جموں//جموں توی کے کنارے آبادبیلی چرانہ کی ڈوڈہ اورگوجربکروال بستیوںکے لوگوں نے کٹھوعہ رسانہ گائوں کی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو دخترمحمدیوسف ساکن رسانہ کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کامطالبہ کیا۔اس دوران مظاہرین نے آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ بانوکے ساتھ پیش آئے دل سوز اور وحشیانہ واقعہ کوانسانیت کے منہ پرطمانچے سے تعبیرکیا۔اس دوران مظاہرے میںنزاکت کھٹانہ،واجدکھٹانہ، رفاقت اعجازودیگران نے الزام لگایاکہ پولیس اورسول انتظامیہ نے بچی کوتلاش کرنے اوربعدمیں معاملہ کی ایف آئی آردرج کرنے میں بھی غفلت کامظاہرہ کیا ۔انہوں نے کہاکہ جہاں پاکستان کے قصورشہرمیں سات سالہ زینب کواغواکراوراس کاریپ کرکے قتل کرکے گندگی کے ڈھیرمیں پھینک دیاتھا،اسی طرز پرکٹھوعہ میں بھی بربریت کامظاہرہ کرتے ہوئے آٹھ سالہ بچی آصفہ بانوکااغواکرکے اس کوقتل کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ اس واقعہ کے ذمہ دارانسانیت کے دشمنوں کوسرعام پھانسی دی جانی چاہیئے۔ انہوں نے پرزورمانگ کی کہ وقت مقررہ کے اندراس واقعے کے ذمہ داردرندہ صف افرادکومنظرعام پرلایاجائے اورانہیں عبرت ناک سزادی جائے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے اگردرندہ صف افرادکیخلاف کارروائی نہ کی توانسانیت دشمن عناصرکے حوصلے بلندہوں گے۔مظاہرین نے مزیدکہاکہ ایک طرف حکومت بیٹی بچائو۔بیٹی پڑھائوکانعرہ لگاتی ہے اوردوسری طرف ایک لاپتہ بچی کوتلاش کرنے میں پولیس غفلت کامظاہرہ کرتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ پولیس تھانے کے ایس ایچ اوکے خلاف قتل کامقدمہ درج کرنے کی مانگ کی ۔قابل ذکرہے کہ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرا نگر میں گذشتہ ہفتے ایک آٹھ سالہ کمسن بچی آصیفہ بانوجووالدین کی اکلوتی اولادتھی کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیاجس کی لاش بدھ کے روز دھمال کوٹاموڑگائوںکے نزدیک جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی جس کے بعدمتاثرہ کنبہ کوانصاف دینے کیلئے احتجاجی مظاہروں کاسلسلہ شروع ہواتھا۔