات، معاشرتی رویوں اور اخلاقی تضادات کی عکاسی کرتا ہے۔ افسانہ ’چھالے‘ انسانی خود غرضی اور بے حسی کو اُجاگر کرتا ہے جہاں کردار کی محنت اور وفاداری کے باوجود اسے دھوکہ ملتا ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ سماج میں انصاف ہمیشہ یقینی نہیں ہوتا۔ ’شناختی پریڈ‘ فطرت کے حسن اور انسانی جبر کے تضاد کو دکھاتا ہے اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ مظلوم ہمیشہ محفوظ نہیں رہتے۔ ’پگڈنڈی کا مسافر‘ مظلومیت اور طاقتور طبقے کی بے رحمی کی کہانی ہے جس میں مرکزی کردار کی موت معاشرتی ناانصافی کی دلیل کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ افسانہ ’انگلش میڈیم‘ سماجی حیثیت اور تعلیم کے تضاد کو واضح کرتا ہے اور دکھاتا ہے کہ مادی مظاہر اور اصلی قابلیت میں فرق ہوتا ہے۔ ’ڈکسن‘ انسانی سادگی اور خاموش عظمت کی تصویر پیش کرتا ہے جس میں محبت اور قربانی کے عملی ثبوت نظر آتے ہیں۔ افسانہ ’وکیل صاحب‘ انسانی انا اور سماجی رتبے کے اثرات کو اجاگر کرتا ہے جہاں مکافاتِ عمل واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ’حنا‘ بے وفائی اور انسانی فطرت کی تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے اور قاری کو اخلاقی سوالات پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ افسانہ ’بھیا‘رشتوں کی حرمت اور مضبوط تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جہاں وقتی جذبات کے مقابلے میں رشتوں کی پائیداری کو ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔کتاب کے دیگر افسانے معاشرتی دھوکہ، انسانی اخلاقیات اور تعلیمی تضادات کی عکاسی کرتے ہیں۔ افسانہ ’ڈگری‘ تعلیمی بدعنوانی اور رشوت ستانی کے اثرات پر روشنی ڈالتا ہے جو یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ محنت ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ ’کلاس فیلو‘ دوستی اور سماجی طبقات کے تضاد کی حقیقت کو بیان کرتا ہے جبکہ ’اب اور نہیں‘ انسانی سادگی اور معاشرتی منافقت کے تضاد کو واضح کرتا ہے۔ افسانہ ’بھکارن‘ ہوس، حرص اور وفاداری کے اثرات کی تصویر پیش کرتا ہے جو اخلاقی سبق کے طور پر کام آتا ہے۔ ’الف خان‘ خدمت خلق اور انسانی نظر اندازگی کے ثبوت فراہم کرتا ہے جبکہ ’آرزو‘ ایثار اور اخلاقی پاکیزگی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ افسانہ ’وفا‘ معاشرتی دوغلے پن اور رشتوں میں چھپی بے وفائی کے ثبوت پیش کرتا ہے اور ’بھوٹ‘ انسانی عقل اور مافوق الفطرت تجربات کے درمیان کشمکش کو دلچسپ اور مؤثر انداز میں دکھاتا ہے۔کتاب میں انسانی مشکلات، سیاسی استحصال اور سماجی تضادات بھی نمایاں ہیں۔ افسانہ ’رامو‘ غریب محنت کشوں کی سادگی اور طاقتور طبقے کے استحصال کی واضح دلیل پیش کرتا ہے جبکہ ’اکیلا‘ انسانی تنہائی اور نفسیاتی پیچیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ افسانہ ’سوز و گداز‘ فنکار اور فن کی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے اور حقیقی شاعری کے پیچھے زندگی کے تلخ تجربات کی دلیل فراہم کرتا ہے۔ ’نیلامی‘ انسانی مجبوری اور بینکاری نظام کی بے حسی کو بے نقاب کرتا ہے جبکہ ’خیرات‘ انسانی سادگی اور سماجی دھوکہ کی دلیل پیش کرتا ہے۔ افسانہ ’رونگ نمبر‘ غیر متوقع اتفاقات اور رشتوں کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے اور ’باعث دوام‘ سماجی دباؤ اور دکھاوے کی ثقافت کے اثرات پر روشنی ڈالتا ہے۔ افسانہ ’کشکول‘ اقتصادی تنگدستی اور سماجی بے حسی کی دلیل پیش کرتا ہے جبکہ ’جذبات‘ مذہبی اور معاشرتی تضادات کے اثرات کو انسانی رشتوں پر اجاگر کرتا ہے۔
کتاب کے افسانے انسانی تقدیر، محبت، اخلاقی قدر اور معاشرتی رویوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ افسانہ ’نجومی‘ محنت اور قسمت کے تضاد کو واضح کرتا ہے اور مکافاتِ عمل کے فلسفے کو عملی ثبوت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ ’طلاق‘ والدین کی فکر اور انسانی تقدیر کی تلخ حقیقت کو دکھاتا ہے جبکہ ’خط‘ محبت اور پچھتاوے کی شدت کے ثبوت فراہم کرتا ہے۔ افسانہ ’عورت‘ عورت کے وجود اور معاشرتی رویوں کا فلسفیانہ مطالعہ پیش کرتا ہے اور ’زینت ‘انسانی جذبات کی ناپائیداری اور رشتوں کی پیچیدگی کی دلیل پیش کرتا ہے۔ افسانہ ’آسمانی حور‘ اخلاقی پاکیزگی اور کردار کی بلندی کو اجاگر کرتی ہے اور ’دیوان خانہ‘ دیہی زندگی میں انسانی ہمدردی اور وقت کے بدلتے ہوئے تلخ حقائق کی دلیل پیش کرتا ہے۔ افسانہ ’عبیل چور‘ صبر اور قناعت کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے اور آخر میں ’رسم وفا‘ ادھوری خواہشات اور رشتوں کے بدلتے معیار کی تلخ حقیقت واضح طور پر قاری کے سامنے رکھتا ہے۔
مجموعی طور پر پگڈنڈی کا مسافر اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ اردو افسانہ آج بھی معاشرتی حقیقتوں اور انسانی نفسیات کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر محمد شفیع ایاز نے اس مجموعے میں ایسے کردار تخلیق کیے ہیں جو قاری کو محض کہانی سنانے کے بجائے اسے اپنے ضمیر کے سامنے کھڑا کر دیتے ہیں۔ ان افسانوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ قاری کو سوچنے، رکنے اور خود سے سوال کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔یہ مجموعہ اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ جب افسانہ نگار مشاہدے، دیانت اور انسانی ہمدردی کے ساتھ قلم اٹھاتا ہے تو اس کی تحریر محض ادب نہیں رہتی بلکہ سماج کی ایک زندہ دستاویز بن جاتی ہے۔ اس سنجیدہ، فکری اور تخلیقی ادبی کاوش پر میں ڈاکٹر محمد شفیع ایاز کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ وہ اسی فکری دیانت، مشاہدے کی گہرائی اور تخلیقی شعور کے ساتھ اردو ادب کو مزید وقیع اور بامعنی تخلیقات سے نوازتے رہیںگے۔
رابطہ۔9622881110