گلوبل پیس آرگنائزیشن کے زیراہتمام ’مذہبی بھائی چارہ ۔وقت کی اہم ضرورت‘سمینارمیں مقررین کااظہارخیال
جموں//گاندھی جینتی کے موقعہ پریہاں ابھینوتھیٹرجموں میںگلوبل پیس آرگنائزیشن کے زیراہتمام’’مذہبی بھائی چارہ۔وقت کی اہم ضرورت‘موضوع کے تحت منعقدہ یک روزہ سیمینارکاانعقادکیاگیاجس میں نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر دویندرسنگھ رانا مہمان خصوصی تھے جبکہ ڈاکٹررویدہ سلام (آئی آرایس )اسسٹنٹ کمشنرانکم ٹیکس جموں مہمان ذی وقارتھیں۔اس موقعہ پرخیالات کااظہارکرتے ہوئے دویندرسنگھ رانانے کہاکہ معاشرے کیلئے نفرت سم قاتل ہے جس کی نمایاں بابائے قوم مہاتماگاندھی کاقتل ہے کیونکہ وہ انہیں بھی نفرت نے قتل کیاتھا۔ہندوستان کی بنیاد یہاں پرمختلف مذاہب،ذاتوں ،قبیلوں،رنگوں کی’Diversity‘ یعنی تنوع پرمشتمل سماج میں آپس میں مل جل کررہنے پرہے۔انہوں نے کہاکہ مہاتماگاندھی کوبہترین خراج عقیدت یہ ہوسکتاہے کہ ہمیں وہ کوئی اوردن نہ دیکھناپڑے جب مذہب،ذات ،برادری ،علاقے کے نام پرایک اوربٹوارہ ہو،لائن کھینچ جائے ۔انہوں نے کہاکہ آزادی ہندوستان کے بعدجب دوریاں کم ہورہی تھیں،دنیامیں حالات بدل رہے تھے،دیواریںٹوٹیں،گلوبل ولیج کی بات ہورہی تھیں۔کمیونی کیشن کے ذرائع عام ہوئے توایسے میں کچھ ناعاقبت اندیشوں نے نفرت کے بیج بونے کاسلسلہ شروع کردیااورپھرسے ماحول ماضی کی طرف لوٹنے لگااورسماج میں رہ رہے مختلف مذاہب کے لوگوں میں دوریاں پیداہونے لگیں۔ انہوں نے کہاکہ ہرشخص سماج میں خامیاں ڈھونڈلیتاہے اوریہ کہتاہے کہ معاشرے کے سدھارکیلئے میں کیاکرسکتاہوں ۔انہوں نے کہاکہ معاشرے کے سدھارکیلئے اگرہرایک شخص صرف یہ کرلے کہ وہ اپنے دھرم کی عزت کرتے ہوئے دوسرے مذاہب کابھی احترام کرے ۔اپنے دھرم کے اصولوں کواپنائے اوردوسروں کے مذہب میں مداخلت نہ کرے۔انہوں نے کہاکہ معاشرے میں بگاڑکاسبب وہ لوگ بنتے ہیں جن کی نیت میں کھوٹ ہوتاہے۔انہوں نے کہاکہ اگرنیت میں کھوٹ ہوتووہ مندروں میںجتنی مرضی گھنٹیاں بجالے، مسجدوں میں جتنی مرضی اذانیں دے ،گورودواروں یاچرچوں میں حاضری دے ۔رب کواگرپاناہے توانسان کواپنے اندرجھانکناچاہیئے اوراچھی نیت کے ساتھ اپنی سماجی ذمہ داریاں نبھاناچاہیئے۔انہوں نے کہاکہ ہندوازم میں لکھاہے کہ کرم کرو،پھل کی امیدنہ کرو،اسلام میں لکھاہے نیکی کردریامیں ڈال ۔انسان کومعاشرے کے تئیں اپنارول اداکرناچاہیئے ،باقی حالات کوبہترکرنااللہ /بھگوان کے ہاتھ میں ہے۔رانانے کہاکہ انسانیت سب سے بڑامذہب ہے۔نیت صاف ہے،انسانیت بنیادہوتوبھگوان مل جائے گا۔میں میں کرنے سے کچھ نہیں ہوگا،ہم مٹی سے بنے ہیں،مٹی کے پتلے ہیں۔مٹی میں ہی جاناہیتوپھرمیں میں کیوں ہے۔اگریہ یادرہے توہم بہترانسان بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہاں پرکسی نے کہاکہ مذہب کوسیاست سے الگ نہیں رکھاجاسکتاہے جوکہ بالکل سچ بات ہے۔ سیاست اورمذہب کوالگ رکھاہی نہیں جاسکتاہے لیکن کچھ لوگ اپنے مفادکیلئے مذہب کاغلط جب استعمال کرتے ہیں تواس سے منفی تبدیلی معاشرے میں پیداہوتی ہے اورمذہب کے نام پردوریاں پیداہوتی ہیں۔دویندرسنگھ رانانے کہاکہ اگرہمیںدُنیاکوبہتردنیابناناہے تو سیاست دانوں کواس معاشرے سے دوررکھناچاہیئے ۔انہوں نے کہاکہ سیاستدان معاشرے کیلئے سب سے بڑی بیماری ہیں ۔انسان انسان سے نہیں لڑتا، مذہب مذہب سے نہیں لڑتا،سیاست ایک مذہب کے لوگوں کودوسرے مذہب کے لوگوں سے لڑواتی ہے۔میں کسی ایک جماعت کیلئے نہیں کہہ رہا،سب جماعتوں کے لیڈرایک جیسے ہیں۔جس کوجہاں موقعہ ملتاہے تووہ اپنی روٹیاں سینکتاہے ۔سیاستدانوں پربرستے ہوئے دویندررانانے کہاکہ یہ سیاستدانوں نے جوچولے پہنے ہوتے ہیں ،یہ جعلی چولھے ہوتے ہیں۔مہاتماگاندھی کے جنم دن پرکھادی کاکوٹ پہن لیتے ہیں، کسی اورموقعے پرٹائی پہن لیتے ہیں اورٹی وی پربات کرنی ہوتوخاص قسم کاکوٹ واسکٹ ڈال لیتے ہیں ۔کچھ لوگ کہتے ہیں بھگوان خطرے میں ہے اورکچھ کہتے ہیں اسلام خطرے ہیں اورکبھی سکھ کہتے ہیں سکھ ازم خطرے میں ہے۔یہ تمام مذاہب کے مفادخصوصی رکھنے والے سیاستدان کہتے ہیں کیونکہ جب ان کی ٹانگیں کانپتی ہیں توانہیں اسلام ،سکھ ازم اور بھگوان رام خطرے میں نظرآتاہے ۔انہوں نے کہاکہ بھگوان رام کیسے خطرے میں آسکتاہے ؟۔انہوں نے کہاکہ ڈوگری میں کہاوت ہے کہ بے نوارے۔ان ہی بے نوارے سیاستدانوں کو بھگوان رام ،اسلام اورسکھ ازم خطرے میں دکھائی دیتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ایڈوکیٹ شیخ شکیل نے ایک سوال اٹھایاکہ ڈگردیس ویسانہیں رہاجیسے پہلے تھا۔یہ بجاسوال ہے ۔یہ ہم سب ڈگرواسیوں کی ذمہ داری ہے کہ جموں کے ہیری ٹیج کوبچایاجائے ۔اس جموں نے اللہ رکھاجیسے طلبہ ساز،پنڈت شیوکمارشرما، ملکہ پکھراج جیسی شخصیتوں کوپیداکیا۔انہوں نے کہاکہ ہم سب انسان کوایک اچھاانسان اورانسانیت کامجسمہ بننے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ میںہندوبھائیوں سے کہوں گاکہ ہندوازم میں نفرت کی کوئی جگہ ہی نہیںہے۔یہ مذہب اک فلاسفی ہے۔ایک ہندونفرت کیسے کرسکتاہے۔اگرکوئی ہندونفرت کرتاہے تواس کامطلب ہے کہ وہ ہندومذہب سے ہی واقف نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں کشمیرایک گلدستہ ہیجہاں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ہم سب کوآپسی بھائی چارے کوبرقراررکھنے کیلئے مشترکہ رول اداکرناچاہیئے۔انہوں نے کہاکہ مہاتماگاندھی کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ہم سب کوجمہوریت کومضبوط کرنے کے سلسلے میں آئین میں درج شہری کی ذمہ داریوں کونبھاناچاہیئے تاکہ بہترین سماج بن سکے۔انہوں نے کہاکہ گلوبل پیس فائونڈیشن کے منتظم شیخ الطاف مبارکبادکے مستحق ہیں جنھوں نے اہمیت کے حامل موضوع پرسیمینارکاانعقادکیا۔اس سے پہلے ایڈوکیٹ شیخ شکیل احمدنے کہاکہ جموں مذہب کی بنیادپربٹ چکاہے ،رسانہ کیس اس کی مثال ہے ۔رسانہ کیس میں خاص طبقے اورلائق مائنڈڈلوگوں نے ہی بچی کے لیے انصاف کی مانگ کی ۔انہوں نے کہاکہ مجھ پچاس سال کی عمرمیں جاکرپتہ چلاہے کہ میرانام شیخ شکیل ہے۔مجھے مسلم لباس پہننے پرنفرت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ جموں سے آپسی بھائی چارہ تیزی کے ساتھ مفقودہوتاجارہاہے۔قبل ازیں ڈاکٹررویدہ سلام(آئی آرایس)،ڈاکٹررفیق جرال تحصیلدارنارتھ جموں،ایڈوکیٹ شیخ شکیل ،اے ڈی سی سانبہ ارون منہاس ودیگرمقررین نے سماج میں بھائی چارے کی اہمیت اورگاندھی جی کے اصولوں پرخیالات کااظہارکیا۔اس سے قبل گلوبل پیس آرگنائزیشن نے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کامظاہرہ کرنے والے افرادمیں انعامات بھی تقسیم کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی۔اس موقعہ پر عبدالغنی ملک ،ڈاکٹرچمن لال بھگت،،انل دھر،کشمیراسنگھ،شیخ بشیراحمداورچوہدری ہارون بھی موجودتھے۔