عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور نیٹ-یو جی پرچہ لیک معاملے پر بحث کے مطالبے کو لے کر اپوزیشن نے جمعرات کو مسلسل چوتھے روز بھی راجیہ سبھا میں شدید ہنگامہ کیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی پہلے دوپہر 12 بجے اور بعد ازاں دوپہر 2 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔ ہنگامے کی وجہ سے مانسون اجلاس کے پہلے چار دنوں میں راجیہ سبھا میں نہ وقفہ سوال چل سکا اور نہ ہی وقفۂ صفر کی کارروائی ہو سکی۔دوپہر 12 بجے کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے کو اپنی بات رکھنے کی اجازت دی۔ مسٹر کھڑگے نے کہا کہ حکومت نے نیٹ معاملے پر بحث کرانے کی بات کہی ہے، لیکن لاکھوں طلبہ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، ان پر لاٹھی چارج کیا گیا، بعض طلبہ اسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ان کے والدین شدید پریشان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بحث کے لیے تیار ہے، لیکن جب تک وزیرِ تعلیم استعفیٰ نہیں دیتے، بحث شروع نہیں ہو سکتی۔ایوان کے قائد جگت پرکاش نڈا نے اپوزیشن کے رویے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نہ تو بحث چاہتی ہے اور نہ ہی ایوان کی کارروائی چلنے دینا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے اپوزیشن نے نیٹ معاملے پر بحث کا مطالبہ کیا، حکومت اس کے لیے تیار ہو گئی، لیکن اب نئی شرط عائد کر دی گئی ہے کہ پہلے وزیرِ تعلیم استعفیٰ دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر موضوع پر بحث کے لیے تیار ہے۔
اسی دوران حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے ایک دوسرے کے خلاف بلند آواز میں نعرے بازی شروع کر دی، جس سے ایوان میں بدنظمی پیدا ہو گئی۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے چیئرمین نے کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی۔اس سے قبل صبح کے اجلاس میں بھی اپوزیشن ارکان نے اسی معاملے پر ہنگامہ کیا تھا۔ اس موقع پر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے نیٹ امتحان کے معاملے پر اسی روز ایوان میں بحث کرانے کی پیشکش کی اور اپوزیشن سے بغیر کسی شرط کے اس پر رضامندی دینے کی اپیل کی، لیکن اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر نعرے بازی اور ہنگامہ کرتے رہے۔ رجیجو نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے اور دیگر اہم اپوزیشن رہنماؤں سے بھی بات چیت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ “سبھی چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر بحث ہو، لیکن اس کے لیے شرط رکھنا مناسب نہیں۔ پہلے بحث کا مطالبہ کرنا اور پھر شرط لگا کر سیاست کرنا درست نہیں۔ آج ہی اس موضوع پر بحث ہونی چاہیے۔”
پارلیمانی امور کے وزیر نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح اعلان کیا ہے کہ امتحان کے پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کو سخت ترین سزا دی جائے گی اور اس مقصد کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ آج ہی بحث کے لیے تیار ہو جائے۔اس دوران شدید نعرے بازی کے بیچ قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ “وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینا چاہیے۔” ہنگامہ نہ تھمنے پر چیئرمین نے پہلے کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی تھی۔نیٹ معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کے باعث مانسون اجلاس کے پہلے تین دنوں میں راجیہ سبھا میں کوئی قانون سازی کا کام نہیں ہو سکا اور ایوان کی کارروائی مسلسل ہنگامے کی نذر ہوتی رہی۔
نیٹ معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل برقرار، راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی