حال و احوال
ساحل جہانگیر میر،سرینگر
آج کے تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں موبائل فون ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ رابطے، تعلیم، تفریح اور سوشل نیٹ ورکنگ سے لے کر روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں اسمارٹ فونز کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ جہاں بڑے لوگ فون کو کام اور سہولت کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہیں بچے بھی بہت کم عمری میں موبائل فونز کے عادی بنتے جا رہے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی وابستگی نے والدین، اساتذہ، ماہرینِ نفسیات اور پورے معاشرے کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ بچپن جو کبھی کھیل کود، کہانیوں، دوستیوں اور خاندانی میل جول سے بھرا ہوتا تھا، آہستہ آہستہ ورچوئل دنیا، آن لائن ویڈیوز اور مسلسل اسکرولنگ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
ایک وقت تھا جب بچے شام کے وقت میدانوں میں دوڑتے، سائیکل چلاتے، پتنگیں اُڑاتے اور کرکٹ، فٹبال، چھپن چھپائی اور دوسرے روایتی کھیل کھیلتے تھے۔ گلیاں بچوں کی ہنسی سے گونجتی تھیں اور پارک زندگی سے بھرے ہوتے تھے۔ بچے تھکے ہوئے مگر خوش ہو کر گھروں کو لوٹتے تھے، اُن کے ہاتھوں میں موبائل فون نہیں بلکہ خوبصورت یادیں ہوتی تھیں۔ خاندان ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے، دادا دادی اور نانا نانی کہانیاں سناتے تھے، اور دوستیاں سوشل میڈیا کے بجائے آمنے سامنے بنائی جاتی تھیں۔ وہ پرانا بچپن شاید ٹیکنالوجی سے خالی تھا، مگر انسانی تعلق، تخلیقی صلاحیت اور جذباتی وابستگی سے مالا مال تھا۔
آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔ بہت سے بچے صحیح طرح پڑھنا سیکھنے سے پہلے ہی اسمارٹ فون استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ والدین اکثر بچوں کو خاموش رکھنے یا مصروف رکھنے کے لیے فون اُن کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ تعلیمی ایپس، کارٹونز، آن لائن گیمز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے موبائل فون کو بچوں کے لیے بے حد پرکشش بنا دیا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نقصان دہ نہیں، مگر اس کا حد سے زیادہ اور بے قابو استعمال بچوں کی جسمانی، ذہنی، سماجی اور جذباتی زندگی پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
موبائل فونز کے سب سے نمایاں اثرات میں بچوں کی جسمانی سرگرمیوں میں کمی شامل ہے۔ باہر کھیلنے کے بجائے اب بہت سے بچے گھنٹوں گھروں میں بیٹھ کر اسکرینوں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ غیر متحرک طرزِ زندگی موٹاپے، جسمانی کمزوری، آنکھوں کی تھکن، سر درد اور نیند کے مسائل کا سبب بن رہی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اسکرین کا حد سے زیادہ استعمال بچوں کی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ موبائل فون کی نیلی روشنی نیند کے نظام کو متاثر کرتی ہے، خاص طور پر جب بچے رات گئے تک فون استعمال کرتے رہتے ہیں۔ مناسب نیند نہ ملنے سے توجہ، یادداشت اور تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
ذہنی صحت بھی ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ بہت سے بچے موبائل فون کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ فون دور ہونے پر بے چینی، غصہ یا اضطراب محسوس کرتے ہیں۔ آن لائن گیمز اور سوشل میڈیا ایپس اس طرح بنائی جاتی ہیں کہ صارف زیادہ دیر تک اُن میں مصروف رہے، جس کی وجہ سے بچوں کے لیے فون سے دور رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً اُن کی توجہ کمزور پڑ جاتی ہے اور وہ تعلیم یا حقیقی زندگی کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ کم عمری میں ذہنی دباؤ، تنہائی اور ڈپریشن جیسے مسائل میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سوشل میڈیا نے بچوں اور نوجوانوں پر ایک اور قسم کا دباؤ پیدا کر دیا ہے۔ ان پلیٹ فارمز پر خوبصورت تصاویر، پرتعیش طرزِ زندگی اور غیر حقیقی معیار مسلسل دکھائے جاتے ہیں، جس سے بچے خود کو دوسروں سے کم تر سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کا دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں اور احساسِ کمتری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سائبر بُلیئنگ بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ آن لائن تضحیک، منفی تبصرے اور ہراسانی بچوں کے اعتماد اور جذباتی صحت پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
تعلیم کے میدان میں بھی موبائل فونز کے مثبت اور منفی دونوں اثرات سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف اسمارٹ فونز نے آن لائن کلاسز، تعلیمی ویڈیوز، ڈیجیٹل لائبریریوں اور مختلف تعلیمی وسائل تک رسائی آسان بنائی ہے۔ کورونا وبا کے دوران موبائل فون طلبہ کے لیے تعلیم جاری رکھنے کا اہم ذریعہ بن گئے تھے۔ لیکن دوسری جانب پڑھائی کے دوران فون کا غلط استعمال بھی عام ہو چکا ہے۔ بہت سے طلبہ گیمز، سوشل میڈیا اور تفریحی ایپس میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ اُن کی توجہ تعلیم سے ہٹ جاتی ہے۔
موبائل فونز نے خاندانی تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔ پہلے بچے والدین اور بزرگوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے، اُن سے اقدار، روایات اور زندگی کے اصول سیکھتے تھے۔ آج اکثر خاندان ایک ہی جگہ بیٹھا ہوتا ہے مگر ہر فرد اپنی اسکرین میں گم رہتا ہے۔ گفتگو کم ہو گئی ہے اور جذباتی قربت میں کمی آ رہی ہے۔ جو بچے زیادہ وقت آن لائن گزارتے ہیں، اُنہیں خاندان کے افراد کے ساتھ کھل کر بات کرنے اور مضبوط سماجی تعلقات قائم کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
پرانی نسل آج بھی اپنے بچپن کو سادگی اور حقیقی خوشیوں کا زمانہ یاد کرتی ہے۔ بچے معمولی چیزوں سے کھیل بناتے تھے، فطرت کے قریب رہتے تھے، درختوں پر چڑھتے تھے اور بغیر انٹرنیٹ کے گہری دوستیاں قائم کرتے تھے۔ تہوار اور تعطیلات خاندان کے ساتھ مل کر منائی جاتی تھیں۔ یہاں تک کہ فارغ وقت بھی تخلیقی صلاحیت کو جنم دیتا تھا کیونکہ بچے اپنی تفریح کے لیے خود سرگرمیاں ایجاد کرتے تھے۔ اس کے برعکس آج کے بہت سے بچے فوری تفریح کے لیے صرف موبائل فون پر انحصار کرتے ہیں، جس سے اُن کی تخلیقی سوچ محدود ہوتی جا رہی ہے۔تاہم صرف ٹیکنالوجی کو قصوروار ٹھہرانا مسئلے کا حل نہیں۔ موبائل فون ایک طاقتور ذریعہ ہے اور اگر اسے سمجھداری سے استعمال کیا جائے تو یہ بے شمار فوائد بھی فراہم کرتا ہے۔ بچے نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں، تعلیمی مواد حاصل کر سکتے ہیں، دور رہنے والے رشتہ داروں سے رابطہ رکھ سکتے ہیں اور دنیا کے بارے میں آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ حد سے زیادہ اور بغیر نگرانی کے استعمال کا ہے۔ والدین، اسکول اور معاشرہ سب اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ بچوں کو متوازن ڈیجیٹل عادات سکھائی جائیں۔
والدین اس حوالے سے سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فون مکمل طور پر چھیننے کے بجائے اس کے استعمال کے لیے مناسب حدود مقرر کرنی چاہئیں۔ بچوں کو کھیل کود، مطالعہ، مشاغل اور خاندانی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ضروری ہے۔ والدین کو خود بھی مثال بننا ہوگا اور بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزارنا ہوگا۔ کھلی گفتگو کا ماحول پیدا کرنا چاہیے تاکہ بچے اپنے آن لائن تجربات اور مسائل کے بارے میں والدین سے بات کر سکیں۔
اسکول بھی بچوں میں ڈیجیٹل آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اساتذہ کو طلبہ میں تخلیقی صلاحیت، جسمانی سرگرمیوں اور اجتماعی کام کو فروغ دینا چاہیے تاکہ بچوں کی اسکرینوں پر انحصار کم ہو۔ سائبر سیکیورٹی، آن لائن حفاظت اور ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی پروگرامز بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ سوشل میڈیا اور گیمز میں بچوں کے لیے محفوظ نظام متعارف کروائے جائیں اور والدین کو آگاہی فراہم کی جائے۔ کمیونٹیز کو ایسے محفوظ کھیل کے میدان، اسپورٹس پروگرامز اور ثقافتی سرگرمیاں فراہم کرنی چاہئیں جو بچوں کو باہر کی دنیا کی طرف راغب کریں۔بچوں میں موبائل فون کی لت صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں بلکہ بدلتے ہوئے معاشرتی طرزِ زندگی کی عکاسی بھی ہے۔ مصروف زندگی اور کام کے دباؤ کے باعث والدین اکثر بچوں کو وقت نہیں دے پاتے، جس کے نتیجے میں موبائل فون بچوں کے لیے ایک متبادل ساتھی بن جاتا ہے۔ مگر کوئی بھی ڈیجیٹل آلہ انسانی محبت، تعلق اور مشترکہ خوشیوں کی جگہ نہیں لے سکتا۔
پرانے وقتوں کی بچپن کی یادیں ہمیں اُس دور کی یاد دلاتی ہیں جب خوشی کھلے آسمان تلے کھیلنے، دوستوں کے ساتھ کھانے بانٹنے، رات کو کہانیاں سننے اور بغیر نوٹیفکیشن کے ہنسنے میں ملتی تھی۔ وہ یادیں آج بھی ہمارے لیے سبق رکھتی ہیں۔ بچوں کو حقیقی دنیا میں جینے، دوستیاں بنانے، غلطیوں سے سیکھنے اور اسکرین سے باہر زندگی کا تجربہ کرنے کی آزادی درکار ہے۔آنے والی نسل ایک ایسی دنیا میں پروان چڑھے گی جہاں ٹیکنالوجی ہر جگہ موجود ہوگی۔ موبائل فونز سے مکمل طور پر دور رہنا نہ ممکن ہے اور نہ ضروری۔ اصل ضرورت بچوں کو توازن، نظم و ضبط اور ذمہ دارانہ استعمال سکھانے کی ہے۔ موبائل فون کو تعلیم اور رابطے کا ذریعہ رہنا چاہیے، نہ کہ بچپن کا متبادل۔
اگر خاندان، اسکول اور معاشرہ مل کر کام کریں تو بچے جدید ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کرتے ہوئے بھی اُس معصوم، تخلیقی اور جذباتی بچپن سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں جو کبھی پرانی نسل کی سب سے قیمتی یاد ہوا کرتا تھا۔
(مضمون نگارماحولیاتی محقق، کہانی کار اور کالم نگارہیں)
رابطہ۔9086707465