مثنوی بھی شاعری کے اصناف میں ایک منفرد صنف ہے جو تاریخی لحاظ سے بڑی قدیم ہے۔ مثنوی گوئی کی تاریخ میں دیا شنکر نسیم کی ایک یاد گار مثنوی "گلزار نسیم" ہے۔ دراصل یہ میر حسن کی لکھی ہوئی مثنوی "سحر البیان" ہی کا جادوئی اثر تھا جس نے دیا شنکر نسیم کو اپنی مثنوی لکھنے پر آمادہ کیا۔اسے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ"سحر البیان" کو پڑھ کر اور دیکھ کر نسیم نے اپنی یہ مثنوی لکھنے کی ٹھان لی۔ہم نثر میں گُل بکاولی کا قصہ تو پڑھ چُکے ہیں اس قصے کو دیا شنکر نسیم نے نظم کا جامہ زیب تن کیا۔ یہ مثنوی دیا شنکر نسیم کی اٹھائیس سالہ کوششوں کا نتیجہ تھی۔چنانچہ اس مثنوی میں مختلف عنوانات کے تحت قصہ آگے بڑھتاہے اسی لئے نسیمؔ نے اسے گلزار نسیم سے موسوم کیا اس مثنوی کی اشاعت کے پورے ایک سال بعد دیا شنکر نسیم کو داعی اجل کا بُلاوا آیا۔لیکن ان کی وفات کے فوراً بعد اس مثنوی کو عام و خواص نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔یہ مثنوی بڑے پیمانے پر مشہور ہو کر ہزاروں کی تعدا د میں بک گئی۔پڑھنے والے اس سے محظوظ ہوئے تو اس کی قدر دانی بھی کرلی۔دور دور تک اس کا چرچہ ہوا۔اس مثنوی کی گونا گونیت اور دلآویزی نے لوگوں کے دل جیت لئے۔اب تک تو مثنوی گوئی میںمیر حسن آگے تھا مگر گلزار نسیم کی اشاعت کے بعد دیا شنکر نسیمؔ کے سر سہرا پڑا رہا۔
یہی وہ مثنوی ہے جسے دبستانِ لکھنو کی پہلی طویل نظم ہونے کا شرف نصیب ہوا۔گلزار نسیم کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ نسیمؔ کی اپنی تصنیف نہیں تھی بلکہ آتشؔ کی کوشش تھی۔ناقدین یہ بھی کہتے ہیںکہ آتشؔ نے اسے دیا شنکر نسیم کے ساتھ اس لئے منسوب کیا تھا تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ دلی کے مقابلے میں لکھنو کے نو عمر اور کم سن شاعر بھی کھڑا ہو سکتے ہیں۔لیکن گلزار نسیم کو آتشؔ کی تصنیف ثابت کرنا کسی بھی رنگ میں مناسب اور صحیح نہیں۔اس کے لئے ایک دلیل یہ بھی دی جا سکتی ہے کہ آتش کے کلام کی خوبی روانی اور بے ساختہ پن ہے جبکہ گلزار نسیم آورد اور تکلف وتصنع سے لبریز ہے۔ادبی تواریخ میں یہ کہا گیا ہے کہ نسیمؔ کی مذکورہ مثنوی بہت طویل تھی اس مثنوی کی تصنیف وتالیف کے دوران شاگرد کو اپنے اُستاد کی قدم قدم پر رہنمائی حاصل رہی۔چنانچہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ آتشؔ کی ہدایت پر ہی نسیم نے مختصر بحر کی مثنوی کو ازسر نو تحریر کیا اور یہ ایجازو اختصار کا ایک معجزہ کہلائی بقول فرمان فتح پوری:۔
"اس میں کردار نگاری، جذبات کی مصوری اور تسلسل ِبیان کی کم وبیش وہ سبھی خوبیاں ہیں جو ایک افسانوی مثنوی کے لئے ضروری خیال کی جاتی ہیں لیکن اس کی دلکشی کا راز دراصل اس کی رنگین بیانی۔معنی آفرینی، کنا یاتی اسلوب، لفظی صناعی اور ایجاز نویسی میں پوشیدہ ہے ان اوصاف میں بھی اختصار وایجاز کا وصف امتیازی نشان کی حیثیت رکھتا ہے۔
مثنوی گلزار نسیم میں جس قصہّ کو بیان کیا گیا ہے وہ موصوف کا طبع زاد نہیں۔بہ الفاظ دیگر وہ موصوف کی تصنیف نہ تھی بلکہ اسے عزت اللہ بنگالی نے فارسی زبان میں قلم بند کیا تھا بعد میںجب فورٹ ولیم کالج کا وجود عمل میں آیا تو ڈاکٹر جان گل کرائسٹ کی فرمائش پر نہال چند لاہوری نے اس قصیّ کا اردو ترجمہ کیا تھا۔پھر کہیں جا کر دیا شنکر نسیمؔ نے اسے منظوم شکل میں مثنوی کی صورت میں پیش کیا۔ باقی مثنویوں کے برعکس یہ قصہّ بہت پیچیدہ ہے۔ چکبست لکھنوی نے اس کے دیباچے میں یوں تحریر کیا ہے:۔
’’ جس وقت یہ مثنوی تیار ہوئی، اس کا حجم بہت زیادہ تھا جب آتشؔ کے پاس اصلاح کے لئے گئے تو انھوں نے کہا کہ ارے بھئی! اتنی بڑی مثنوی کون پڑھے گا۔۔۔۔۔ استادِ کامل کی بات دل پر اثر کر گئی۔مثنوی کی نظرِ ثانی کی، جتنے بھرتی کے شعر تھے،نکال ڈالے۔بلکہ جو مطلب چار شعروں میں ادا ہوتا تھا،اُس کو اختصار کے ساتھ ایک ہی شعر میں ادا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔اورآتش کے پاس لے گئے۔اُستاد نے شاگرد کی محنت پر آفریں کہی اور اصلاح کا قلم اٹھایا، لیکن اکثر اصلاحیں نسیمؔ نے نہ مانیں۔۔۔۔۔۔۔غرض کہ آتش ؔکی نظر ثانی کے بعد یہ مثنوی ایک مشاعرے میں پڑھی گئی جس میں لکھنو کے تمام سربرآوردہ شعراء جمع تھے بعد ازاں طبع ہوئی۔
اصل میں یہ مثنوی زندگی کی قدیم روایات کا تسلسل پیش کرتی ہے۔ زمانہ قدیم میں لوگ ایسی باتوں کے قائل تھے کہ اندھے کو روشنی مل سکتی ہے۔گلزارنسیم کا مرکزی خیال بھی ایسا ہی ہے۔قصے کا ہیرو تاج الملوک اس کے لئے مستعد ہو جاتا ہے اور کمر بستہ ہو کر گھر سے بے گھر ہوا جاتا ہے۔اُس سے یہ کام کرنے کے لئے بڑی مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔اسطرح ان واقعات کی ایک لمبی کڑی بن جاتی ہے اور کہانیوں کا ایک طویل سلسلہ بن جاتا ہے ۔
قدیم دور کے قصے کہانیوں اور داستانوں میں بھی مافوق الفطرت چیزیں موجود رہتی تھیں جو وقت پر نت نئی تبدیلیوں اور نت نئے واقعات کو رونماکرنے میں پیش پیش رہتی تھیں جنات، دیو اور پریاں یہ اکثر وبیشتران قصے کہانیوں میں اپنا اپنا رول ادا کرتے دکھائے جاتے تھے۔انسانوں اور ان غیر فطری کرداروں کا کہیں کہیں یا جابجا اختلاط اور تعلقات دیکھنے کو بھی ملتے ہیں۔ان چیزوں کو مثنوی سحر البیان میں میر حسن نے بھی لاکھڑا کیا ہے مگر اُس کی فن کا رانہ صلاحیت ایسی ہے کہ وہ مثنوی پڑھتے وقت قاری کو یہ غیر فطری کردار بالکل انسانوں کی شکل وصورت میں نظر آتے ہیں جبکہ گلزار نسیم میں یہ چیز نہیں ملتی۔نسیمؔ کی اس مثنوی میں قاری کو مشکل سے ہی ایسا تصور پیدا ہوتا ہے کہ یہ انسانی زندگی سے وابستہ واقعات ہیں۔گلزار نسیمؔ میںجو فضا یا ماحول پیدا کیا گیا ہے وہ صرف جادو اور طلسم کی فضا ہے۔جنات، دیو اور پریاں اس فضا میں جگہ جگہ گردش کرتے نظر آتے ہیں یعنی یہ صرف طلسمی فضا کا جواز فراہم کرتے ہیں۔
گلزار نسیم ؔکی ابتدا اس منظر سے شروع ہو جاتی ہے کہ جب باپ اپنے خوبصورت بیٹے کو دیکھتا ہے تو نابینا ہو جاتا ہے یعنی خوشی ایک دائمی غم میں بدل جاتی ہے۔اس اندھے پن کا علاج کرنے کے لئے جب یہ تجویز پیش کی جاتی ہے کہ کوہ کاف کی پری کے باغیچے میں سے پھول لایا جائے۔تو یہ چیز قاری کو ایک طلسمی دنیا کے اندر دھکیل دیتی ہے وہ حقیقی دنیا سے چند لمحوں کے لئے کٹ کر رہ جاتا ہے۔یہ غیر حقیقی دنیا یعنی پریوں اور دیووں کی دنیا ایک محیر العقل فضا پیدا کر دیتی ہے۔مذکورہ مثنوی میں کرداروں کی ایک بھر مار نظر آتی ہے۔ایک قاری کی آنکھوں کے سامنے اتنے کردار گھومتے پھرتے ہیں کہ انہیں یاد رکھنا محال بن جاتا ہے۔کرداروں کی کثرت سے قصے میں ایک خوبی پیدا ہو جاتی ہے کہ ہر لمحہ قاری کو ایک بدلتا روپ نظر آتا ہے وہ بھی متحرک اور جاذب نظر۔ایک طرح کی ہلچل اورسرگرمی محسوس ہوتی ہے جس میں قاری محو ہو جاتا ہے۔سطحی طور کرداروں کی کثرت ملا خط کیجئے تو زین الملوک، اس کے چار بیٹے، دانا، عاقل ،ذکی اور خردمند پانچواں بیٹا تاج الملوک ، دلبر ،بیسوا ،تاجالملوک کی ہمدرد دایہ حمالہ دیونی اور اس کا بھائی،حمالہ کی منہ بولی آدم زاد بیٹی اندھا فقیر جس کی آنکھوں پر گل بکاولی کی آزمایش کی جاتی ہے بکاولی اور اس کی سہیلی سُمن، فرخ، بکاولی کی ماں جمیلہ اور باپ فیروز شاہ۔ پریوں کا بادشاہ اندر وغیرہ جیسے کردار آپ کو پوری مثنوی میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔تاج الملوک اس مثنوی کا خاص کردار ہے یا مرکزی کردار لیکن اس کے بارے میں کوئی واضح نقشہ نہیں کھینچا گیا ہے۔چونکہ یہی وہ کردار ہے جس کے گرد یہ قصہ گھومتا پھرتا ہے اور قصے میں پیش آنے والے سارے واقعات اسی کردار کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔اس طرح اس کی شخصیت کے خدو خال خود ہی نمایاں ہو جاتے ہیں۔قصے میں پیش آنے والے سارے واقعات اور مسائل کا حل تاج الملوک کی ذات سے جُڑے ہیں اس لئے اس کردار کو قصے میں ایک مرکزیت حاصل ہے۔اگر دو مثنویوں یعنی سحر البیان اور گلزار نسیم کے مرکزی کرداروں کا مقابلہ کیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ سحر البیان کے مرکزی کردار بے نظیر کے مقابلے میں تاج الملوک میں بہت سارے اوصاف پائے جاتے ہیں۔تاج الملوک مسلسل کوشش، جدوجہد اور عمل کا پیکر ہے۔ اس میںاتنی سمجھ بوجھ نہیں کہ آنے والے مسائل سے کس طرح پیش آیا جائے تاہم اس کی عملِ کثیر اور مسلسل کوشش اس کمی کو پورا کرتی ہے۔وہ ہر آنے والے مشکل کو کسی نہ کسی طرح اپنے موافق بناتا ہے تاج الملوک کا کردار انتہائی دل چسپ اور جاذب توجہ لگتا ہے کیونکہ اس کی ذات میں کئی صحت مند علامتیں ملتی ہیں جن سے وہ جاذب توجہ لگتا ہے۔موصوف تھکنے کا کبھی نام ہی نہیں لیتا۔ہمیشہ کسی نہ کسی مہم میں لگارہتا ہے۔مافوق الفطرت عناصر سے معرکہ آرائی، جانوروں سے راز ونیاز کی باتیں سننا پھر ان باتوں پر کوشاں رہنا ایک طلسمی فضا کا تیار کرنا اس میں وہ کامیاب رہ جاتا ہے۔دوران ِ شب جب بکاولی راجا اندرکے دربار میں جاتی ہے تو بغیر تحقیق و تجسّس تاج الملوک سچائی دیکھتا ہے اور پھرخواب کے پردے میں حقیقت کو ظاہر کرکے وجہ معلوم کرتا ہے۔اگر کردار سازی میں کوئی کمی ہے تو وہ اس کا ہر نئی چیزیا خوبصورت چیز کو دیکھ کر مچل جاناہے۔دلبر سے عہد وپیمان باندھ کر محمود سے اظہار محبت کرنے لگتا ہے۔پھر بکاولی کی محبت کا بھی دم بھرنے لگتا ہے۔
دوسرا اہم کردار مثنوی میں بکاولی کا ہے۔بکاولی پر یوں کی شہزادی ہے اس لئے وہ اپنی جگہ ایک طرح کی خود داری اور خود اعتمادی محسوس کرتی ہے۔ وہ اپنی خودی پر ناز کرتی ہے لیکن ایک خوبی ہے کہ اپنا کام خود ہی کرتی ہے۔ قصے کا اہم پہلو ااُس وقت شروع ہو جاتا ہے جب بکاولی صبح بیدار ہوکر اپنے باغیچے کا پسندیدہ پھول گُم پاتی ہے تو یہ دیکھتے ہی اس کی حالت غیر ہو جاتی ہے کہتی ہے۔ ؎
گھبرائی کہ میں کدھر گیا گل
جھنجھلائی کہ کون دے گیا جل
ہے ہے مرا پھول لے گیا کون
ہے ہے مجھے خار دے گیا کون
نرگس تو دکھا کدھر گیا گل
سوسن تو بتا کدھر گیا گل
سنبل!مرا تاز یانہ لانا
شمشاد! انھیں سولی پر چڑھانا
بس اسی دم بکاولی گُل چین کی تلاش میں سرگرداں ٹھہرنے لگتی ہے لیکن جاسوس کی طرح اپنا روپ اور بھیس بدل کر مردانہ رنگت اختیار کرتی ہے تاکہ دیکھنے والے اسے مردہی سمجھیں یعنی مردانہ کردار ادا کرتی ہے۔یہ کردار اتنی خوش اسلوبی سے انجام دیتی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔بکاولی میں محبت کا جذبہ بھی ہے اور جذبہ ایثار بھی شدت کا ہے۔وہ سارے آلام اور مصائب کو ہنسی خوشی سے جھیلنے کی صلاحت رکھتی ہے۔
مثنوی گلزار نسیم کی ایک اہم خصوصت پلاٹ کی پیچیدگی ہے۔جذبات نگاری کے لحاظ سے اگر یہ مثنوی سحرالبیان کا مقابلہ نہیں کرسکتی تاہم واقعہ نگاری اور منظر نگاری میں مثنوی نگارنے اپنا ایک منفرد راستہ چُن لیا ہے جو ایک انفرادیت پیدا کرتا ہے۔بہ الفاظ دیگر دونوں مثنویاں اپنی اپنی الگ خوبیاں اور خصوصیات کی حامل ہیں۔تاہم کم سن شاگرد کی یہ کوشش اُستاد کے درجہ کو چھونے لگتی نظر آتی ہے۔
اُردو مثنویوں کے مجموعے میں "گُلزار نسیم" صناعی اور فن کی نسبت سے اپنا ایک منفرد اور جداگانہ حیثیت رکھتی ہے۔شاعر کا اس میں یہ کمال نہیں ہے کہ اشعار کی تعداد یا مثنوی کی طوالت کتنی ہے بلکہ شاعری کا بلند معیار مقصود ہے۔اسی بنا پر نسیمؔ نے پہلے سے موجود قصے کو اپنی ذہنی صلاحیت کے اعتبار سے ایسے قصے کو ایسی منظوم شکل دیدی جس سے اس قصے کے پلاٹ میں واقعی چار چاند لگ گئے۔اس طرح نسیم ؔکی اس طرح کی شاعری کی ایک انفرادیت قائم ہو گئی اور یہ داستان نہیں بلکہ دلچسپ مثنوی بن گئی۔
مثنوی نگاری کے فن میںاگر خصوصیات کاموازنہ کرنے لگیں تو داستان طرازی، منظرنگاری، جذبات کی پیشکش ،سادگی اور بیان کے اعتبار سے میر حسن کی مثنوی سحر البیان لاجواب ہے۔مگر اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ دیا شنکر نسیم ؔکی مثنوی، گلزار نسیم صناعی، حُسن کاری، شفاف گفتگو، چست بندش، شوکت الفاظ ، نادر تشبیہات اور استعارات کے لحاظ سے ایک شاہکار ہے۔بقول عبدالقادر سروریؔ:۔" لکھنو کے آخری ایام کی شائستہ ترین مذاق کی ادبی یادگار" گلزار نسیم "ہے"۔ مثنوی نگاروں میں دبستانِ لکھنو کی بنیاد اصل معنوں میں مذکورہ مثنوی سے پڑتی ہے۔
نسیم کے اُستاد آتشؔ ایک بار یوں کہہ گئے تھے۔ ؎
بندش الفاظ جُڑنے سے نگوں کے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا
مرصع نگاری میں گلزار نسیم کا مقابلہ کوئی اور مثنوی نہیں کرسکتی۔ غرض کہ نسیمؔنے شاعری کی تقریباً ہر صنعت کو اپنی اس مثنوی میں استعمال کیا ہے۔اس مثنوی کی تخلیق سے لکھنوی مزاج کی شاعری کی صحیح عکاسی کی گئی ہے۔
کلیم الدین احمد فرماتے ہیں:۔
" نسیم کی زبان میں سرا سر تصنع ہے لیکن یہ جان کر بھی طبعیت، مسرور ہوتی ہے۔شروع سے آخر تک یہ نظم ایک رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔اس وجہ سے تصنع، تصنع نہیں رہتا" لیکن جہاں ان صنعتوں کے استعمال نے امانت لکھنوی کی شاعری میں ابتذال پیدا کیا ہے وہاں نسیمؔ ان ہی صنعتوں کے سبب سے شاعری کے پیامبر ٹھہرتے ہیں۔ ؎
جس کف میں وہ گل ہو داغ ہو جائے
جس گھر میں ہو گل چراغ ہو جائے
دیو آدمی بن کے بن میں آئے
آتے جاتے کو گھیر لائے
مذکورہ بالا سبھی جہتوں کے زیر نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیا شنکر نسیمؔ کی یہ تخلیق مثنویوںکے انبار میں الفاظ کی شوکت، بندش کی چستی،ندرت تشہیات اور پختگی، صنعتوں کے باکمال فنکارانہ استعمال، معنی آفرینی،نازک خیالی،ایجازواختصار اور اسی نوع کی دوسری فنی خصوصیات کی وجہ سے ایک شہکار کی حیثیت رکھتی ہے اور بعض خصوصیات میں اپنی ایک انفرادیت اور لامثالی کا مقام قائم کرتی ہے۔گلزار نسیم کے سب سے بڑے اور نمائندہ نکتہ چین شررؔنے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ اس مثنوی کی خوبیوں کا اندازہ کرنا ہوتو اس کی شہرت عام کو پرکھا جائے بہ الفاظ دیگر اس مثنوی نے دیگر تمام مثنویوں پر ایک برتری پائی ہے۔ سب سے آخری خوبی یہ ہے کہ نسیم ؔنے یہ مثنوی لکھ کر ایک سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہے۔
رابطہ :کنٹریکچوَل لیکچرار گورئنمنٹ ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول چندوسہ بارہ مولہ۔
فون نمبر:9469447331