عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ تعزیتی مواقع کو سیاسی بیانات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ مرحوم ڈاکٹر مصطفیٰ کمال کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کے گھر آتے ہیں، انہیں باہر نکل کر سیاسی بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی کو سیاست ہی کرنی ہے تو پھر تعزیت کے لیے آنے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا، اگر آپ سیاست کرنا چاہتے ہیں تو تعزیت کے لیے نہ آئیں۔ آپ ہمارے گھر ہمدردی اور تعزیت کے اظہار کے لیے آتے ہیں، پھر باہر جا کر سیاسی بیانات دیتے ہیں۔ غم اور سیاست کو ایک ساتھ نہیں ملانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ غم کی اِس گھڑ ی میں وہ کسی بھی سیاسی معاملے پر بات نہیں کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے سماجی کارکن سونم وانگچک کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا، جو نئی دہلی میں گزشتہ 19 دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ حیران کن بات ہے کہ سونم وانگچک کا بھوک ہڑتال کے دوران تقریباً 9 کلوگرام وزن کم ہونے کی اطلاعات کے باوجود حکومت نے نہ تو ان سے بات چیت کی کوئی کوشش کی اور نہ ہی انہیں بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔
انہوں نے کہا، سیاست اپنی جگہ، لیکن انسانیت اور ہمدردی کو ہمیشہ ترجیح ملنی چاہیے۔ انا ہزارے کی بھوک ہڑتال کے دوران اُس وقت کی ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت نے وزراء کو مذاکرات کے لیے بھیجا تھا تاکہ انہیں ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے، مگر سونم وانگچک سے بات کرنے کی بھی کسی نے کوشش نہیں کی۔ ہمیں نہیں معلوم حکومت آئندہ کیا کرے گی، لیکن ہمیں ان کی صحت پر شدید تشویش ہے۔
تعزیت کے لیے آئیں سیاست گرمانے کیلئے نہیں : وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ