فیاض بخاری
بارہمولہ //شمالی کشمیر میں زیادہ منافع بخش زرعی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ایک اہم پیش رفت کے تحت ضلع بارہمولہ کے بونیار کے علاقے ترکانجن میں لیونڈر (Lavender)کی باقاعدہ کاشت شروع کر دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف علاقے میں زرعی تنوع کو فروغ دے گا بلکہ مقامی کسانوں کیلئے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔16 کنال اراضی پر قائم اس فارم کو لیونڈر کی نمونہ جاتی اور تجارتی کاشت کے مرکز کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ خوشبودار اور طبی خصوصیات کے حامل اس پودے کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر اسے مستقبل کی ایک منافع بخش فصل قرار دیا جا رہا ہے۔منصوبے کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر شرن سنگھ نے بتایا کہ لیونڈر کے پودوں کی افزائش انتہائی حوصلہ افزا رہی ہے اور رواں سیزن میں اچھی پیداوار کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال فصل سے ضروری تیل نکالنے کا منصوبہ بھی ہے، جس کی دواسازی، کاسمیٹکس اور عطر سازی کی صنعتوں میں بے حد مانگ ہے۔ڈاکٹر شرن سنگھ کے مطابق اس فارم میں لیونڈر کے ساتھ تقریبا دس اقسام کے طبی پودے بھی کاشت کیے جا رہے ہیں، جس سے یہ مرکز خوشبودار اور طبی پودوں کی تحقیق اور فروغ کا ایک اہم مقام بنتا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ لیونڈر ایک دائمی (Perennial) فصل ہے، جسے ہر سال دوبارہ لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک مرتبہ پودا تیار ہونے کے بعد یہ کئی برسوں تک ہر سال پھول اور پیداوار دیتا رہتا ہے، جس سے کسانوں کے اخراجات کم اور منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے وادی کے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ روایتی فصلوں کے ساتھ لیونڈر کی کاشت کو بھی اختیار کریں تاکہ بہتر معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق اس فصل کی دیکھ بھال نسبتا آسان ہے جبکہ اس سے حاصل ہونے والا ضروری تیل کسانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔زرعی ماہرین کا ماننا ہے کہ بونیار میں لیونڈر کی کامیاب کاشت کشمیر میں فصلوں کے تنوع کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ اس سے نہ صرف دھان، مکئی اور باغبانی پر انحصار کم ہوگا بلکہ خوشبودار اور طبی پودوں کی صنعت کو بھی نئی رفتار ملے گی۔ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ پائیدار زراعت، دیہی معیشت کی مضبوطی اور شمالی کشمیر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی سمت ایک امید افزا قدم ہے، جو مستقبل میں کسانوں کے لیے معاشی خوشحالی کی نئی راہیں ہموار کر سکتا ہے۔