عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ حکومت خطے میں ایک مضبوط اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہے اور نوجوان کاروباری افراد کے جدید اور تخلیقی خیالات کی بھرپور حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ناکامی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے کوشش نہ کرنے سے ڈرنا چاہیے۔سری نگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں ASCEND J&K 2026 اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم سمٹ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد نوجوان کاروباری افراد کو رہنمائی، مالی معاونت، نیٹ ورکنگ اور پالیسی سپورٹ فراہم کرکے ان کے خیالات کو کامیاب کاروبار میں تبدیل کرنے میں مدد دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ ناکامی جدت طرازی کے عمل کا ایک لازمی حصہ ہے اور اسے مایوسی کے بجائے سیکھنے کے موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
تھامس ایڈیسن کے مشہور قول کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایڈیسن نے کبھی یہ نہیں سمجھا کہ وہ بلب ایجاد کرنے میں ہزاروں بار ناکام ہوئے، بلکہ ان کے مطابق انہوں نے صرف ہزاروں ایسے طریقے دریافت کیے جو کارآمد نہیں تھے۔عمر عبداللہ نے کہا، ’’صرف ایک چیز ہے جس سے ہمیں ڈرنا چاہیے، اور وہ ہے کوشش نہ کرنا۔ ہر ناکامی ایک سبق ہے جو ہمیں کامیابی کے مزید قریب لے جاتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ASCEND J&K 2026 کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر تصور کیا گیا ہے جہاں جدت، سرمایہ کاری، حکومتی پالیسی اور مارکیٹ کے مواقع ایک جگہ جمع ہوں تاکہ کاروباری افراد اپنے خیالات کو ابتدائی مرحلے سے لے کر مقامی، قومی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچا سکیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوان اختراع کاروں سے ملاقاتیں ہمیشہ ان کے لیے امید افزا ثابت ہوتی ہیں کیونکہ وہ روزمرہ زندگی کے مسائل کے عملی حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔
انہوں نے سمٹ میں پیش کی گئی مختلف ایجادات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سردیوں میں پانی کے پائپوں کو جمنے سے بچانے والا سینسر سسٹم، ڈیجیٹل واٹر میٹرز، ژالہ باری سے فصلوں کے تحفظ کے جال، کاربن مونو آکسائیڈ ڈیٹیکشن سسٹم اور خودکار گیس ریگولیٹر حفاظتی آلات شامل ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’یہ ایسے نوجوانوں کے تیار کردہ عملی حل ہیں جنہوں نے حقیقی مسائل کی نشاندہی کی اور ان کے بامعنی حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ کوئی بھی خیال برا نہیں ہوتا، ہر خیال میں صلاحیت موجود ہوتی ہے، ضرورت صرف اسے بہتر بنانے، پروان چڑھانے اور تعاون فراہم کرنے کی ہے۔‘‘انہوں نے ایک مقامی شمسی توانائی کے کاروباری شخص کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بروقت ادارہ جاتی تعاون جموں و کشمیر کے باصلاحیت نوجوانوں کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کاروباری افراد کی مکمل حمایت کرے گی اور روایتی طور پر محتاط طرزِ عمل سے آگے بڑھتے ہوئے جدت طرازی اور کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرے گی۔انہوں نے کہا، ’’حکومتیں عموماً ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتی ہیں جہاں کامیابی یقینی ہو، لیکن اسٹارٹ اپس کے لیے مختلف سوچ درکار ہوتی ہے۔ اگر ہم دس اسٹارٹ اپس کی مدد کریں اور ان میں سے آٹھ کامیاب نہ بھی ہوں تو باقی دو کی کامیابی ان تمام نقصانات کا ازالہ کر سکتی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ہم ناکامی سے نہیں ڈرتے، ہمیں صرف اس بات کا خوف ہے کہ کہیں ہم آپ سب کو مطلوبہ تعاون فراہم کرنے میں ناکام نہ رہ جائیں۔‘‘
جموں و کشمیر میں کاروباری ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس وقت مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تقریباً 1300 سے 1400 اسٹارٹ اپس موجود ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ASCEND 2027 تک یہ تعداد دوگنا ہو جائے گی اور اس کے بعد بھی مسلسل بڑھتی رہے گی۔انہوں نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں فخر سے کہیں کہ یہ وہ مقام تھا جہاں جموں و کشمیر کے اسٹارٹ اپ سفر نے حقیقی معنوں میں رفتار حاصل کی۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں سے اپیل کی کہ وہ خطے کے ابھرتے ہوئے کاروباری افراد کے ساتھ شراکت داری کریں تاکہ ان کے خیالات کو کامیاب کاروبار میں تبدیل کیا جا سکے، جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں۔انہوں نے تین روزہ سمٹ میں شرکت کرنے والے کاروباری افراد، اختراع کاروں، رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
نوجوان کوشش نہ کرنے سے ڈریں، ناکامی سے نہیں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ