وزیر کی سربراہی میں وفد پنجاب بھیجنے کا فیصلہ
بلال فرقانی
سرینگر//پنجاب میں کشمیر آنے والی بھیڑ بکریوں سے لدی گاڑیوں پر مبینہ غیر قانونی ٹیکس وصولی کے خلاف جاری ہڑتال کے خاتمے اور مٹن سپلائی کی بحالی کے صرف ایک روز بعد ہی گاڑیوں کو دوبارہ روکنے اور فی گاڑی 10 ہزار روپے وصول کرنے کے الزامات سامنے آنے پر معاملہ ایک بار پھر سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرس ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے سیکریٹری معراج الدین گنائی کی قیادت میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کر کے انہیں تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ملاقات کے بعد کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ کو پنجاب کے حالیہ دورے، وہاں پیش آئے معاملات، پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات اور اس کے باوجود کشمیر آنے والی بھیڑ بکریوں سے لدی گاڑیوں کو دوبارہ روکے جانے کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پہلے ہی اس معاملے سے پوری طرح واقف ہیں اور وہ اس حوالے سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو مکتوب بھی ارسال کر چکے ہیں۔ ڈار کے مطابق وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شہری رسدات، خوراک و امور صارفین کے وزیر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد فوری طور پر پنجاب روانہ کیا جائے گا، جو پنجاب حکومت کے ساتھ اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھا کر مستقل حل تلاش کرے گا۔ ڈار نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے اس صورتحال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا کہ معاملے کو ہرگز سرسری انداز میں نہیں لیا جائے گا، کیونکہ اس وقت وادی کشمیر میں شادیوں کا سیزن جاری ہے اور مٹن کی بلا تعطل سپلائی عوامی ضرورت بن چکی ہے۔کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے الزام لگایا کہ گزشتہ روز بھی کشمیر آنے والی بھیڑ بکریوں سے لدی متعدد گاڑیوں کو پنجاب میں روکا گیا اور ہر گاڑی سے 10 ہزار روپے وصول کیے گئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ متعلقہ حکام حکومتی احکامات کو سنجیدگی سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔