رانی بلوریہ کی صدارت میں ایتھکس کمیٹی منعقد
سرینگر / جموں و کشمیر قانون ساز کونسل کی ایتھکس کمیٹی کی کمیٹی ایم ایل سی رانی گارگی بلوریہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس موقعہ پر ارکان قانون ساز یہ کے اخلاقی اور ایتھیکل اقدار کے ساتھ ساتھ ایتھکس کمیٹی کے کام کاج کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ارکان قانون سازیہ شوکت حسین گنائی ، غلام نبی مونگا نے کمیٹی کے کام کاج کے حوالے سے اپنی اپنی تجاویز سامنے رکھیں۔ایڈیشنل سیکرٹری کونسل سیکرٹریٹ علی محمد ڈار اور ڈپٹی سیکرٹری منی کول نے کمیٹی کو کام کاج کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں روشنا س کرایا۔میٹنگ میں کونسل سیکرٹریٹ کے کئی اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
ست شرما کی مکانات کے مرکزی وزیر کے ساتھ ملاقات
امرت کے تحت مزید قصبوں کو لانے کی وکالت کی
نئی دہلی//مکانات و شہری ترقی کے وزیر ست شرما نے یہاں مکانات و شہری معاملات کے مرکزی وزیر ہردیپتھ سنگھ پوری کے ساتھ ملاقات کی اور ریاست میںا س شعبۂ کے تحت ہاتھ میں لئے گئے پروجیکٹوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ست شرما نے ریاست میں سمارٹ سٹی پروجیکٹ کی عمل آوری کے لئے رقومات کی فراہمی90:10 کے تناسب سے جاری کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس میں90 فیصد فنڈنگ مرکز جبکہ10 فیصد ریاستی سرکار ادا کرے گی۔ انہوں نے امرت سکیم کے تحت ریاست کے مزید قصبوں کو لانے کی ضرورت پر زو ردیا۔انہوں نے مزید مرکزی سکیموں کو ریاست تک وسعت دینے کی بھی وکالت کی۔وزیر نے مرکزی وزیر کو جون ماہ میں ریاست کا دورہ کرنے کی دعوت دی تا کہ مکانات و شہری ترقی محکمہ کی سکیموں کا جائیزہ لیا جاسکے اور پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔فائنانشل کمشنر مکانات و شہری ترقی کے بی اگروال بھی وزیر کے ہمراہ تھے۔
راجیو جسروٹیہ نے گولہ باری متاثرہ سرحدی دیہات کا دورہ
کٹھوعہ //جنگلات و ماحولیات کے وزیر راجیو جسروٹیہ نے کٹھوعہ ضلع کے ہیرا نگر میں سرحد پار کی فائرنگ سے متاثرہ دیہات کا دورہ کر کے وہاں متاثرہ کنبوں کو دی جارہی سہولیات کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔وزیر نے منیاری، لونڈی، چن کھتریاں اور بوبیاں کا دورہ کر کے وہاں سرحد مکینوں کے ساتھ بات چیت کی۔وزیر کے ہمراہ ایم ایل اے ہیرا نگر کلدیپ راج، ڈی سی کٹھوعہ روہت کھجوریہ اور کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی تھے۔اس دوران مقامی لوگوں نے اپنے اپنے مسائل سے وزیر کو روشناس کرایا۔گاؤں والوں نے محفوظ مقامات پر پلاٹ اور معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔جسروٹیہ نے لوگوں کے مسائل غور سے سُنے اور کہا کہ حکومت انہیں ہرممکن مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے ڈی سی کٹھوعہ کو ہدایت دی کہ وہ متاثرہ کنبوں کی رپورٹ پیش کریں تا کہ قوانین کے مطابق انہیں ریلیف واگذار کی جاسکے۔انہوں نے ڈی سی کٹھوعہ پر زور دیا کہ وہ مستقل ڈھانچے قائم کرنے کے لئے محفوظ مقامات پر اراضی کی نشاندہی کریں تا کہ وہاں تمام سہولیات سے لیس ایک عمارت تعمیر کی جاسکے جسے ایمرجنسی کے دوران استعمال میں لایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ مخصوص مقامات پر بارڈر بھون تعمیر کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
پٹوارایسوسی ایشن کی کام چھوڑہڑتال کا15واں دن
جموں //آل جموں و کشمیر پٹوار ایسوسی ایشن نے مطالبات کے تئیں حکومت کی عدم توجہی کے معاملے کولے کرغیرمعینہ کام چھوڑہڑتال کے پندرہویں روزبھی ڈی سی دفتراحاطے میں احتجاجی دھرنادیاجس کے سبب محکمہ مال کے دفاترمیں کام کاج مفلوج رہااور عام لوگوں کومحکمہ مال سے متعلق کاموں کے سلسلے میںمشکلات کاسامناکرناپڑا۔اس دوران ضلع جموں کے پٹواریوں اورگردواروں نے پٹوارایسوسی ایشن کی ہڑتال کال پرعمل کرتے ہوئے کام چھوڑہڑتال کے تیسرے دن بھی ڈی سی دفترجموں کے احاطے میں احتجاجی دھرنادیا۔اس دوران مقررین نے کہاکہ حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ایسوسی ایشن کی مانگوں کوپوراکیاجائے گالیکن عرصہ درازگذرنے کے باوجود حکومت نے مانگوں کوپورانہیں کیاہے۔مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹواروں اورگرداوروں کو کافی مشکل اور نا مساعد حالات میں اپنے فرائض انجام دینے پڑتے ہیں کی تمام جائز مانگوں کو جلد پورا کیا جائے جن میںپے گریڈ کی فراہمی ڈائریکٹ نائب تحصیل داروں کی تعیناتی پرقدغن لگانااورپٹواریوں اورگرداروں کی محکمانہ ترقیوں کی میٹنگیں جلدمنعقدکرنا اورگرداور سرکل کومعرض وجودمیں لاناشامل ہے۔اس دوران دھرنے میں سینئر نائب صدر،رمن راج شرما سابق ریاستی صدر، آرگنائزر ونے کمار، ضلع صدرجموں کلیم احمد ،سیکریٹری محمدشبیرودیگران شامل تھے۔
کرشنانگریوواسنگھٹن کاوفدچیف انجینئرسے ملاقی
بجلی کی اضافی کٹوتی کے سبب لوگوں کودرپیش پریشانیوں سے آگاہ کیا
جموں //محلہ کرشنا نگر یووا سنگٹھن کاایک وفد اشوک کمار شرما کی صدارت میں بجلی محکمہ کے چیف انجینئر جموں سے ملاقی ہوا۔اس دوران وفد نے بتایاکہ محلہ کرشنا نگر میں بجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں ،ویسے تو یہاں بجلی کٹوتی کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہے کبھی کبھار تو پورا دن ہی بجلی کے انتظار میں کٹ جاتا ہے ۔وفدمیں شامل افراد نے مزید کہا کہ محلہ میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پانی کی بنیادی سہولیت سے بھی محروم رہنا پڑتا ہے کیوں کہ محلہ کے نلوں میںشام 5بجے سے 7بجے تک آتا ہے اور خصوصاً اسی دوران بجلی کی کٹوتی ہوتی ہے ۔وفد نے چیف انجینئر کو یاد دلایا کہ یہاں کے لوگوں کو بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔محکمہ کے چیف انجینئر نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ فوری طور پر محکمہ کے افسران کو ہدایت جاری کریں گے تا کہ لوگوں کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔وفد میں سنگٹھن کے صدر کے علاوہ ستپال،دیپک کمار ،انیل کمار،راجیش کمار ،پنکج گپتا،راکیش گپتا،ترسیم لال ،وشوجیت اور توشار موجود تھے۔
جموں یونیورسٹی میں گلوبل سیڈکنزرویشن سے متعلق پروگرام کاانعقاد
جموں//جموں یونیورسٹی شعبہ باٹنی کی طرف سے گلوبل سیڈکنزرویشن چیلنج کے موضوع پر 5روزہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔ یہ پروگرام بوٹینک گارڈن کنزرویشن انٹرنیشنل یونائٹڈ کنگڈم کی وساطت سے عمل میں لایا گیا۔اس موقعہ پر پروفیسر گیتا سمبالی مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھیںاور ان کے ہمراہ آئی ایف ایس ریٹائرڈ ڈاکٹر سی ایم سیٹھ مہمان ذی وقار کے طور پر موجود تھے۔پروگرام کی ابتدائی نشست کا آغاز باٹنی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر نمرتاشرمانے کیا۔انہوں نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ اس تربیتی پروگرام میں مختلف تنظیموںکے نمائندوں نے بھی شرکت کی جن میں محکمہ جنگلات ، اگریکلچر ،ہائر ایجوکیشن ،سکول ایجوکیشن اور باٹنی ڈپارٹمنٹ کے کئی محققین شامل ہیں ۔ورکشاپ میں شرکاء کو ریاست کے مختلف مقامات پر سیڈ کنزرویشن کے طور طریقے اور اہمیت کے بارے میں جانکاری دی گئی ۔اس موقعہ پر پروفیسر گیتا سمبالی نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ہریالی کو بچانا ہے تو ہمیں مختلف بیجوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔اس دوران انہوں نے بیجوںکی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اہم پیڑ پودوں کے بیجوں کو بچانے کا انتظام کرنا چاہئے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ پیڑ پودوں کی پیداوار کو یقینی بناسکیں۔پروگرام میں مدہورینا کے علاوہ پروفیسر وینو کول ،ڈاکٹر سکندر ،ڈاکٹر گیتا ، ڈاکٹر اما بھارتی اور ڈاکٹر ہرپریت بھاٹیاموجود تھے
اجے نندا کی تین روزہ بابا سمتھل میلے میں شرکت
اودھمپور / ضلع اودھمپور کے تحصیل پنچاری میں قایم پنچائت گلیوٹ میں تین روزہ بابا سمتھل میلے کا انعقاد کیا گیا ۔ وزیر مملکت برائے خوراک و شہری رسدات اجے نندا اس موقعہ پر مہمانِ خصوصی تھے۔ ضلع و دیگر ملحقہ علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد نے میلے میں شرکت کی ۔ اس موقعہ پر تقریر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ حکومت مذہبی مقامات پر سیاحت شعبے کو فروغ دینے کیلئے ضروری بنیادی ڈھانچے کو معرض وجود میں لا رہی ہے ۔ اس سلسلے میں بابا سمتھل و دیگر ثقافتی مقامات کی تیز تر ترقی کیلئے خاطر خواہ اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مقامات پر ملک بھر سے سیاح سال بھر آتے رہتے ہیں ۔ وزیر نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس میلے میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیں تا کہ انہیں بابا سمتھل کی دکھائی ہوئی مشعل راہ پر چل کر زندگی کی کامیابیاں حاصل ہوں ۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ سمتھل دیو ستھان علاقے کو بھی سیاحتی سرگرمیوں کیلئے بڑھاوا دیں تا کہ وہاں بھی یاتریوں کا آنا جانا ہو ۔ میلے کے دوران مقامی فنکاروں نے کئی تمدنی پروگرام پیش کئے ۔ اس سے قبل وزیر مملکت نے کاوسل اور بڑھوتا میں 8000 گیلن والے جی ایس آر پرویژن واٹر سپلائی ٹینک کو عوام کے نام وقف کیا ۔
صنعتی برادری کی بہبودکیلئے حکومت اقدامات اٹھائے:کشمیرچیمبرآف کامرس
جموں//کشمیرچیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹریزکے صدرجاویداحمدٹینگانے پٹرول اورڈیزل کی قیمتوں پرقابورکھنے میں حکومت کی ناکامی پرتشویش کااظہارکیاہے۔یہاں جاری پریس بیان میں جاویداحمدٹینگانے کہاکہ پچھلے 13 دنوں میں 11 مرتبہ پٹرول اورڈیزل کی قیمتیں بڑھناافسوس ناک ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاستی اورمرکزی حکومت ٹیکس اورڈیوٹیزمیں کمی اورپٹرولیم مصنوعات پرقابوپانے کیلئے خاطرخواہ اقدامات نہیں کررہی ہے جس سے عام آدمی کونقصان جھیلناپڑرہاہے۔جاویدٹینگانے کہاکہ جی ایس ٹی اورنوٹ بندی کی وجہ سے عام لوگوں کی مالی حالت کمزورہوگئی ہے اوربیوپاریوں کوبھی شدیدمالی خسارہ جھیلناپڑرہاہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کوچاہیئے ٹیکس کوکم کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کی چیزوں بشمول پٹرول وڈیزل کی قیمتوں میں تخفیف کرکے عام لوگوں کی راحت کاسامان پیداکرے۔علاوہ ازیں کشمیرچیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدرجاویدٹینگانے ریاستی حکومت پرزوردیاہے کہ وہ حال ہی میں نارتھ ایسٹ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ سکیم 2017 کی طرزپرجموں وکشمیرمیں بھی سکیم لاگوکریں۔ انہوں نے کہاکہ صنعتی برادری کے مسائل پہلے ہی ریاستی اورمرکزی حکام کے سامنے رکھے گئے ہیں اورامیدکرتے ہیں کہ ریاستی حکومت صنعت کی ترقی کیلئے پیکیج منظورکرے گی۔
کالتہ میں پانی کی قلت کیخلاف لوگوں کااحتجاج
حافظ قریشی
کٹھوعہ // بسوہلی میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کے باعث میںکالتہ گاؤں کے لوگوں نے بسولی میں محکمہ پی ایچ ای کے دفتر کو بند کر کے دھرنا دیا ۔اس دوران سراپااحتجاج لوگوںکا کہنا تھا کے جہاں ایک طرف موسم گرما میں بسوہلی میں گرمی شباب پرہے تو وہیں اس تیز دھوپ اور بڑھتی گرمی کے دوران کالتہ گاؤں کے لوگوں کو پانی کے عدم دستیابی کے پیش نظر سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔لوگوں کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی برسوں سے مذکورہ گاؤں کے لوگ ندی نالوں کا گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گاؤں میں لوگوں کو کئی بار حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے پائپ لائن پچھانے کے وعدے کئے گئے لیکن زمین سطح پر سب وعدے کھوکھلے ہی ثابت ہوئے ہیں اور کالتہ گاؤں کے لوگ کئی برسوں سے پانی کی سہولیات سے محروم ہیں ۔ بعد میں انھوں نے اے ڈی سی کے سامنے اپنے مطالبات رکھے اور انھوں نے مذکورہ گاؤں کے پانی کے مسائل کو جلد از جلد ازالہ کیا جانے کا مطالبہ کیا ۔
پروفیسربھیم سنگھ کاپنڈت جواہر لال نہرو کی برسی پرخراج
جموں//پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے نئی دہلی میں کل دیر شام پنتھرس کارکنوں اور دوستوں کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے 54 سال کے چونکانے والی تاریخ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 27 مئی، 1964 کو جب پنڈت جواہر لال نہرو کا انتقال ہوا تھا ، اسی دن ہندستانی پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے جا رہا تھا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں اور دوستوں کو یاد دلایا کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا اور طلبا کانگریس کے مرکزی آرگنائزر تھے۔انہوں نے کئی نوجوانوں اور طلبا رہنماؤں کے ساتھ وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو دینے کے لئے ایک میمو رنڈم تیار کیا تھا اور وہ سب اس دن پارلیمنٹ کے سامنے شیخ محمد عبداللہ کو پاکستان سے واپس بلانے کا مطالبہ کر رہے تھے، جنہیں نہرو جی نے پاکستان بھیجا تھا۔ شیخ محمد عبداللہ نے ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جموں و کشمیر کے انضمام کو چیلنج کرنے کے لئے انتہائی قابل اعتراض بیان دیا تھا۔ طلباکانگریس شیخ عبداللہ کی پاکستان سے واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے اور ساتھ ہی پنڈت نہرو جی سے جموں و کشمیر کے ہندستان کے ساتھ انضمام پر زور دے رہے تھے۔ جموں و کشمیر طلبا کانگریس نے پارلیمنٹ کے سامنے بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا، اسی دن پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہو رہا تھا۔ طلبا کانگریس نے پروفیسربھیم سنگھ کی قیادت میں پارلیمنٹ کے سامنے 9.00 بجے بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ بھوک ہڑتال میں شامل ہونے والے طلبا کے اہم رہنماؤں میں مسٹر رشپال سنگھ (اس وقت جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ)، مسٹر شیو چرن سنگھ (ریٹائرڈ زیڈ ای او)، مسٹر کمل گنڈوترا، آنجہانی مسٹر عاصم شاہ، آنجہانی مسٹر سریش انادی، آنجہانی مسٹر راج سہگل، آنجہانی مسٹر ایس پاٹھک، آنجہانی درگاداس ابرول اور جموں و کشمیر کے دیگرطلبا رہنما اہم تھے۔ طلبا کانگریس کے لیڈر شیخ عبداللہ کی پاکستان سے واپسی، آرٹیکل 370 میں ترمیم اور جموں و کشمیر کے ہندوستانی شہریوں کے لئے تمام انسانی / بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے، جو ہندوستانی آئین کے تیسرے باب میں شامل ہیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو پارلیمنٹ ہاؤس تک نہیں پہنچ سکے، کیونکہ پارلیمنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو چکا تھا۔ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ تھا، ہم لوگ پنڈت جواہر لال نہرو کو اپنے اپنے میمورنڈم سونپنے کی بات سوچ رہے تھے اور پارلیمنٹ شروع ہونے سے پہلے اس افسوسناکھ خبر کا اعلان ہو گیا۔ اس وقت کے مرکزی وزیر مسٹر لال بہادر شاستری نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تمام مظاہرین سے اس قومی سوگ میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ ہم سب لوگ ایک ساتھ اپنے اپنے بینر، پوسٹر اور جھنڈے لے کر اس غم میں شامل ہو گئے۔ بھیم سنگھ نے اس تکلیف دہ وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس افسوسناک دن کے 18 سال کے بعد 1982 میں پنتھرس پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے اس قومی انضمام کی تحریک کو ساٹھ کی دہائی میں اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن 27 مئی، 1964 کے اس واقعہ سے ان کی زندگی کا بہت گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1964 میں پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے انتقال کے کچھ دنوں بعد انہیں سرینگر (کشمیر) میں اپنے ساتھیوں، راج کمار سہگل اور مرزا عبد الرشید کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ طلبا کانگریس نئے انتخابات، نئی حکومت اور حق و انصا ف کی وکالت کر رہی تھی۔