ایجنسیز
ٹوکیو// جاپان کے شمالی ساحل کے قریب جمعرات کو 7.2 شدت کا ایک طاقتور زلزلہ آیا، تاہم جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔جاپان موسمیاتی ایجنسی کے مطابق زلزلہ جاپان کے صوبہ اواتا کے مشرقی ساحل کے قریب آیا۔ ابتدائی طور پر اس کی شدت 6.9 بتائی گئی تھی، جسے بعد میں بڑھا کر 7.2 کر دیا گیا۔ زلزلے کی گہرائی تقریباً 50 کلومیٹر (30 میل) ریکارڈ کی گئی۔دوسری جانب امریکی جیولوجیکل سروے نے زلزلے کی شدت 6.9 بتائی ہے۔یہ جھٹکے ایسے علاقے میں محسوس کیے گئے جہاں حالیہ مہینوں کے دوران متعدد طاقتور زلزلے آ چکے ہیں۔ دسمبر میں آنے والے ایک شدید زلزلے کے بعد ایک ہفتے کے لیے ’میگا کوئیک‘ احتیاطی مشاورتی انتباہ بھی جاری کیا گیا تھا۔زلزلہ جمعرات کی صبح مصروف اوقات میں جاپان کے شمال مشرقی علاقے میں آیا، جس کے جھٹکے دارالحکومت ٹوکیو میں بھی ہلکے طور پر محسوس کیے گئے۔ حکومتی ترجمان مینورو کیہارا کے مطابق فوری طور پر کسی جانی نقصان یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔جاپان کی وزیر اعظم تاکاچائی سانائی نے ٹوکیو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ہنگامی ٹیم صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر امدادی کارروائیوں کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو ممکنہ آفٹر شاکس (بعد کے جھٹکوں) سے محتاط رہنے کی تلقین بھی کی۔صوبہ آموری کے قصبے ہاشیکامی کی ایک پرائمری سکول کی پرنسپل توموکو ناگانے نے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ وہ گاڑی چلا رہی تھیں جب زلزلے کا الرٹ موصول ہوا اور انہیں درمیانی شدت کے جھٹکے محسوس ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول میں موجود تمام بچے محفوظ رہے، اگرچہ بعض خوف کے باعث رو پڑے۔ احتیاطاً اس روز کلاسیں منسوخ کر دی گئیں اور تمام بچوں کو بحفاظت گھروں کو بھیج دیا گیا۔ رپورٹوں کے مطابق سینڈائی اورموروکا سمیت کئی متاثرہ شہروں میں جھٹکے ایک سے دو منٹ تک محسوس کیے گئے۔