ڈاکٹر فلک فیروز
میں جہلم ایک دریا کے نام سے مشہور ہوں، جس کا کام ہے پیاسوں کی پیاس بجھانا ،میں اپنی گود کو پھاڑ کر چاک کر پانی کو بہاتا جاتا ہوں، میری ہستی سے لوگ، ان کی زندگی، ان کا رہن سہن قائم ہے۔ ان کے گھر تک میں پہنچ جاتا ہوں، ان کے کھیت کھلیانوں کو میں سیراب کرتا ہوں، میری زندگی میں بہت سارے موڑ آتے ہیں، میں کشمیر کی بستی کے بیچ و بیچ نکل جاتا ہوں ۔ اس کے علاوہ میری متعدد حیثیتیں موجود ہیں، اگر چہ میں جہلم محض ایک دریا کے نام سے ہی مشہور ہوں مگر اس کے علاوہ میں یہاں کی ہر شے سے واقف ہوں، ہر فرد کے سوز و ساز ،درد و داغ، جستجو آرزو، دُکھ، غم، پریشانی، خوشی، بہار آشوب ِزمانہ رسم و رواج سے واقف ہوں۔میں جہلم ہوں ،یہاں کی صدیوں سے آگہی رکھتا ہوں، اس آگہی نے مجھے رازدان بنا دیا ہے، حالات کا واقعات کا، حادثات کا، خیالات کا ،تجربات کا ،احساسات کا، تہذیب و تمدن کام دن اور رات کی سرگوشیوں کا، شمس و قمر کے آپسی کھیل کا ،صبح و شاموں کی خوبصورت حسین لمحوں کا، گویا میں شریک سفر ہوں یہاں کے ذرہ ذرہ اور چپے چپے کا ،یہاں کا کوئی بھی فرد مجھ سے کچھ نہیں چھپا سکتا۔ میں جہلم ہوں ۔میرا منبع کوہ ہمالیہ کے پیر پنچال کے دامن سے ہوتا ہوا چشمہ ویری ناگ سے شروع ہو جاتا ہے۔ جھیل ڈل سے پانی لیتا ہوا میں سری نگر کشمیر انڈیا کے بیچ سے نکل جاتا ہوں ۔اس دوران میں سندھ کو بھی اپنے اندر ملا لیتا ہوں، پھر میرا سفر مشہور جھیل ولر سے ہوتا ہوا مظفر آباد میں دو میل کے مقام پر دریائے نیلم میں شامل ہو جاتا ہوں ۔لیکن یہاں پر بھی میرا انفراد ،میری حیثیت ،میری پہچان، میرا تقدس قائم رہتا ہے اور نیلم کے ساتھ سنگم ہونے کے باوجود بھی میرا ہی نام جہلم مقبول رہتا ہے۔ میں تریبون بیراج کے مقام پر دریائے جناب سے مل جاتا ہوں، اس کے بعد میرا پانی سلطان پور منگلا ڈیم میں روکا جاتا ہے ،تاکہ آبپاشی کے لیے استعمال کیا جا سکوں اور یہاں سے میرے ہی باطن سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ میں جہلم ہوں، جس کے کنارے پر تاریخ کے مشہور بادشاہ سکندر اعظم اور راجہ پورس کی مشہور تاریخ کی لڑائی ہوئی ہے، جس کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ اس سے تاریخی طور پر بیٹل آف ہایڈسپس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نہایت بہادری سے مقابلہ کرنے کے باوجود بھی راجہ پورس کو شکست ملی ،لیکن سکندر اعظم کی بادشاہانہ وجاہت نے اپنی لیاقت کا استعمال کرتے ہوئے راجہ پورس کو اپنی سلطنت واپس کر دی اس عمل نے مجھے نہایت شادمان کیا۔
میں جہلم صدیوں سے ظلم کا شکار رہا ہوں، کبھی تنگ پہاڑیوں سے گزر جاتا ہوں، کبھی وسیع میدانی علاقوں سے میرا گزر ہو جاتا ہے، کبھی سیاسی فائدوں کی مانند میری رفتار روک دی جاتی ہے تو کبھی مختلف ماہدوں کی نظر ہو کر میں فائلوں کی زینت بن جاتا ہوں، لیکن اس کے باوجود بھی میں نے کبھی عام لوگوں کو پریشان نہیں کیا ہے کیونکہ میں دریا ہوں ،اپنا ہنر مجھ کو معلوم ہے، مجھ کو اپنی حیثیت کا علم ہے ۔ میں جہلم صدیوں سے تماشہ بین ،کیا کیا تماشے نہ ہوئے جن کو میں نے نہ دیکھا ہو ،بہت سارے پل ایسے ہیں جو میری پیٹھ پر بنے ہیں، میرا سینہ چیرتے ہوئے اس پر عبور و مرور کا اعتبار ہے، لوگ میرے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اِنہی پلوں سے سفر کرتے ہیں، کبھی پیدل اور کبھی شاندار گاڑیوں میں ،کبھی کشتیوں سے کبھی تیرتے ہوئے اور اس طرح سے میں لوگوں کو راستہ فراہم کرتا ہوں، چاہے پانی سے ،چاہے پلوں سے، چاہے کشتیوں سے، بہت سے مشہور پل جلائے بھی گئے اور بہت سے پل تاریخی حیثیت رکھتے ہیں، جن میں جہلم ریلوے برج وکٹوریا پل، زیرو برج امیرا کدل، بڈ شاہ برج، ملورہ برج، شادی پور کدل، سمبل کدل، حاجن کدل ،بارہمولہ کدل، سوپور پل قابل ذکر ہیں۔
میں جہلم ہوں، صدیوں سے تماشہ بین، کیا کیا تماشے میں بتاؤں آپ کو کہ چاند کی مدہم روشنی میں ،آفتاب کی تیز کرنوں میں، پہاڑ کے کوہ و دامن میں، گھر کی چار دیواری میں، بازاروں کی گہم گہمی میں، سنسان راہوں میں، رات کی خوفناک تاریکیوں میں، کن کن جوانوں، بوڑھوں ،عورتوں، لڑکیوں، لڑکوں ،نوجوانوں کی زندگیاں تلف ہو کر رہ گئی میری گود میں چھلانگیں مارنے کی وجہ سے، کسی نے سماجی دباؤ سماجی بندشیوں سے تنگ آ کر خودکشی کر لی، کسی کی خود کشی کی وجہ اس کے گھریلو حالات تھے ،کسی بندہ خدا کی موت خودکشی سے ہی خالق نے لکھی تھی، کسی کو بلا وجہ دشمنوں نے قتل کر کے الف ننگا میری گود میں پھینک دیا، ان حالات کو دیکھ کر میں بھی آبدیدہ ہو گیا ہوں ۔
میں جہلم ہوں صدیوں سے تماشہ بین، ان لوگوں کا گواہ جو اپنی چھوٹی چھوٹی کشتیاں میرے اندر رکھ کر اپنا گھر سنبھالتے ہیں، اپنی بیوی بچوں کو کبھی پیٹ بھر کر کھانا کھلاتے ہیں اور کبھی انہیں بھوکا سلاتے ہیں، ان کشتیوں کے اندر کتنے خواب ،کتنے ارمان، کتنی تمنائیں آہوں اور سسکیوں کے درمیان دم توڑ دیتی ہے۔ میں جہلم ہوں صدیوں سے تماشہ بین ان عالی شان ہاؤس بوٹوں کی تاریخ کا، تعمیر کا ،میسر عیش و آرام کا،ان کی عالی شان بیٹھکوں کا، کمروں کا دالانوں کا، ان کے اندر روز و شب بسر کرنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کا، جوڑے اور بے جوڑ رشتوں کا، سیاحوں کے ان حالات سے بھی میں واقف ہو جاتا ہوں، جن سے وہ اپنے اپنے علاقوں ریاست و ملکوں میں جوجھتے رہتے ہیں، اپنے علاقے سے متعلق ان کے خیالات سے بھی میں جانکاری حاصل کرتا ہوں ،یہاں پر ملنے والی گرم جوشی سرد مہری، دھوکہ بازی ،چال بازی، سیاسی حالات سے متعلق ان کے خیالات سے علم حاصل کرتا ہوں ان سیاحوں کی سماجی زندگی ازدواجی خاندانی نظام اور اقتصادی حالات سے بھی میں باخبر ہوتا ہوں۔
میں جہلم ہوں صدیوں سے تماشہ بین۔ آئیے، آپ کو بتاتا ہوں میری گود میں پلنے والی مچھلیاں کیسی لذیذ ہوتی ہے، ان کی لطافت کا مزہ چکھتے ہوئے نوش کرنے والے اپنی انگلیاں چاٹتے رہ جاتے ہیں۔ مچھوارے میری گود کا کونہ کونہ کھنگال لیتے ہیں تاکہ مچھلیاں پکڑ کر ان سے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کر سکے۔ میں جہلم ہوں جس کے کنارے اب کمزور ہو چکے ہیں، نوجوان اپنی روزی روٹی حاصل کرنے کی بابت میری گود سے ریت نکال کر بازار وں میں فروخت کرتے ہیں اور اس طرح سے میں گھروں کی تعمیر میں اپنا بنیادی کردار ادا کرتا ہوں۔ لیکن جوان اب میرے کناروں کو غیر قانونی ،غیر انسانی رویے کی حد تک کھودتے رہتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ صاف ریت کو حاصل کر کے بہترین آمدنی حاصل کی جا سکے، جس کی وجہ سے میرے کنارے اب کمزور پڑ رہے ہیں ۔ذرا رُک کر غور کریں ،اگر میرے دائیں بائیں کے کنارے کمزور پڑ گئے تو کناروں پر آباد بستیوں کا کیا حشر ہوگا؟(کالم جاری ہے )
رابطہ۔8825001337