محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ کے سرحدی اور دورافتادہ علاقے ساوجیاں کی ہونہار طالبہ حدیقہ گوہر دختر فیاض احمد باندے نے قومی سطح کے باوقار نیٹ (NEET) امتحان میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنے علاقے کی پہلی خاتون ڈاکٹر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ اس شاندار کامیابی پر نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پورے علاقے میں خوشی اور فخر کی لہر دوڑ گئی ہے۔تعلیمی میدان میں اس غیر معمولی کامیابی کو ضلع پونچھ، خصوصاً ساوجیاں کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک ایسے علاقے سے تعلق رکھنے والی طالبہ کا ڈاکٹر بننے کا خواب حقیقت میں بدلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عزمِ صمیم، مسلسل محنت اور بلند حوصلے کے سامنے وسائل کی کمی بھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔حدیقہ گوہر کی کامیابی نے نہ صرف ان کے خاندان کا سر فخر سے بلند کیا ہے بلکہ علاقے کی نوجوان نسل، بالخصوص طالبات کے لیے بھی امید اور حوصلے کی نئی کرن روشن کی ہے۔ ان کی کامیابی اس پیغام کی آئینہ دار ہے کہ اگر لگن اور مستقل مزاجی کے ساتھ منزل کا تعین کیا جائے تو چھوٹے قصبوں اور دور دراز علاقوں کے نوجوان بھی قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔اس موقع پر مختلف سماجی، تعلیمی اور عوامی حلقوں نے حدیقہ گوہر اور ان کے والدین کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ کامیابی پورے خطے کے لیے باعثِ افتخار ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حدیقہ گوہر مستقبل میں ایک کامیاب معالج کے طور پر انسانیت کی خدمت انجام دیں گی اور ان کی کامیابی دیگر بچیوں کو بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول اور بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دے گی۔