کابل //افغانستان میں تیزی سے رونما ہونے والی سیاسی پیش رفت کے تحت طالبان نے ملک کے نئے وزرائے خارجہ، داخلہ اور انٹیلی جنس چیف کا تقرر کردیا۔ رپورٹ کے مطابق گل آغا وزیر خزانہ، سردار ابراہیم وزیر داخلہ جبکہ نجیب اللہ انٹیلی جنس چیف ہوں گے۔علاوہ ازیں طالبان نے ملا شیریں کو کابل کا گورنر اور حمد اللہ نعمانی کو مرکزی دارالحکومت کا میئر مقرر کیا ہے۔ طالبان کی جانب سے ہمت اخوندزادہ کو قائم مقام وزیرِ تعلیم مقرر کیا گیا ہے۔نو منتخب قائم مقام افغان وزیرِ تعلیم ہمت اخوندزادہ کا منعقدہ میٹنگ میں کہنا ہے کہ طالبان لڑکیوں کی تعلیم کے لیے پرعزم ہیں۔کابل میں الجزیرہ کے نامہ نگار چارلس اسٹریٹ کے مطابق یہ قائم مقام تقرریاں ہیں، جو اس مرحلے پر کسی بھی ممکنہ مستقل حکومت کی عکاس نہیں ہوتیں۔افغان نیوز ایجنسی نے حالیہ پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے مزید بتایا کہ طالبان نے ثنا اللہ کو قائم مقام سربراہ تعلیم اور عبدالباقی کو قائم مقام سربراہ اعلیٰ تعلیم مقرر کیا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز طالبان نے معاشی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے حاجی محمد ادریس کو افغانستان بینک کا عبوری گورنر مقرر کردیا تھا۔ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کے امیر المومنین ہیبت اللہ اخونزادہ کے زندہ نہ ہونے کی میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ترجمان نے کہا شیخ الحدیث ہیبت اللہ زندہ ہیں، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے آنے والے نظام میں ہیبت اللہ بھی شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہیبت اللہ ہمارے امیر المومنین ہیں اور ان کی تجویز کے تحت حکومت قائم کی جائے گی۔