اکیسویں صدی میں جو تنقید نگار سامنے آئے ہیں ان میں نظریۂ فن اور عمومی تناظر کے لحاظ سے ڈاکٹر مشتاق احمد وانی بھی اہم حیثیت کے مالک ہیں۔ تنقید کی کئی کتابیں منظرعام پر لاکر تجربے اور حسی ادراک سے انہوں نے فکشن اور شاعری کا جس طرح جائزہ لیا ہے اس کے نقوش متوجہ کرتے ہیں۔ کوئی بھی قلم کار زمان و مکان کے تعیّنات کو اپنے احاطہ تحریر میں لاتا ہے اور مختلف پیرایہ میں بیان کرتا ہے جس میں زمانی و مکانی پیکر کی آمیزش شامل ہوتی ہے۔مشتاق احمد وانی کی پیش نظر کتاب ’’تنقیدی فکر و فن ‘‘ میں جو مضامین شامل کیے گئے ہیں ان میں صنفی اعتبار سے حقائق و واقعات اور افراد و اشخاص کے ذہنی کارناموں کو بنیاد بنا کر موضوعی آئینہ عطا کیا گیا ہے جن کے انعکاس سے فاضل مصنف نے شعور کی بصارت کو حیطہ تحریر میں لانے کی کامیاب کوشش بھی کی ہے۔انہوں نے جہاں ہم عصرو ں کو متحرک پایا ہے وہیں ماقبل کے مصنفوں کو روشنی میں لاکر حرکت وکثرت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ مشتاق احمد وانی منطقی اصول کی حیثیت سے اپنی تنقیدی تحریروں میں ارتقائی منزل طے کرکے ظہور پذیر اثرات کے مرکبات تیار کرتے ہیں اور اسی میں ان کی کامیابی پوشیدہ ہوتی ہے جو فن کار کی اصل صورت کے حسن و جمال اور خیر وکمال کا سرچشمہ بنتی ہے۔
ڈاکٹر موصوف کی اب تک تیرہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں نیز چھ کتابیں زیر ترتیب ہیں۔ مطبوعہ کتابوں میں افسانوں کے پانچ مجموعوں کے علاوہ دیگر کتابوں کا تعلق تحقیق و تنقید سے ہے ۔ وہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں شعبۂ اردو سے وابستہ ہیں۔ پیشِ نظر کتاب میں کل ۱۳؍ مضامین ہیں جن میں سے ۲؍ مضامین ’’پرویز شہر یار : تخلیقی بیانیہ کا رمز شناس ‘‘ اور ’’مجیب شہزر : صداقت و لطافت کی نشان دہی کرنے والا شاعر ‘‘ کے علاوہ دیگر ۱۱؍ مضامین کا تعلق صوبۂ جموں و کشمیر (بشمول سابق خطۂ لداخ) کے ادب اور ادبا سے ہے۔ اس طرح اس کتاب سے اس کوہستانی خطے میں اردو ادب کی سمت و رفتار کا بڑی حد تک اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ میں اپنی گفتگو ان جموں و کشمیری مضامین تک ہی محدود رکھتے ہوئے صاحبِ کتاب کی نگارشات کا جائزہ لوں گا۔
مجموعے کا پہلا ہی مضمون بعنوان ’’پروفیسر قدوس جاوید کا مضمون : قابلِ داد و تحسین ‘‘ ایک سلگتے ہوئی اور تکلیف دہ حقیقت پر مبنی ہے ۔ اس مضمون میں دراصل پروفیسر قدوس جاوید کے اُس مقالے کا جائزہ لیا گیا ہے جس کا عنوان ’’اردو دنیا کا المیہ : جرِ ثقیل کے قتیل‘‘ ہے جو سری نگر سے شائع ہونے والے روزنامہ ’’کشمیر عظمی ‘‘ کے شمارہ ۱۲؍مئی ۲۰۱۶ء میں شائع ہوا ہے اور جس میں پروفیسر صاحب نے ہندوستان کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے شعبہ ہائے اردو میں اساتذہ کی بحالی کے غیرشفاف ، مایوس کن اور ناانصافی پر مبنی طریقہ کار پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ ماضیِ قریب میں ملک بھر کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو اساتذہ کی تقرری کے سلسلے سے کئی حلقوں میں ناراضگی اور بے چینی پائی گئی ہے اور مختلف گوشوں سے اس کے خلاف صدائے احتجاج بھی بلند کیا گیا ہے ۔ کئی تقرریوں کو عدالتوں میں چیلنج بھی کیا جاچکا ہے ۔ عام طور پر کالجوں اور یونیورسٹیوں کے دیگر شعبوں کی طرح اردو میں بھی صرف انٹرویو کے ذریعہ ان امیدواروں کو بحال کیا جاتا ہے جو نیٹ یا پی ایچ ڈی کی اسناد کے حامل بھی ہوتے ہیں ۔ کئی ریاستوں میں کالجوں میں اساتذہ کے خالی عہدوں پر بحالی کے لیے ریاستی حکومت کے بحالی کمیشن اس ذمہ داری کو ادا کرتے ہیں جب کہ یونیورسٹیاں چوں کہ خود مختار حیثیت کی حامل ہوتی ہیں اس لیے ان میں بحالیاں بھی راست ہوتی ہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں خارجی اور داخلی سبجیکٹ ایکسپرٹس انٹرویو پینل میں شامل ہوتے ہیں۔ قدوس جاوید نے اکسپرٹ پینل کی تشکیل پر ہی سوالات کھڑے کیے ہیں ۔ ان کے مطابق دھاندلی کا سلسلہ اسی مرحلے سے شروع ہوجاتا ہے ۔ پروفیسر قدوس جاوید کے انکشافات سے اتفاق کرتے ہوئے ڈاکٹر مشتاق احمد وانی نے بھی اپنے مضمون میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے اربابِ حل و عقد کو چند تجاویز کے ذریعہ درخواست کی ہے ۔ پہلی تجویز انھوں نے یہ پیش کی ہے کہ انٹرویو کے لیے سبجیکٹ ایکسپرٹس کے پینل کی تشکیل کمیشنوں اور یونیورسٹیوں کی بجائے یونیورسٹی کے چانسلروں (جو کہ عام طور پر ریاست کا گورنر ہوتا ہے ۔) کے ذریعہ رازداری برتتے ہوئے کی جائے ۔ علاوہ ازیں انٹرویو سے قبل آئی اے ایس سطح کے مقابلہ جاتی امتحان بھی لیے جائیں۔
اپنے دوسرے مضمون ’’جموں و کشمیر میں اردو تنقید ‘‘ (اکیسویں صدی کے حوالے سے ) میں صاحبِ کتاب نے تفصیل سے اس کوہستانی ریاست میں اردو تنقیدکی رفتار کا جائزہ لیا ہے۔ ڈاکٹر وانی نے اس مضمون میں ۲۰۱۶ء تک شائع ہونے والی تنقیدی کتابوں کے حوالے سے اپنی رائے قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ پندرہ سولہ برسوں میں یہاں تنقید کے کسی مخصوص رجحان کا اندازہ لگانا بے حد دشوار کام ہے تاہم موصوف نے ریاست سے تعلق رکھنے والے بطورِ خاص پانچ نقادوں پروفیسر حامدی کاشمیری ، پروفیسر ظہور الدین ، محمد یوسف ٹینگ ، غلام نبی خیال اور پروفیسر قدوس جاوید کی تنقیدی کاوشوں کو حیطۂ تحریر میں لاتے ہوئے ان کی تنقیدی کاوشوں کو قارئین کے سامنے لایا ہے۔ ہرچند کہ کم و بیش ۱۲؍صفحا ت پر مشتمل یہ مضمون کسی بھی ریاست کے تنقیدی کاموں کا جائزہ لینے کے لیے کچھ تشنہ سا محسوس ہوتا ہے تاہم مضمون کے سطورِ ذیل میں ڈاکٹر وانی کی یہ رائے اس خیال کو دور کرتی ہے :’’جہاں تک ریاست جموں و کشمیر میں اردو تنقید کی پیش رفت کا تعلق ہے ، اس حوالے سے یہاں پہلے کے مقابلے اردو تنقید کی موجودہ صورت حال بہت حد تک غیر تسلی بخش ہے۔ ‘‘ (ص: ۱۵)
اور آگے چل کر اس کا سبب وہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں :’’… جموں و کشمیر میں عہدِ گزشتہ کے مقابلے میں عہدِ حاضر میں تنقید اس طرح فروغ نہیں پارہی ہے ، جس طرح دہلی ، لکھنؤ ، رام پور ، بہار ، کلکتہ اور ہندوستان کے دوسرے شہروں میں اچھے ناقدین بین الاقوامی سطح پر اپنا ایک خاص مقام و مرتبہ اور شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ مصلحت پسندی اور تعلقاتی معاملات نے ادب کی اس اہم صنف کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ‘‘ (ص: ۲۲-۲۳)
کتاب میں شامل ایک بہت ہی اہم مضمون ’’جموں و کشمیر کا معاصر اردو ناول ‘‘ ہے جس میں فاضل مضمون نگار نے اس ریاست میں اردو ناول نگاری کی مختصر روایت کو بطورِ تمہید پیش کرتے ہوئے معاصر (بقیدِ حیات) قلم کاروں کے ناولوں کا عمدہ تجزیہ کیا ہے ۔ ان قلم کاروں میں نور شاہ جیسے بزرگ فکشن رائٹر سے لے کر آنند لہر، ترنم ریاض اور دیپک کنول جیسے معتبر قلم کار شامل ہیں۔ علاوہ ازیں کشمیری لال ذاکر ، وحشی سعید ، شبنم قیوم ، وید راہی ، شفق سوپوروی اور طالب کشمیری وغیرہ کے ناولوں کا بھی تنقیدی جائزہ ڈاکٹر مشتاق احمد وانی نے اپنے اس مضمون میں لیا ہے ۔ اس طرح یہ مضمون بے حد معلوماتی ہوگیا اور اسے حاصل ِ کتاب مضمون کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ مضمون میں معروف فکشن رائٹر دیپک کنول کے ناول ’’دردانہ‘‘ کے متعلق ڈاکٹر وانی لکھتے ہیں :’’… وہ جموں و کشمیر سے باہر کے ماحول و معاشرے کو اہمیت نہیں دیتے بلکہ اپنے وطن کشمیر ، اس کے سرحدی اور کوہستانی علاقوں کے مسائل و معاملات کو پیش کرتے رہتے ہیں۔ ’’دردانہ ‘‘ نام کا یہ ناول دیپک کنول کا ایک ایسا ناول ہے جس میں کشمیری ماحول اور سرحدی علاقوں کا ذکر پورے کہانی پن کے ساتھ قاری کو بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔ آنند لہر کی طرح دیپک کنول بھی ملک کی سرحدوں اور بندوشوں کو ہٹانے پر مصر نظر آتے ہیں۔ ان کا یہ نظریہ مذکورہ ناول میں بڑے واضح انداز میں معلوم ہوتا ہے کہ محبت اور انسانی دوستی کے آگے یہ ملکوں کی سرحدیں اور حد بندیاں ہیچ ہیں۔ ‘‘ (ص: ۱۳۶-۱۳۷)
مضمون ’’ صوبہ جموں میں اردو افسانہ‘‘بھی تنقیدی نوعیت کی اہم تحریر ہے ۔ خطۂ جموں ریاست جموں و کشمیر کا ایک بڑا خطہ ہے جہاں بڑی تعداد میں اردو قلم کار بستے آئے ہیں جن میں ہندو ، مسلم اور سکھ سب ہی شامل ہیں۔ اس خطے نے اردو ادب خصوصاً اردو فکشن کے باب میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ڈاکٹر مشتاق احمد وانی نے اپنے مضمون کی ابتدا میںجموںخطے میں اردو افسانہ نگاری کی روایت سے بحث کرتے ہوئے چند اہم افسانہ نگاروں کی تحریروںکا سلیقے سے جائزہ لیا ہے، جن میں ٹھاکر پونچھی، موہن یاور ، وید راہی ، مالک رام آنند ، پروفیسر ظہور الدین ، آنند لہر ، خالد حسین ، اوم پرکاش شاکر ، جسونت منہاس، بلراج بخشی ، نصیر احمد قریشی ، پرویز مانوس ، شیخ خالد کرار ، وزیر محمد ، زنفو کھوکھر وغیرہ کے علاوہ خود مضمون نگار بھی بحیثیت افسانہ نگار شامل ہیں۔
اردو فکشن خصوصاً ناول کے چند بنیاد گذاروں اور رجحان سازوں میں کرشن چندر بھی شامل ہیں۔ ان کے ناول کشمیر کے مرغزاروں اور جنتِ ارضی سے لے کر عروس البلاد بمبئی کی فلمی صنعت ، چکاچوند اور بھاگتی دوڑتی زندگی تک کا احاطہ کرتے ہیں تاہم ان کے تیس سے زیادہ ناولوں میں موضوعات کی تکرار اکثر قارئین و ناقدین کو کھٹکتی ہے۔ پھر بھی اہلِ نقد و نظر ان کے ناولوں میں سے تنقید کے پہلو تلاش کر کے اپنی رائے قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ایسا ہی ایک پہلو نسائی استحصال ہے جس پر ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کی نظر گئی ہے۔ ابتدائے آفرینش سے ہی صنفِ نازک یعنی خواتین کا استحصال مرد غالب معاشرے میں ہوتا آیا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس استحصال اور ظلم و ستم کو مرد قلم کاروں نے بھی محسوس کیا اور اپنی تحریروں کے ذریعہ اس کے خلاف احتجاج کیا۔ کرشن چندر کے دو ناولوں ’’چاندی کا گھاؤ ‘‘ اور ’’ایک عورت ہزار دیوانے‘‘ میں خصوصی طور پر ان مسائل کی عکاسی ہوتی ہے ۔ ان دونوں ناولوں میں بمبئی کی فلمی صنعت میں کام کرنے والی لڑکیوں کی بے بسی اور پریشانیوں کا ذکر انھوں نے کیا ہے۔ روپہلے پردے کے پیچھے فلم سازی کے دوران پروڈیوسروں اور دیگر عملے کے ذریعہ جنسی استحصال کا کرب اور گھناؤنا پن ان ناولوں میں عیاں ہے۔ کرشن چندر کا تعلق بھی چوں کہ فلمی صنعت سے کافی دنوں تک رہا ، اس لیے ان دونوں ناولوں میں زیادہ بہتر طریقے سے اس طرز کے نسائی استحصال کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر مشتاق احمد وانی اس ضمن میں رقم طراز ہیں :
’’جہاں تک کرشن چندر کے ناولوں میں نسائی استحصال کا تعلق ہے ، اس سلسلے میں ان کے دو ناول ’’چاندی کا گھاؤ‘‘ اور ’’ایک عورت ہزار دیوانے‘‘ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ دونوں ناول عورت کی مجبوری ، مظلومیت اور بالخصوص اس کے جنسی استحصال سے تعلق رکھتے ہیں۔ کرشن چندر نے ایک ترقی پسند ادیب کی حیثیت سے موجودہ سوسائٹی میں عورت ذات کی محرومیوں اور کلفتوں کی موثر ترجمانی کی ہے۔‘‘ (ص: ۷۱)
مذکورہ بالا مضامین کے علاوہ پیشِ نظر کتاب میں ریاست جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے چند اہم قلم کاروں کے فن پر بھی بشکلِ مضمون گفتگو ملتی ہے ۔ایسے مضامین میں ’’نورشاہ :اردو افسانے کا نور‘‘ ، ’’عبدالغنی شیخ لداخی : تجھ کو تیرے بعد زمانہ ڈھونڈے گا‘‘ ، ’’عرش صہبائی کی شاعری میں فکری جہات ‘‘ ، ’’کرشن چندر کے ناولوں میں نسائی استحصال ‘‘ ، ’’شیخ بشیر احمد کی کہانیوں میں کشمیر کا درد ‘‘ ، ’’خورشید احمد بسمل : شاعرانہ مزاج میں صوفیانہ رنگت ‘‘ اور ’’فدا راجوروی کے ادبی سروکار ‘‘ شامل ہیں۔
منجملہ یہ کتاب ’’تنقیدی فکر و فن ‘‘ ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کی تنقیدی و تحقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہے۔ امید قوی ہے کہ ڈاکٹر موصوف کا اشہب ِ قلم مستقبل میں بھی یوں ہی رواں دواں رہے گا۔
رابطہ۔ریجنل ڈائریکٹر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، کولکاتا ریجنل سینٹر
1A/1 ، چھاتو بابو لین ، (محسن ہال ) تیسری منزل کولکاتا 14-(مغربی بنگال)
موبائل۔8902496545 / 9431085816
ای میل۔ imamazam96gmail.com@