کشمیر میں سب سے زیادہ 500 امیدوار میدان میں اتارے ہیں: بی جے پی
یو ا ین آئی
جموں // بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بلدیاتی انتخابات میں وادی کشمیر میں سب سے زیادہ 500 امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ پارٹی کے مطابق وادی کے 60 میونسپل وارڈوں میں بھاجپا کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوئے ہیں۔ بی جے پی جموں وکشمیر یونٹ کے ترجمان بریگیڈیئر انیل گپتا نے منگل کو یہاں ترکوٹہ نگر میں واقع پارٹی دفتر پر ایک کانفرنس میں کہا ’بی جے پی محض ایک ایسی جماعت ہے جس نے وادی کشمیر کے اندر سب سے زیادہ امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں ہمارے 500 امیدوار کھڑے ہیں۔ باقی جماعتوں جن کا کہنا تھا کہ ان کے ریاست کے تینوں خطوں کے اندر ووٹر ہیں، ان کو وہاں پر امیدوار بھی نہیں ملے۔ 60 میونسپل وارڈوں پر ہمارے امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں‘۔ بی جے پی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی کشمیر کے لوگوں نے بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ انہوں نے کہا ’جنوبی کشمیر جو جنگجویت کا مرکز بنا ہوا ہے، وہاں پر لوگوں نے بھاجپا کا دامن تھام لیا ہے۔ ہماری وہاں پر چھ میونسپل کمیٹیز بن گئی ہیں۔ وہاں ہم مزید جگہوں پر ہم اپنا کنول کا پھول کھلائیں گے‘۔ بریگیڈیئر انیل گپتا نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ بھاجپا کے انتخابی امیدواروں کو معقول سیکورٹی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا ’ہماری انتظامیہ اور گورنر صاحب (ستیہ پال ملک) سے اپیل ہے کہ ہمارے امیدوار جنہوں نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالا ہے ، جو قوم اور دیش کے لئے سب کچھ چھوڑ کر آگے آئے ہیں۔ اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے اور جیت بھی گئے ہیں۔ ان امیدواروں کو معقول سیکورٹی دی جانی چاہیے۔ تاکہ وہ اپنے مقصد کو پورا اور لوگوں کی خدمت کرسکیں‘۔ یو این آئی
گاندھی جی اورشاستری نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ:پروفیسربھیم سنگھ
جموں//بابائے قوم مہاتما گاندھی او ر جناب لال بہادر شاستری ہندستان کی قیادت میں چمکتا ہوا ستارہ تھے جنہوں نے آئندہ نسل کے لئے عظیم تاریخ چھوڑی ہے ۔ گاندھی جی 2 اکتوبر ، 1869اور لال بہادر شاستری 2اکتوبر، 1904کو پیدا ہوئے تھے ۔مہاتما گاندھی نے بابائے قوم کے طورپر تو شاستری جی نے ہندستان کے وزیراعظم کے طورپر قوم کیلئے اپنی خدمات انجام دیں۔ دونو ں ہی لیڈر ہندستان کی جدوجہد آزادی کے چمکتے ہوئے ستارے تھے۔مسٹر موہن داس کرم چند گاندھی برطانوی حکومت سے آزادی کے بعد مہاتما گاندھی کے طورپر ابھرے ۔ ان کی عدم تشدد کے ذریعہ حکمرانوں کی خلاف لڑائی کو دنیا نے منفرد اور سائنٹفک قرار یتے ہوئے تعریف کی جبکہ آج دنیا کی قیادت بندوق، جنگ اور لڑائیوں میں یقین رکھتی ہے۔مشرق اور مغر ب نے برطانوی حکومت سے آزادی کے لئے انکی مزاحمتی تحریک کی ستائش کی جبکہ لال بہادر شاستری نے پاکستانی جارحیت کے خلاف 1965میں ہندستان کے وزیراعظم کے طورپر ملک کی قیادت کی اور جنوری 1966میں تاشقند معاہدہ کرکے اپنی طاقت اور امن کے تئیں ان کے عزم کا اظہار کیا۔ اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی کے ایکزیکیو ٹیو چیرمین پروفیسر بھیم سنگھ نے ، جونیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی بھی ہیں، نئی نسل سے خطاب کرتے ہوئے نئی نسل سے ہندستانی ثقافت و تہذیب کے حفاظت کے لئے ایک اور لڑائی لڑنے کے لئے تیار رہنے کو کہا،جسے مختلف پہلوؤں سے خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے نئی نسل خاص طورپر وکلا او ر دانشور حضرات سے بھی ہندستانی ثقافتی ورثہ کی حفاظت ، سیکورٹی اور تحفظ کے لئے ایک اور لڑائی لڑنے کے لئے تیار رہنے کو کہا۔انہوں نے ملک کی ہزاروں برس پرانی اخلاقی، سماجی اور بنیادی ثقافتی ورثہ کو برقرار اور جاری رکھنے کیلئے ججوں اور قانون بنانے والوں کی تعریف کی لیکن انہوں نے سپریم کورٹ کے ہم جنس پرستی اور ناجائز تعلقات کے سلسلہ میں دو حالیہ فیصلوں سے عدم اتفاق کیا۔انہوں نے اعلان کیا کہ اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی ، جس میں ملک کی مختلف ریاستوں کے لوگ شامل ہیں، ان دونوں فیصلوں کے، جو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی پانچ رکنی بنچ نے دیئے ہیں، خلاف اسی پلیٹ فارم سے اپنی آئینی لڑائی جار ی رکھے گی اور ہندستان کے منفرد ثقافتی ور ثہ کے مفاد میں ان دونوںمعاملا ت پر پھر سے غور کرنے کیلے بڑی بنچ تشکیل دیئے جانے کا مطالبہ کرے گی۔ مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری جی کے یوم پیدائش پر سیکڑوں وکلا اور سماجی کارکنوں نے اس عہد کا اظہار کیا۔
سیوابھارتی نے’ سنکلپ ‘تنظیم جموں کشمیرمیں لانچ کیا
جموں//گاندھی جینتی کے موقعہ پرسیوابھارتی جموں وکشمیرنے گاندھی بھون سمیتی کے اشتراک سے یہاں گاندھی بھون ،نزدسول سیکریٹریٹ میں ایک تقریب کااہتمام کیا۔اس دوران تقریب میں ایک تنظیم ’سنگلپ‘کولانچ کیاگیاجولوگوں میں سول سروسزامتحانات مثلاًآئی پی ایس، کے اے ایس ،آئی اے ایس ،کے پی ایس وغیرہ میں حصہ لینے کے خواہشمندنوجوانوں کوبہترین کوچنگ فراہم کرے گی۔ اس دوران پروگرام کی صدارت وائس چانسلرشری ماتاویشنودیوی یونیورسٹی پروفیسرسنجیوجین کررہے تھے ۔اس موقعہ پر کنہیا لال نیشنل آرگنائزر،سیکریٹری جن کلیان شکشاسمیتی کے علاوہ ڈاکٹر گوتم مینگی ،صدرگاندھی بھون سمیتی،جسٹس (ریٹائرڈ)جی ڈی شرما، صدرسمکلپ جے اینڈکے چیپٹراورڈاکٹرانل منہاس صدرسیواسمیتی ،جے اینڈکے بھی ایوان صدارت میں شامل تھے۔اس دوران دیوراج سیکریٹری سنکلپ جے اینڈکے چیپٹرنے سمکلپ کی سماج کیلئے خدمات کواُجاگرکیا۔سمکلپ پہلے سے دہلی، پنجاب،ہریانہ،آندھرا پردیش،آسام،اُترپردیش،راجستھان،مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ،کیرلہ، گجرات، مہاراشٹرا،تامل ناڈو اورکرناٹک میں کامیابی کے ساتھ کام کررہی ہے۔مہمان خصوصی کنیہال لال نے سنکلپ کے بارے میں تفصیلی خیالات کااظہارکیا۔
کوٹرنکہ میں حاملہ خاتون کے ساتھ ڈاکٹروں کی بدسلوکی شرمناک:انقلابی
کوٹرنکہ// بی جے پی ایس ٹی مورچہ کے ریاستی جنرل سیکریٹری واسمبلی حلقہ درہال بدھل کے نوجوان لیڈر چوہدری مشتاق انقلابی نے کوٹرنکہ سب ضلع کے سی ایچ سی ہسپتال میں گزشتہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات کو جو واقعہ ایک حاملہ خاتون کے ساتھ پیش آیا وہ انتہائی شرمساری کی بات ہے انہوں نے کہا کہ سب ضلع انتظامیہ نے جو اس معاملے پر خاموشی کی ہے وہ اس سے بھی زیادہ مایوس کن ہے تفصیلات کے مطابق کوٹرنکہ سب ضلع کے سی ایچ سی ہسپتال میں چند روز پہلے رات کو جب ایک حاملہ عورت گلشاد بیگم زوجہ محمد رفیق سکنہ کیول کوٹرنکہ ہسپتال میں پہنچی تو وہاں کے موجود ڈاکٹروں نے پہلے تو خاتون کو لیبر روم میں داخل کیا اس کے تھوڑی دیر بعد جو وہاں خاتون نرس تھی اس نے حاملہ خاتون کو یہ کہا کہ آپ چلے جائیں یہاں سے ابھی آپ کی ڈیلوری نہیں ہوگی اور اس نرس خاتون نے حاملہ خاتون کے ساتھ انتہائی بدتمیزی کرتے ہوئے بدسلوکی کی۔ مشتاق انقلابی نے کہا کہ میں نے محمد رفیق سے تفصیلاً بات چیت کی اور اس نے بتایا کہ جب میری بیوی کو ہسپتال سے باہر نکال دیا میں نے ڈاکٹر کے آگے ہاتھ بھی جوڑے کہ میری بیوی کو لیبر روم میں رکھو یا پھر راجوری منتقل کرو لیکن ڈاکٹر نے نہیں سنا اتنی دیر میں وہیں باہر سڑک پر میری بیوی کو پیدا ہوا اور اس وقت رات کے گیارہ بج چکے تھے سردی پڑ رہی تھی سڑک پر کوء ہمارا سہارا نہیں تھا اور ہمارے بچے کا وہیں انتقال ہوگیا مشتاق انقلابی نے کہا کہ میں نیجب محمد رفیق کی زبانی یہ حقیقت سنی تو میں بہت مایوس ہوا ہمیں کیا پتا کہ ہمارا کوٹرنکہ کا ہنسپتال دن بدن زبح خانہ میں تبدیل ہورہا ہے جہاں معصوم بچوں کا قتل ہو جائے جہاں عورتوں کو ہسپتال کے عملہ سے گندی گالیاں سننے کو ملیں جہاں مریضوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہو پھر بھی وہاں کی انتظامیہ ہسپتال کے ظالم عملہ کے ناک سے مکھی بھی نہ ہٹائے تو یہ ناقابل برداشت ہے مشتاق انقلابی ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری اعجاز اسد سے گزارش کی ہے کہ اس پورے معاملے کی خود تحقیقات کروائیں مشتاق انقلابی نے کہا کہ بی ایم او کوِٹرنکہ نے یہ کہا میں نے کارواء کی ہے نرس اور ڈاکٹر کو راجوری آٹیچ کردیا ہے مشتاق انقلابی نے کہا یہ کون سی کارواء ہوء ایک غریب شخص کا بچہ ڈاکٹروں کی لاپرواہی اور غنڈہ گردی سے انتقال کرگیا اس بیچارے محمد رفیق کو محکمہ ہیلتھ کی طرف سے کوء مدد نہیں کی گء وہ بے یارو مددگار بے سہارا روتا رہا لیکن کسی نے اس کی سنی نہیں کوء بات اور پھر وہیں سب ضلع کے انتظامیہ کے کان میں جوں تک نہیں رنگی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو چاہئے تھا کہ فورً اس معاملے کی تحقیقات خود کرتے لیکن موصوف نے ایک آواز تک نہیں نکالی جس سے ظاہر ہوتاہے کہ پوری انتظامیہ کو کوء ٹس سے مس نہیں ہے مشتاق انقلابی نے کہا غریب شخص کے بچے کا قتل ہوا ہے اور قاتلوں کو سزا دی جائے صرف آٹیچ کرنے اور وجہ بتاؤ نوٹس سے جاری کرنے سے کوء کارواء نہیں ہوتی ہے مشتاق انقلابی نے کہا کہ اگر اس معاملے کی تحقیقات نہیں ہوء تو حالات خراب ہونگے