جموں//ریاستی سرکار نے از خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں عمر رسیدہ، جسمانی طور ناخیز اور بیواو¿ کے پنشن کے 2,67690کیس نیشنل سوشل اسسٹنٹ پروگرام اور اانٹی گریٹیڈ سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت التوا میں پڑے ہیں۔قانون ساز کونسل میں ایم ایل سی سیف الدین بٹ کے ایک سوال کے تحریری جواب میں سماجی بہبود کے وزیر سجاد غنی لون نے کہا کہ انٹی گریٹیڈ سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت1,53699کیس التوا میں پڑے ہیں۔جبکہ نیشنل سوشل اسسٹنٹ پروگرام کے تحت 1,13991کیس زیر التو ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس طوالت کو دور کرنے کے لئے پہلے مرحلہ کے تحت40ہزار نئے کیسوں کا پرپوزل بنا یاگیاہے جوکہ محکمہ خزانہ کے زیر غور ہے۔ انہوں نے عدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میںنٹی گریٹیڈ سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت اولڈ ایچ پنشن کے 85670،وئی آئی ڈی کے تحت 35276جسمانی طور ناخیز افراد(پی سی پی ) کے 32753کیس زیر التو ہیں ۔تحریری جواب میں انہوں نے مزید بتایا ہے کہ ریاست میں نیشنل سوشل اسسٹنٹ پروگرام کے تحت اندھرا گاندھی نیشنل اولڈ ایج پنشن سکیم کے 92411،اندھرگاندھی نیشنل ویڈو پنشن سکیم (آئی جی این ڈبلو پی ایس ) کے تحت 4420کیس اندھرا گاندھی نیشنل ڈیس اےبلٹی پرسن (جسمانی طور ناخیر)افراد کے3456کیس اور نیشنل فیملی بینی فٹ سکیم( این آیف بی ایس ) کے تحت 13704کیس زیر التو ہیں ۔وزیر نے کہا کہ مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت مستحق افراد کو امداد فراہم کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ( ائی جی این ڈبلو پی ایس ) سکیم کے تحت بی پی ایل زمروں میں آنے والی بیواﺅں جن کی عمر 40سال سے79سال کے قریب ہے کو مہانہ 100روپے فراہم کئے جاتے ہیں اسی طرح آئی جی این ڈی پی ایس ،سکیم کے تحت بی پی ایل زمروں میں آنے والے معزور افراد جن کی عمر 18.79سال کے بیچ ہے کو 1000روپے کے حساب سے مہانہ معاوضہ دیا جاتا ہے ۔اسی طرح (آئی جی این او اے پی ایس ) کے تحت آنے والے بی پی ایل بیوﺅں ، اپاہچ افراد جن کی عمر 60سے70سال کے بیچ ہے کو بھی 1000روپے فی نفر مہانہ معاوضے کے بطور ادا کیا جاتا ہے ۔