جموں//پرنسپل سیکرٹری خزانہ نوین کمار چودھری کی صدارت میں سکولی تعلیم ، امور نوجوان و کھیل کود ، تکنیکی تعلیم ، جی اے ڈی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، منصوبہ بندی و ترقی ، خاطر تواضع ، ایسٹیٹس اور لداخ امور محکموں کی پری بجٹ میٹنگیں منعقد ہوئیں۔پرنسپل سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقی روہت کنسل ، کمشنر سیکرٹری جی اے ڈی ہلال احمد پرے، سیکرٹری سکولی تعلیم اجیت کمار ساہو ، سیکرٹری آئی ٹی سواگت بسواس ، سیکرٹری امور نوجوان و کھیل کود سرمد حفیظ ، سیکرٹری امور لداخ ریوا کماری اور دیگر افسران میٹنگ میں موجود تھے۔اس کے علاوہ فائنانس محکمہ کے سینئر افسران نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔میٹنگ کے دوران مذکورہ محکموں کی کارکردگی اور اگلے مالی سال 2019-20کی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں نے اپنے محکموں کے تعلق سے کارکردگی میں بہتری لانے کے لئے آرأ اور تجاویز دیں۔انہوں نے مختلف جاری پروجیکٹوں کے بارے میں بھی پرنسپل سیکرٹری خزانہ کو تفصیلات دیں۔نوین کمار چودھری نے افسران سے تلقین کی کہ وہ غیر ضروری اخراجات میں کمی لانے کے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی جامع ترقی کے لئے تفصیلی پروجیکٹ رِپورٹ مناسب انداز میں تیار کئے جانے چاہئیں۔انہوں نے مختلف پروگراموں اور سکیموں کی عمل آوری کے دوران غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کے لئے بھی کہا۔سکولی تعلیم ، امور نوجوان و کھیل کود اور تکنیکی تعلیم محکموں کی بجٹ تجاویز پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے پرنسپل سیکرٹری نے ان محکموں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لانے کی ہدایت دی تاکہ طالب علم طبقے کو سکولوں اور کالجوں میں مناسب تعلیمی ماحول فراہم کیا جاسکے۔انہوں نے تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے لئے اختراعی نوعیت کے اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔ریاست کے تعلیمی اداروں میں کھیل سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے نوین کمار چودھری نے سیکرٹری امور نوجوان و کھیل کو د ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے مختلف تعلیمی اداروں میں دستیاب زمین کی نشاندہی کرنے کے لئے کہا جس کے لئے رقومات فراہم کی جاسکیں۔انہوں نے تمام پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل کی بھی ہدایت دی۔نوین کمار چودھری نے ڈائریکٹر جنرل امور نوجوان و کھیل کود اور سکولی تعلیم محکمہ کے ناظمین کو ہدایت دی کہ وہ طالب علموں کے لئے مختلف ریاستوں کے دوروں کا اہتمام کا کریں۔میٹنگ کے دوران جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ، منصوبہ بندی و ترقی ، خاطر تواضع ، ایسٹیس ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور لداخ امور محکموں کی بجٹ تجاویز پر بھی غور و خوض کیا گیا۔