کسانوں کے احتجاج سے ملک کا بچہ بچہ واقف ہو چکا ہے کیونکہ ملک بھر کے کسان پچھلے زائد از 35 دنوں سے دہلی کی سرحدوں پر سراپا احتجاج ہیں ۔یہ وہی کسان ہے جس کے نام کا کبھی نعرہ دیا جا رہا تھا کہ جے جوان جے کسان لیکن آج یہ کسان کسی مظلوم سے کم نہیں ہے۔بقول شاعر؎
منصفِ وقت ہے تو اور میں مظلوم مگر
تیرا قانون مجھے پھر بھی سزا ہی دے گا
کسی بھی ملک کی معیشت کا دورومدار اس ملک کی زراعت پر ہوتا ہے۔ بھارت میں زراعت کو معیشت کی ریڈھ کی ہڈی قرار دیتا جاتا ہے۔ملک میں لوگ مختلف طریقوں سے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں ،کوئی تجارت کرتا ہے تو کوئی سرکاری نوکری، لیکن ملک کی 80 فی صد آبادی کاشتکاری سے منسلک ہے جو اپنے ساتھ ساتھ پورے ملک کے لیے مختلف قسم کی فصلیں تیار کرتے ہیں ،تب جا کر پورے ملک کا پیٹ پلتاہے اور یہ کھانا جو ہمارے گھروں میں پہنچتا ہے، اس کے لیے ملک کا کسان رات دن ایک کرتا ہے۔ کسان صرف اپنے لیے نہیں بلکہ ملک کے لیے جیتا ہے۔ کسان اپنا خون پسینہ نکال کر یہ فصلیں تیار کرتا ہے۔ کسان کے ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے ہیں ۔سال سال بھر کسان کھیتوں میں کام کرتا ہے تب جا کر وہ اپنا اور اپنے گھروالوں کا پیٹ پالتا ہے، بچوں کو پڑھاتا ہے یا اپنی بیٹے بیٹوں کی شادی کر پاتا ہے۔ایسے میں کبھی کبھی بھاڑ آجاتی ہے یا کبھی سوکھا پڑ جاتا ہے یا خدا نخواستہ کبھی فصلیں مختلف قسم کی بیماریوں سے تباہ ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے ملک میں ہر سال کسانوں کی بڑی تعداد قرضداری میں مبتلا ہو جاتی ہے اور ہر سال بہت سارے کسان خودکشی پر مجبور ہو جاتے ہیںیعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسان سب سے مشکل حالات میں کام کرتا ہے۔ اپنی زندگی داؤ پر لگا کر ملک کے لیے کھانا تیار کرتا ہے۔ حلال کمائی کا اگر مطلب پوچھنا ہو تو کسان سے پوچھ لینا چاہیے کیونکہ اس سوال کا جواب کسان سے اچھا کوئی نہیں دے سکتا ۔کسان سے زیادہ حلال کمائی کا مطلب کون سمجھ سکتا ہے ۔ملک کے سیاست دان حلال کمائی اور محنت کا مطلب کہاں سمجھیں گے ۔
افسوس کا مقام ہے کہ آج کل ملک کے کسان سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ ملک کے جس کسان کو کھیتوں میں ہونا چاہیے تھا ،وہ آج دلی کی سڑکوں پر سراپا احتجاج ہے۔ جب سے سرکار نے زرعی اصلاحات کی بل پاس کی ہے،جبھی سے ملک کے کسان احتجاج پر ہیں۔ سرکار کا ماننا ہے کہ یہ بل کسانوں کے مفاد میں ہے۔ ابھی تک سات مرتبہ کسان اور سرکار معاملہ سلجھانے کے لیے آمنے سامنے آ چکے ہیں لیکن سرکار صرف کسانوں کو زرعی قوانین کے فائدے سمجھا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سرکار کو یہ پریشانی ہے کہ کسان ان زرعی قوا نین کو سمجھ کیوں نہیں رہے ہیں یا سرکار اس بات سے پریشان ہے کہ کسان اتنی جلدی ان قوانین کو کیسے سمجھ گئے کیونکہ ملک کے کسان اس بل کو کسان مخالف قرار دیتے ہیں بلکہ کسانوں کا ماننا ہے کہ اس سے کسان بے روزگار ہو جائیں گے اور کسانوں کو اپنی فصل صحیح داموں پر بیچنے کا موقع نہیں ملے گا جبکہ کسانوں کو سرکار کے طے شدہ نرخ ناموں پر ہی اپنی فصل بیچنی ہو گی یانیلام کرنی ہوگی اور ان قوانین کے بعد وہ کسان نہیں بلکہ اپنی ہی زمینوں میں کام کرنے والے مزدور بن جائیں گے۔ اگر کسان ایسا کہہ رہے ہیں تو یقینا ایسا ہی ہو گا کیونکہ یہ بل نفع بخش ہے یا نقصان دہ اس سوال کا جواب بھی کسان سے بہتر کوئی نہیں دے سکتا ہے۔ ملک کے ماہر اقتصادیات بھی ان قوانین کو کسان دشمن قرار دے رہے ہیں ۔ ٹی وی پر بحث کرنے والے لوگ کہاں جانتے ہیں کہ یہ بل فائدہ مند ہے یا نقصان دہ ۔
ملک کے لاکھوں کسان ملک کی راجدھانی دلی میں سراپا احتجاج ہیں لیکن ابھی تک سرکار ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ کسان بھارت کے نہیں بلکہ کسی اور ملک سے آئے ہیں۔ ملک کے جو ارباب اقتدار یہ بل لاگو کر رہے ہیں ،وہ گاڑیوں اور جہازوں میں گھومنے والے لوگ ہیں وہ کسانوں کی حالت نہیں سمجھ سکتے۔سمجھتے تو کسانوں کو سڑکوں پر اترنے پر مجبور نہیں کرتے۔ کسانوں سے اگر چہ بات چیت کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا تاہم بنا کسی نتیجے پر پہنچے اختتام پذیر ہوئی۔ سرکار ہر طرح سے کسانوں پر دباؤ بنانے کی کوشش میں ہے۔کسانوں پر پانی کی بوچھار کی جاتی ہے، ٹیر گیس داغے جا رہے ہیں اور مزید کسانوں کو دہلی پہنچنے سے روکا جا رہا ہے۔ انتہا تو تب ہوئی جب وہاں پر سرکار نے انٹرنیٹ جامر لگا دیا تاکہ کسانوں کی حالت سے باقی ملک واقف نہ ہو۔ حکومت کسانوں کے ساتھ ایسی ہٹ دھرمی پر اڑی ہوئی ہے جیسے کسان اس کے باشندے ہی نہیں ہیں ۔دیکھا جائے تو سرکار اپنی طاقت کا خوب استعمال کر رہی ہے۔
کسان آج ٹھٹھرتی سردی میں سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں۔ وہ بھی تب جب پوری دنیا میں کرونا وایرس کی وبا پھیلی ہوئی ہے اور ہر کوئی اپنی جان بچانے میں لگا ہے لیکن کسان آج اس قدر تنگ آ چکا ہے کہ اسے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں ہے ۔ایسے میں ملک کے کسان اپنے بیوی بچوں سمیت سڑکوں پر ہیں اور سردی کی وجہ سے چند ایک کسان موت کی آغوش میں بھی چلے گئے ہیں۔ حالانکہ کسان مکمل تیاری کے ساتھ یہ احتجاج کر رہے ہیں ۔کھانے پینے اور باقی ضروری اشیاء کی وافر مقدار دستیاب کی جا رہی ہے لیکن سرکار جیسے بہری ہو گئی ہو ۔
ارباب اقتدار کو جہاں کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے خاطر خواہ اقدامات اٹھانے چاہیے تھے وہیں ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں جن سے یہ طبقہ اقتصادی طور پر مزید پچھڑتا جا رہا ہے جس کی زندہ مثال موجودہ زرعی قوانین کا نفاذ ہے۔ ملک کا ذرائع ابلاغ بھی کسانوں کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے جب کہ ذرائع ابلاغ میں کام کرنے والے لوگ بھی کسانوں کے بیٹے یا پوتے ہیں لیکن ذرائع ابلاغ سرکار کی طرفداری کرتا ہوا نظر آ رہا ہے اور اس بے بس اور لاچار طبقے کی بات نہیں سنی جا رہی ہے نہ ہی کسانوں کا پہلو دکھایا جا رہا ہے۔ذرائع ابلاغ کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا بشرطیکہ یہ حقیقت کا ساتھ دیتا ہو اور بکاو نہ ہو۔ اگر چہ حسبِ مخالف کی سبھی جماعتیں کسانوں کے ساتھ کھڑی ہیں تاہم ہر اس شخص کو مختلف الزامات سے نوازا جاتا ہے جو کسانوں کی حالت دیکھنے کے لیے جاتا ہے یہاں تک کہ کسانوں کے اس پرامن احتجاج کو کبھی خالصتان اور کبھی پاکستان سے جوڑنے کوشش کی جا رہی ہے۔
نہ جانے سرکار میں برداشت کا مادہ ختم کیوں ہوتا جا رہا ہے، وہ بھی ایسے ملک میں جسے دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔سرکار کو تنقید کے لیے تیار رہنا چاہیے لیکن سرکار کی تنقید کرنے والوں کو دیش دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ خوش آیند بات یہ ہے کہ کسانوں کے اس احتجاج میں لوگ بلا امتیاز مذہب و ملت شامل ہو رہے ہیں بلکہ ملک کی طلبا تنظیموں کے ساتھ ساتھ مختلف انجمنیں بھی اس احتجاج کا حصہ بنتی جا رہیں ہیں بلکہ اب کشمیری پنڈت بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئے ہیں مگر نہ جانے کیوں سرکار پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے ۔
سرکار کو کسانوں کے احتجاج کو اتنے ہلکے میں نہیں لینا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسانوں کا احتجاج بھیانک شکل اختیار کر جائے ۔کسانوں نے بھارت بند اور بھوک ہڑتال کی بھی دھمکی دی ہے۔ اقتدار کے نشے میں چور حکمرانوں کو چاہیے کہ ایسے کسی بھی اقدام سے پہلے ہی کسانوں کو بلا کر ان سے بات کریں بلکہ ملک کے کسان اگر اس بل کی اس قدر مخالفت کرتے ہیں تو اسے فوراً واپس لیا جانا چاہیے۔ سرکار کچھ چیزوں پر بات کرنے کے لیے تیار ہے لیکن کسانوں کی ضد ہے کہ یہ تینوں قوانین مکمل طور پر منسوخ کر دیئے جائیں۔ کسانوں کے ہاتھوں میں بہت کچھ ہے بلکہ کسان ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں ۔جو کسان پورے ملک کے لیے کھانا تیار کرتے ہیں ،اگر انہوں نے ایک سال بھی کاشتکاری ترک کر دی تو پورا ملک فاقہ کشی پر مجبور ہو جائے گا۔ اللہ نہ کرے کہ اس کی نوبت آئے ۔اللہ کرے کہ یہ مسئلہ جلد از جلد حل ہو اور ملک کے کسان راحت کی سانس لیں۔ ملک کا کسان جانتا ہے کہ اسے ملک کے چند زرداروں کے ہاتھوں نیلام کیا جا رہا ہے جو وہ کسی بھی صورت میں نہیں ہونے دیں گے ۔کسانوں اور سرکار کے درمیان پھر ایک ملاقات طے پائی ہے۔ دنیا امید پر قائم ہے۔ لہٰذا امید کی جا سکتی ہے کہ اس ملاقات کا کوئی اچھا نتیجہ نکل کر آئے اور کسانوں اور سرکار کی یہ رسہ کشی ہمیشہ کے لیے ختم ہو لیکن یہ سب تبھی ممکن ہے جب سرکار اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر زرعی قوانین واپس لے کیونکہ کسان اس سے کم کسی بھی فیصلے پر مطمئن ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں ۔خدانخواستہ اگر یہ ملاقات بھی ناکام ہوگئی تو کسانوں نے 26 جنوری کو ٹریکٹر ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اللہ کرے کہ اس کی نوعیت نہ آئے
حلال رزق کا مطلب کسان سے پوچھو
پسینہ بن کے بدن سے لہو نکلتا ہے
پتہ ۔اویل نورآباد
فون نمبر۔7006738436