کئی حضرات کے مضامین اور بیانات پڑھ سن کر بڑا تاسف ہوتاہے جب وہ اپنے مؤقف یا نقطہ نظر کو پیش کرنے میں اعتدال قائم نہ رکھنے کی وجہ سے عام قارئین کو تذبذب میں مبتلا کرتے ہیں۔ قارئین ان حضرات کے مضامین پڑھ کر کوئی خاص رخ پانے،نتائج اخذ کرنے اور ایک خاص نقطہ نظر پیدا کرنے کے برعکس نہ جانے کن کن وادیوں میں خود کو بھٹکتے ہوئے محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ حضرات ایک طرف تو مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اسلاف کی قدردانی کا مزاحیہ انداز بھی اپناتے ہیں اور ساتھ ساتھ اسٹیج پہ آکے اپنے مشاہیر کو کلی طور پر نظرانداز کرتے ہیں۔ان حضرات کو کانٹ، نشطے، برنارڈ شاہ وغیرہ کو نقل کرنے میں فخر محسوس ہوتا ہے لیکن اپنے مشاہیر کا نام لینا بھی ان کے لئے شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔ان حضرات کی یکطرفہ نگارشات اور تقاریر میں اکثر و بیشتر احساسِ پستی کے الفاظ کا ڈھیر لگ جاتا ہے پھر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ کے اس وزنی ڈھیر تلے قارئین کی احساسِ کمتری کو نکالنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ان حضرات کی اس منفی سوچ کا مرکز و محور ملت کی تاریخی نااہلی، نالائقی، پسماندگی اور حماقت جیسے الفاظ کے عنوانات ہوتے ہیں۔اس کے برعکس یہ اہل قلم وزبان مغرب کی محنت و مشقت اور عزم و حوصلگی کے معترف ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی اقدار کے بڑے پرجوش داعی و حامی بھی ہوتے ہیں۔ٹھیک ہے اگر مغرب کے امتیازی کارناموں پر بات کی جائے اور صریح تحقیقی نقطہ نظر سے جائزہ لینے کے بعد ملت کے موجودہ کارناموں کے ساتھ موازنہ کرکے فرق و تفاوت کو پیش کرنے اور پس چہ باید کرد کا جرأت مندانہ کام انجام دیا جائے تو یہ کارِ خیر ان حضرات کے لئے امید ہے صدقہ جاریہ کے طور پر ان کے نامہ اعمال میں درج کیا جائے گا۔وگرنہ مغرب پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کے بجائے ان کی فتوحات کے قصائد لکھنے اور پڑھنے سے یہ حضرات اپنی شخصیات کو ہمیشہ کے لئے امت مسلمہ میں متنازعہ بنا کے رکھتی ہیں۔
مغرب آج جن مادی خطوط پر تیر کے اِترا رہا ہے ان کا موجد بالتحقیق مسلمانوں کا ہونا ایک ایسا سچ ہے جس کا کڑوا گھونٹ مغرب کے لئے ناقابل ِ برداشت ہے۔اس کی وجہ ایک تو مغرب کا تعصب اور دوسری وجہ ان کا زعم ہے جس سے مسحور ہوکر مغرب حال پہ فوقیت تو حاصل کرنا ہی چاہتا ہے لیکن ماضی کو بھی وہ اپنے نام کرنے کی کوششوں میں منہمک ہے۔یہ ایک المیہ ہے کہ لبرل اور نام نہاد دانشور محنت و مشقت، تحقیق و تدقیق ،غور وفکر اور غیرت و حمیت سے محروم ہو کر ہر چیز کو مغرب کے ساتھ جوڑنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ان کی مرعوبیت اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ انہیں جو بھی کوئی نئی چیز نظر آتی ہے وہ اس کا مخرج و منتہا مغرب کو مانتے ہیں۔ان کے ہاں جدت و ندرت اور یورپ و امریکہ میں چولی دامن کا ساتھ ہے ،ترقی وترفع کا حقدار صرف مغرب ہے اور علم و دانش کا مرکز صرف واشنگٹن اورلندن ہیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مغرب ایسے بے شمار بھیانک مسائل سے دوچار ہے جن کو دنیا سے چھپانے کے لئے جھوٹ کا ایک بڑا تالا لگایا گیا ہے۔ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ مغرب سائنس اور ٹیکنولوجی کا نہایت قدردان ہے لیکن اپنی ملت کے ستاروں کو نظر انداز کرکے مغرب کا علمی سارق ہونا انہیں نظر نہیں آتا۔ مغرب نے تو ابن سینا، البیرونی، ابن الہیثم وغیرہ کو انگریزی میں نام دے کر انہیں یورپین کے طور پر پیش کرنے کی جسارت کی تھی لیکن یہ تو مسلمانوں کے پاس واضح اور ٹھوس تاریخی روایات کا احسان ہے کہ مغرب کو منھ کی کھانی پڑی۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ملت کا ستارہ یورپ کی اس علمی چوری پر تحقیق کرنے لگ جائے تو ایک زخیم کتاب مرتب ہو سکتی ہے۔عام طور پر اس موضوع پر جو حضرات بھی لکھتے ہیں وہ مسلمان سائنسدانوں کی رفعت و بلندی کا ذکر صرف پندرھویں یا سولہویں صدی تک کرتے ہیں اور اس کے بعد کا دور تو نگاہوں سے بالکل اوجھل رکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ پانچ سو سال کا عرصہ مسلمانوں کا تاریک دور تھا۔ اب اسے کیا کہا جائے اگر ہم اپنے مشاہیر کے کارناموں کو قبول نہ کریں، ان کے علمی ورثہ کے قدردان نہ بنیں،اپنی ماضی اور حال کی نابغہ شخصیات کی ذہانت و فطانت کا اعتراف نہ کریں، اپنے مؤرخین، مصنفین،مؤلفین اور محققین کی تخلیقات کو معیارات واسانید کے طور پر قبول نہ کریں۔ یہی تو وجہ ہے کہ ہم احساسِ کمتری کا شکار ہوکر ہر قدیم یا جدید چیز کو مغرب سے وابسطہ سمجھتے ہیں۔اسی لاعلمی اور ناقدرشناسی کی وجہ سے مغرب نے ہر موضوعِ تحقیق کو اپنے نام کیا۔سائنس کے جتنے علمی شعبہ جات ہیں مغرب ان تمام میں اپنا نام نمایاں کئے ہوئے ہے۔ان کی اس بالادستی کو پختہ کرنے میں ہماری لاعلمی اور ناقدری نے انہیں نہایت ٹھوس بنیاد فراہم کی ہے۔اگر ہم نے اپنے مشاہیر کے علمی کارناموں کو دریافت کیا ہوتا اور ان پہ تحقیق کرکے ان پر نظر ثانی کی ہوتی تو ہمارا معاملہ بالکلیہ مختلف ہوتا۔ہماری جدید مذہبی تاریخ میں جس طرح سیمرحوم ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے مغرب کی دانشگاہوں میں بیٹھ کر تحقیق کا کام کیا اور مغربی دنیا کو مسلمان مشاہیر کے کارناموں سے واقف کیا وہ ایک مثال ہے۔سائنس کے میدان میں اگرچہ دور جدید میں کئی مسلم سائنسدان عالمی سطح پر اعلیٰ تحقیق کر رہے ہیں لیکن ایک تو ہماری بے اعتنائی اور مغرب کی دانستہ مستور رکھنے کی پالیسی انہیں حد امکان منظر نامے سے غائب رکھے ہوئی ہے۔اس ضمن میں علامہ عنایت اللہ مشرقی کی مثال ملاحضہ فرمائیں جن کے غیر معمولی کارنامے آج بھی ورطہ حیرت میں ڈالتے ہیں۔عالم اسلام کے پہلے مسلم سائنس دان جنہوں نے 1952 میں دنیا کے بیس ہزار سائنسدانوں کو ’’انسانی مسئلہ‘‘ کے عنوان سے خط لکھ کر دنیاوی ترقی کو بے جان مشینوں کے چنگل سے نکال کر کائنات کو مسخر کرنے، انسانی زندگی اور اس کی روح کو کنٹرول کرنے اور دیگر کروں میں زندگی کی موجودگی کے آثار کے راز از روئے قرآن افشاں کر دیے۔پہلا مسلم ریاضی دان جس کو نوبل انعام کے لئے نامزد کیا گیا تھا۔کیا ہمارا پڑھا لکھا طبقہ عالمِ اسلام کے اس سپوت سے واقف ہے ؟ مولانا مودودی نے سماجیات اور سیاسیات میں تحریری سطح پر جو انقلابی و علمی مواد فراہم کیا وہ تو مغرب سے آنے والے قوی الحادی فلسفوں کا ایک زبردست توڑ ہے لیکن بدقسمتی سے ان کو صرف ایک عالم دین سمجھ کر نظر انداز کیا گیا۔فلسفہ کے میدان میں ڈکٹر رفیع الدین کی آئیڈیالوجی آف فیوچر تو لاجواب تصنیف ہے جس کا ذکر کرنا اور مسلم ممالک میں فلسفہ کے نصاب میں داخل کرنا افادیت سے خالی نہیں۔ ہمارے سو کالڈ پڑھے لکھے حضرات کو آئنسٹین، لیوٹالسٹء، کیٹس، مارکس، وغیرہ یاد ضرور ہیں لیکن مذکورہ بالا کے علاوہ بے شمار مسلم مشاہیر کا نام لینے کے لئے گونگے بن جاتے ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ ہی یہی ہے کہ ہم خود اپنے دستیاب شدہ علمی مواد کو دیکھنے کی زحمت نہیں اٹھاتے۔ہمارا یقین مغرب پر اتنا مضبوط ہے کہ ان کے ہی اہل علم تحقیق کے مستحق ہیں اور ان کی ہی تحقیق ریفرنس کے قابل ہے۔ہمارا معاملہ اس ریسرچ کے حوالے سے نہایت پھیکا ہے کہ ہم سرسری تحقیق تو کر لیتے ہیں لیکن گہری تحقیق سے کوسوں دور ہیں۔میرا یہ ماننا ہے کہ اپنے دستیاب شدہ سائنسی علمی ذخائر پر تحقیق کا اقدام کر لینا چاہئے تاکہ مغرب کے علمی رعب سے پیدا ہونے والے احساسِ کمتری کو کم کیا جا سکے۔ہمارے پاس سائنس کے میدان میں بے شمار ایسے نام آج بھی موجود ہیں جو مغرب میں تحقیق و تخلیق میں ریکارڈ قائم کر رہے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ان کا تعارف ہمیں حاصل نہیں اور نہ ہی ان کو مقبول العام بنانے کی کوشش ہمارے لکھاری اور جرنالیسٹ حضرات کی طرف سے ہوتی ہے۔حال ہی میں اس حوالے سے معروف عالم دین اور تجزیہ نگار ڈاکٹر ملک نے تقریباً 60 مسلم سائنسدانوں کی فہرست تیار کرکے ان حضرات کی زبانوں کو بند کرایا جو مکرر مسلمان مشاہیر کو نظر انداز کرکے مغربی مشاہیر کو پروموٹ کر رہے ہیں۔ان کے مطابق تقریباً 150مسلم سائنسدانوں کے نام وہ جانتے ہیں جو آج سائنس کے میدان میں اعلیٰ تحقیق کر رہے ہیں۔
(مضمون جاری ہے ۔ایک نئے پہلو کیساتھ اگلی قسط انشاء اللہ اگلے ہفتے شائع کی جائے گی)
ای میل۔[email protected]