عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//مرکزی حکومت نے وکست بھارت گارنٹی برائے روزگار و آجیویکا مشن (دیہی) کے تحت مالی سال 2026-27کے لیے جموں و کشمیر کو 1152 کروڑ روپے کی سالانہ گرانٹ منظور کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی موجودہ مالی سال کی دوسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے لیے 384 کروڑ روپے کی پہلی قسط (مدر سینکشن) جاری کر دی گئی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ رقم نئی اسکیم کے نفاذ کے لیے جاری کی گئی ہے، جو یکم جولائی 2026 سے جموں و کشمیر کے تمام نوٹیفائیڈ دیہی علاقوں میں نافذ ہو چکی ہے۔مرکزی وزیر برائے دیہی ترقی شیو راج سنگھ چوہان نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے دیہی ترقی کے ساتھ جائزہ اجلاس کے دوران ملک بھر کے لیے مجموعی طور پر 25,863 کروڑ روپے کی پہلی قسط جاری کی۔اجلاس میں جموں و کشمیر کے وزیر برائے دیہی ترقی جاوید احمد ڈارمحکمہ دیہی ترقی کے سیکریٹری محمد اعجاز اسداور ایڈیشنل سیکریٹری وسیم راجانے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شرکت کی۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ وکست بھارت گارنٹی برائے روزگار و آجیویکا مشن اسکیم کو یکم جولائی 2026 سے پورے ملک میں بغیر کسی رکاوٹ کے نافذ کیا گیا ہے اور اس دوران کسی قسم کی تکنیکی یا انتظامی دشواری سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایم جی نریگا کو ملک بھر میں نافذ ہونے میں تقریباً تین سال لگے تھے، وہیں نئی اسکیم ایک ہی دن میں پورے ملک میں نافذ کر دی گئی، جو حکومت کی انتظامی صلاحیت کا مظہر ہے۔قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے گزشتہ ماہ اس اسکیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ یہ اسکیم ایم جی نریگاکی جگہ لے چکی ہے اور جموں و کشمیر میں اس وقت تقریباً 13.5 لاکھ دیہی روزگار گارنٹی کارڈ ہولڈرز اس سے مستفید ہوں گے۔ چوہان نے بتایا کہ نئی اسکیم کے تحت مزدوری کی شرح میں اوسطاً 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور اب ملک کی کسی بھی ریاست میں یومیہ مزدوری 300 روپے سے کم نہیں ہوگی۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ بھی اپنی حصہ داری بروقت جاری کریں تاکہ مستحق مزدوروں کو 15 دن کے اندر اجرت کی ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اسکیم کے لیے فنڈز کی کسی قسم کی کمی نہیں آنے دے گی اور گرام سبھاؤں و پنچایتوں کو مقامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ دیہی ترقی میں عوامی شرکت کو فروغ ملے۔