یوپی ایس سی میںحالاتِ حاضرہ(Current Affairs) کافی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔پرلمز اور مینز ،دونوں میں ان کا کافی اہم رول ہوتا ہے ۔دیگر مضامین میں آپ کتابیں پڑھ کر تیاری تو کر سکتے ہیں لیکن ظاہر سی بات ہے کہ حالاتِ حاضرہ کی تیاری آپ کتابیں پڑھ کر نہیں کرسکتے۔ اس لیے یوپی ایس سی میں کتابیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ اخبار پڑھنا بھی لازمی بن جاتا ہے۔بالفاظِ دیگر یوں کہہ لیجیے کہ اخبارات یوپی ایس سی کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔اس لیے اخبار بینی کے حوالے سے باخبر ہونا بھی از حد ضروری ہے کہ کون سا اخبار پڑھیں،کتنی مدت تک پڑھیں،اخبار کا کون سا مواد پڑھیں وغیرہ۔اس ضمن میں سب پہلے اس سوال کا جواب جاننا ضروری ہے کہ کون سا اخبار پڑھیں؟۔یہ بات ذہن نشین کر لیجیے کہ آپ ایک قومی سطح کے امتحان کی تیاری کررہے ہیں لہٰذا آپ کو قومی سطح کا اخبار ہی پڑھنا ہوگا۔لیکن اب آپ کو یہ مسئلہ درپیش ہوگا کہ قومی اخبارات میں بھی کون سا اخبار پڑھیں کیونکہ ملکی سطح پر درجنوں اخبارات شائع ہوتے ہیں مثلاً ٹائمز آف انڈیا،دیِ ہندو،دِی انڈین ایکسپریس،ہندوستان ٹائمز وغیرہ۔اخبارات کی بھرمار میں یوپی ایس سی کی تیاری کے حوالے سے جس اخبار کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے ،وہ ہے دِی ہندو (The Hindu)۔یہ قومی سطح پر شائع ہونے والا ایک کثیر الاشاعت اخبار ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ ٹائمز آف انڈیا عوام میں زیادہ مقبول ہے اور اُس کے پڑھنے والوں کی تعداد دی ہندو کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن یوپی ایس سی کے لیے دی ہندو کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔آپ یوپی ایس سی کے کامیاب اُمیدواروں کے انٹرویو بھی پڑھیں یا دیکھیں،وہا ں بھی آپ پر یہی آشکار ہوگا کہ اُن کی اکثریت دِی ہندو کو ہی تیاری کے دوران پڑھتی تھی۔ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں آپ آن لائن بھی یہ اخبار پڑھ سکتے ہیں، اگر اس کی Hardcopyدستیاب نا ہو۔راقم الحروف ذاتی طور پر ہارڈ کاپی پڑھنا ہی پسند کرے گا لیکن یہ چونکہ میری ذاتی ترجیح ہے اس لیے آپ اس حوالے سے مکمل آزاد ہیں۔آپ کو جو بہتر لگے،وہی کیجیے۔ یہ بات تو واضح ہوگئی کہ تیاری کے لیے دی ہندو اخبار منتخب کرنا بہتر ہے ،آئیں اب یہ جانتے ہیں کہ اخبار کو کیسے پڑھیں۔
دی ہندو اخبار چونکہ ایک قومی سطح کا اخبار ہے ،اس لیے اس کے صفحات کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے۔اُتنے صفحات کو اگر آپ مکمل پڑھنے بیٹھ جائے تو ایک دن میں آپ کے کئی گھنٹے اخبار بینی میں ہی صرف ہوں گے۔یوپی ایس سی کا نصاب اتنا متنوع ہے کہ آپ کو روزانہ گھنٹوں پڑھائی پر صرف کرنے پڑتے ہیں ،ایسے میں اخبار پڑھنے کا بوجھ بھی جب کاندھوں پہ ہو تو وقت کے صحیح استعمال(Time management) کا خاص خیال رکھنا از حد ضروری ہوتا ہے۔جہاں ہر مضمون کو مخصوص وقت دینا نہایت اہم ہے وہیں اخبار بھی آپ کو مقررہ مدت کے اندر ہی مکمل کرنا ہوتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اخبار کے درجنوں صفحات کو پڑھنے کے لیے گھنٹوں درکار ہیں،ایسے میں آپ کیا کریں گے۔اس حوالے سے ایک مرتبہ پھر نصاب آپ کی مدد کرے گا۔جیسا کہ راقم نے پہلے ہی اس بات کا ذکر کیا ہے کہ آپ کے پاس نصاب(Syllabus) کی ایک کاپی ہونا از حد ضروری ہے،اخبار بینی کے دوران بھی یہ آپ کا معاون ثابت ہوگا۔یہی آپ کو بتائے گا کہ اخبار میں کون سی چیز پڑھنی ہے اور کون سی نہیں۔جب آپ ابتدائی طور دی ہندو کو پڑھنا شروع کریں گے تو آپ کوکئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مثلاً ممکن ہے کہ اُس کی زبان آپ کے لیے ناقابل ِ فہم ہو یا اخبار میں شائع ہونے والے مضامین آپ کے پلے نا پڑیں،یا آپ کو اخبار پڑھنے میں گھنٹوں لگ جائیںوغیرہ۔ایسی صورتحال میں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ چیزیں خود بخود ٹھیک ہوں گی ان شاء اللہ۔جب آپ اخبار کا مطالعہ شروع کریں گے تو یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ سیاسی خبروں کو نظر انداز کرنا ہے ۔مثال کے طور پر اگر اس طرح کی خبر ہوگی کہ’’ راہول گاندھی نے مودی کی نکتہ چینی کی،کہا بی جے پی نے ملک کو تباہ کیا‘‘ ،’’ مودی کا کانگریس پر پلٹ وار،کہا خاندانی سیاست ہماری روایت کے خلاف‘‘، وغیرہ۔ان خبروں پر آپ سرسری نظر دوڑا سکتے ہیں تاکہ آپ باخبر رہیں لیکن گہرائی سے ان خبروں کو پڑھنا خسارے کا سودا ہے۔مقامی خبروں کو بھی نظر انداز ہی کریں مثلاً کسی مخصوص ریاست کی غیر ضروری خبر جیسے’’ممتا بینرجی نے کیا کئی اسپتالوں کا دورا،ڈاکٹروں کو ڈیوٹی پر رہنے کی تاکید کی‘‘ ،’’آندھرا پردیش میں چار دوکانوں کی لوٹ‘‘ وغیرہ۔ایسی خبریں آپ کے کسی کام کی نہیں۔ایک مرتبہ پھر آپ اگر سرسری طور پر ان خبروں کو دیکھیں تو اُس میں کوئی حرج نہیں ۔اسی طرح بالی ووڈ ،کرکٹ یا Entertainment کی خبریں بھی نظر انداز ہی کریں (جب تک کہ اُن میں کوئی اہمیت کی حامل نا ہو،اور اہمیت کی حامل خبر کون سی ہے اس کی رہنمائی آپ کا نصاب کرے گا)۔پارلیمنٹ کی بِلوں(Bills)،بیرون ممالک کے ساتھ بھارت کے تعلقات ،سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی کوئی نئی پیش رفت ،سپریم کورٹ یا ہائی کورٹوں کے فیصلے،آئینی ترامیم(Constitutional ammendments)،کسی نئی اسکیم یا پالیسی کے حوالے سے جو خبریں آتی ہیں،اُن کا خاص خیال رکھیں۔
ابتدائی ایام میںاگر آپ دیِ ہندو کو ناسمجھ سکیں توآپ دِی انڈین ایکسپریس پڑھیں کیونکہ دِی ہندو کے مقابلے میں اس کو سمجھنا آسان ہوتا ہے۔مگر یاد رکھیں کہ شائد اسی پر اکتفا کرنا کافی نا ہو،اسی لیے جب آپ کی اخبار بینی کی عادت بن جائے اور ذخیرۂ الفاظ(Vocabulary) میں بھی اضافہ ہو تو آپ واپس دِی ہندو کو ہی پڑھنا شروع کریں۔جیسا کہ اس سے قبل بھی کہا جاچکا ہے کہ ابتدائی ایام میں اخبار بینی پر آپ کے کئی گھنٹے صرف ہوسکتے ہیں اور اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگر صورحال میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی تو یقینا یہ امر قابل ِ تشویش ہے۔آپ کو زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے کے اندر ہی اخبار کو مکمل کرنا ہوگا کیونکہ اب یہ بات آپ جان گئے ہیں کہ اخبار کی ہر چیز کو پڑھنے کی چنداں ضرورت نہیں،جو چیز کام کی ہے بس اُسی کا مطالعہ کرنا ہے۔ایک اور بات کی طرف آپ کی توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ مذکورہ اخبار میں شائع ہونے والے بعض اداریے اور مضامین کافی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔اُن کا ضرور مطالعہ کریں۔یہاں بھی نصاب ہی آپ کا معاون ہوگا کہ کون سا اداریہ (Editorial) اور کون سا مضمون لائق مطالعہ ہے اورکس کو نظر انداز کرنا ہے۔مینز امتحان میں اداریے اور مضامین آپ کے لیے کافی مددگار ثابت ہوں گے کیونکہ اولاً تو مینز کا ایک پرچہ ’’Essay‘‘ کا ہی ہوتا ہے،وہاں جب آپ کو کسی موضوع پر مضمون لکھنے کے لیے کہا جائے گا توممکن ہے کہ آپ کی ذاتی رائے اور ذاتی دلائل اتنے پختہ نا ہولیکن جب آپ اداریے اور مضامین کا مطالعہ کریں گے تو یہاں آپ کو اہم مسائل پرماہرین کی آراء ملیں گی،اُن آراء کا استعمال آپ انے مضامین میں کرسکتے ہیں تاکہ آپ کی بات وزن دار بن جائے(حالانکہ ایسا بھی نہیں کہ آپ رٹ کر پھر ہوبہو وہی لکھیں گے)۔دوم مینز کے دوسرے پرچوں میں بھی یہ آپ کی معاونت کرسکتے ہیں کیونکہ ضروری نہیں کہ ہرضروری مسئلے پر فقط مضمون ہی لکھنا پڑے دوسرے پرچوں میں بھی آپ کو مسائل کے حوالے سے مدلل جوبات لکھنے پڑتے ہیں۔
یوپی ایس سی چونکہ راتوں رات کا کھیل نہیں ہے اور اس کے لیے ایک سال یا اس سے بھی زائد عرصے تک آپ کو تیاری کرنی پڑتی ہے،اس لیے ظاہر سی بات ہے کہ ایک سال یا اس سے زائد عرصے کے اندر آپ نے اخبار ات کے اندر کیا اہم چیز پڑھی،اُسے زبانی یاد رکھنا تقریباً ناممکن ہے۔امتحان جب قریب آئے گا تو ظاہر سی بات ہے کہ آپ کو Revision بھی کرنا پڑے گا۔ مگر ایک سال یا اس سے زائد عرصے تک کے اخبارات کا ازسر نو جائزہ لینا ممکن نہیں ہے ،اس لیے جب آپ اخبار کا مطالعہ کریں گے تو ساتھ ہی ساتھ اہم چیزوں کے نوٹ بھی بنا لیجیے۔بہتر ہے کہ اخبارات کے نوٹس کے لیے ایک الگ نوٹ بُک رکھیں اور مختصر و جامع نوٹ بنائیں تاکہ امتحان میں اُن کا Revisionکرنا آسان ہو۔نوٹ بنانے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ روزانہ جو بھی اہم چیز اخبار میں پڑھیں،اُس کو نوٹ بک میں مختصراً درج کریں گے لیکن اس سے بھی بہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے نوٹوں کو مختلف حصوں(Sectionsٰ) میں بانٹ لیں۔مثال کے طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہونی والی نئی پیش رفتوں کا الگ سیکشن بنائیں،اسی طرح آپ جو اہم اداریے اور مضامین پڑھتے ہیں ،اُن کے نوٹ ایک الگ سیکشن کے تحت بنائیں۔سپریم کورٹ یا ہائی کورٹوں کے اہم فیصلوں کا بھی ایک الگ سیکشن بنائیں۔
حالات حاضرہ کے حوالے سے یہ سوال بھی ذہن میں ابھر سکتا ہے کہ کیا اخبار پر اکتفا کرنا ہی کافی ہے؟۔اس ضمن میں آپ کے لیے بہتر ہے کہ آپ ماہانہ شائع ہونے والے ’’Yojna‘‘ میکزین کا بھی مطالعہ کریں ۔اسی طرح انٹرنیٹ پر مختلف وزارتوں کی ویب سائٹوں پر بھی نظر رکھیں تاکہ کسی اہم پیش رفت کے حوالے سے آپ باخبر رہیں۔اسی طرح PIBیعنی پریس انفارمیشن بیورو کی ویب سائٹ کو بھی اہم گردانا جاتا ہے۔بازار وں میں آپ کو یوپی ایس سی کی تیاری کے حوالے سے رسائل و جرائد کی بھر مار ملے گی لیکن اپنے وسائل کو محدود رکھیں ۔محدود وسائل اور بار بار اُن کی نظر ِ ثانی( Revision) ہی ایک سودمند سودا ہے۔
(مضمون جاری ہے ۔ایک نئے پہلو کے ساتھ اگلی قسط انشاء اللہ اگلے ہفتہ شائع کی جائے گی )
برپورہ پلوامہ کشمیر
برقی رابطہ۔ [email protected]