زمین پر زندگی زمان، مکان اور مادے کے ابعاد (ٹائم، اسپیس اینڈ میٹر ڈائیمینشنز) میں جکڑی ہوئی ہے۔ انہی ابعاد کے اندر انسان کی کار گزاری آشکار ہوتی ہے۔ انسان، جو دنیا کی تمام حرکت کا مرکزی عنصر ہے، کو کسی بھی کام کی انجام دہی کے لئے وقت (زمان) کے ساتھ ساتھ جگہ (گنجائش، مقام، مکان) اور مادی عناصر کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ اس طرح انسان کو جس خاص حوالہ زمان و مکان میں زندگی گزارنے کا موقعہ دیا گیا ہے، اسی کے اندر رہتے ہوئے اسے اپنی تمام سرگرمیاں انجام دینا ہوتی ہیں۔ انسان ایک لحظہ کے لئے بھی اس ڈھانچے (فریم) سے باہر آکر یا اس سے آزاد ہوکر کوئی کام انجام نہیں دے سکتا۔ اس نظام پر انسان کے اس انحصار کو قرآن نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے:’’اے گروہ جنات و انس! اگر تم میں آسمان اور زمین کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو! بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے۔‘‘ (الرحمن: 33) یعنی انسانوں اور جنوں میں یہ طاقت ہے ہی نہیں کہ وہ ان حدود کو پھلانگ سکیں۔
زمین پر بساکر انسان کو جس امتحان یا آزمائش میں ڈالا گیا ہے، اس سے نبرد آزما ہونے کے لئے اس کے پاس اگر کوئی (بنیادی) سرمایہ ہوتا ہے تو وہ زمان و مکان ہی ہے۔ اس کے علاوہ عطا ہونے والے انعامات کا استعمال زمان و مکان کے اندر ہی ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر رب تعالیٰ کی عنایات کے حسن استعمال سے انسانی زندگی میں ترتیب اور تنظیم آجاتی ہے، جبکہ ان کا سوء استعمال اس ترتیب اور تنظیم میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ رب کی نوازشوں کا بے وقت استعمال بھی ترتیب کو تتر بتر کرتا ہے اور صحیح وقت پر بے جا استعمال سے بھی یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ مادی دنیا جن قوانین فطرت کے تحت کام کرتی ہے، ان کے ہوتے ہوئے بگاڑ اور انتشار کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تاہم انسان کو اختیار اور انتخاب کی آزادی میسر ہونے کی وجہ سے اس ترتیب اور تنظیم کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ قرآن نے ’’حسن‘‘ کی ترکیب کے تحت انسانی زندگی میں متوقع اس ترتیب و تنظیم پر زور دیا ہے: ’’جس (اللہ) نے موت اور حیات کو اس لئے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے (احسن) اچھے کام کون کرتا ہے۔‘‘ (الملک: 2) تقابل کے لئے انسان کو دعوت فکر دی گئی ہے کہ وہ اس تنظیم کا مظاہر فطرت میں بآسانی مشاہدہ کرسکتا ہے: ’’(تو اے دیکھنے والے) اللہ رحمان کی پیدائش میں کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا، دوبارہ (نظریں ڈال کر) دیکھ لے کیا کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے۔ پھر دوہرا کر دو بارہ دیکھ لے، تیری نگاہ تیری طرف ذلیل (و عاجز) ہوکر تھکی ہوئی لوٹ آئے گی۔‘‘ (الملک: 3-4)
البتہ ذی شعور مخلوق ہونے کی وجہ سے انسان سے یہی تنظیم اخلاقی اصولوں، جو مختلف اوقات میں مختلف صورتوں میں نمودار ہوتے ہیں (جیسے معاشرتی، ثقافتی، فکری، وغیرہ)، کے تحت شعوری سطح پر مطلوب ہوتی ہے۔ ترتیب اور تنظیم کا یہ نظام اتنا اہم ہے کوئی چیز اس کی عدم موجودگی میں اس دنیائے رنگ و بو میں قائم رہ سکتی اور نہ اپنا کردار انجام دے سکتی ہے۔ اسی نظم و ضبط کو ہم کبھی پہاڑوں کی زمین پر تنصیب میں دیکھتے ہیں، جو زمین کو توازن عطا کرتی ہے، تو کبھی آبی چکر (واٹر سائیکل) کے حیرت انگیز نظام میں ملاحظہ کرتے ہیں، جس سے نہ صرف ہر جاندار کو زندہ رہنے کے لئے پانی میسر رہتا ہے بلکہ پانی کے ذخائر بھی بذات خود تر و تازہ رہتے ہیں۔ سائنس میں ہم اسی کو ریاضیاتی ترتیب (میتھ مٹیکل آڈر) کہتے ہیں جس کے ذریعے ہم فطرت میں ہر طرف با ترتیب نمونے ملاحظہ کرتے ہیں۔ اس ریاضیاتی ترتیب کو فطرت میں موجود مختلف چیزوں میں دیکھا جاسکتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے مطالعے اور مشاہدے سے جمالیاتی حس کی پژمردگی دور ہونے کے ساتھ ساتھ تخلیقی فکر، تنقیدی سوچ اور مجرد تعقل و تفہم میں انسان کی راہیں کھل جاتی ہیں۔ مادی اور عملی دنیا میں یہ چیزیں انسان کو دعوت فکر دیتی ہیں کہ اپنے اعمال کو بے ترتیب اور منتشر ہونے سے بچائے۔ ایسے نمونوں کا قرآن میں جگہ جگہ ایک خاص پیرائے میں ذکر ملتا ہے جیسے: ’’آسمان اور زمین کی پیدائش، رات دن کا ہیر پھیر، ۔۔۔۔۔ ، ان میں عقلمندوں کے لئے قدرت الہی کی نشانیاں ہیں۔‘‘ (البقرہ: 164)
اس ترتیب کی تفصیل سے انسان کو یہ بات بھی باور کرائی گئی ہے کہ اسی سے فطرت کے ہر کام میں ہم آہنگی پیدا کی گئی ہے جو نتیجتاً اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ کائنات ایک ہی ذات حقیقی کے انتظام و انصرام میں جکڑی ہوئی ہے۔ ذات خداوندی اپنی مخلوق سے اس ترتیب وتنظیم کا قیام اس حد تک چاہتی ہے کہ غیر ذوىالشعور مخلوقات کے لئے ایسے احکام کو جبلت بنادیا گیا ہے جن کی ان مخلوقات کو ایک طرح کی وحی کی جاتی ہے۔ شہد کی مکھی جو ریاضیاتی ترتیب سے اپنا چھتہ بناتی ہے اور بڑے ہی منظم انداز میں ہزارہا پھولوں کا رس چوستی ہے، کے بارے میں کہا گیا ہے: ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی اونچی اونچی ٹہنیوں میں اپنے گھر (چھتے) بنا۔ اور ہر طرح کے میوے کھا اور اپنے رب کی آسان راہوں میں چلتی پھرتی رہ۔‘‘ (النحل: 68-69)
ہم دیکھتے ہیں کہ انسان زمین پر مادے اور روح کے اجتماع سے ظہور پاتا ہے۔ اس لئے اس کو اپنی تسخیر میں آنے والی مادی اشیاء کے حسن انتظام کے لئے زمان یعنی وقت کو ترتیب کے ساتھ صرف کرنا پڑتا ہے یا وقت کی تنظیم کرنا پڑتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں جا بجا اشارے ملتے ہیں۔ تاہم سورہ عصر اس مضمون کو نہایت ہی بلیغ انداز میں بیان کرتی ہے: ’’زمانے کی قسم۔ بیشک (بالیقین) انسان سر تا سر نقصان میں ہے۔‘‘ (العصر: 1-2) امام شافعی ؒ نے حیات انسانی کے وقت کے بے رحم ہاتھوں کے ذریعے ہونے والے مسلسل زیاں اور خسران کو ایک یخ فروش کی پکار سے سمجھانے کی کوشش کی ہے، جو درد بھری آواز میں پکار رہا تھا: ’’اس شخص پر رحم کرو جس کا سرمایہ پگھلا جارہا ہے!‘‘ یہ دراصل ہر انسان کی کہانی ہے۔ یعنی اگر انسان در دست وقت کی تنظیم کرکے اپنے وجود سے متعلق ہر چیز میں ترتیب پیدا نہ کرے تو گھاٹے اور خسران کے سوا کچھ اور نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ تاہم یہ خسران صرف فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانی معاشرے کے ساتھ ساتھ ہر چیز اس کی زد میں آجاتی ہے جو انسان کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو یہ میزان ہر حال میں بنائے رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (الرحمن: 7-9) عام فہم انداز میں اگرچہ یہی سمجھایا گیا ہے کہ عدل و قسط کی میزان کو قائم رکھا جائے تاکہ معاشرے میں عدل گستری کے تقاضوں کا پاس و لحاظ رکھنے کی روایت قائم ہوجائے، لیکن لفظ میزان میں اتنی وسعت ہے کہ یہ نہ صرف انسانی زندگی کے پل پل کا احاطہ کرتا ہے بلکہ جب انسان میزان اعتدال (جس کو قصد یا ’’گولڈن مین ‘‘کہا گیا ہے) کو ملحوظ خاطر رکھکر اپنی زندگی کو ترتیب دیتا ہے تو دنیا کے مادی دائروں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔
زمان و مکان کے اسی حسن استعمال کو ذات رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہایت ہی حکیمانہ انداز میں سمجھایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اولاد آدم قیامت کے روز اپنے قدم نہ ہٹا سکے گا جب تک کہ اس سے تمام عمر، جوانی کے (قیمتی) زمانے، مال کے ذرائع، مال کے مصرف اور علم پر عمل کرنے کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا۔‘‘ (ترمذی) ظاہر ہے کہ اصل میں زندگی کے لمحے لمحے کا حساب دینا ہوگا، تاہم جوانی میں جو کام کرنے کا حوصلہ ہوتا ہے اس پر انسان الگ سے مسئول ہوگا۔ مادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے انسان کو جو مال کمانا اور صرف کرنا پڑتا ہے، اس کی ترتیب و تنظیم کے بارے میں بھی پوچھ گچھ ہوگی۔ ظاہر ہے کہ ان سارے اعمال کی انجام دہی اگر انسان نے حاصل شدہ علم کے مطابق کی ہوگی تو اس کی نجات ممکن ہوگی۔ اسی سے ملتا جلتا مضمون نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد گرامی میں ملاحظہ کیا جاسکتا جس میں ’’جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، خوشحالی کو تنگ دستی سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جاننے کی بات کی گئی ہے۔‘‘(الحاکم) یہاں پر بھی یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ زمان و مکان میں عطا ہونے والے انعامات کا حسن انتظام کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب زندگی میں ترتیب و تنظیم کا اہتمام کیا جائے۔
زندگی میں حسن ترتیب اور خوبصورت تنظیم پیدا کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک اور ارشاد گرامی نہایت معنی خیز ہے۔ آپ ؐ سے سوال کیا جاتا ہے کہ ’’کس صدقے کا بڑا اجر ملے گا؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا کہ ’’انسان اس وقت صدقہ کرے جب وہ صحیح و سالم ہو، اسے افلاس کا ڈر ہو اور اسے خوشحالی کی تمنا ہو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ (صدقہ کرنا) ٹالتا رہے یہاں تک کہ اس کی جان حلق تک آجائے (یعنی اس کی وفات قریب ہو) اور وہ کہنے لگے کہ یہ حصہ فلاں کے لئے اور یہ حصہ فلاں کے لئے، حالانکہ اس وقت تمام کا تمام (سرمایہ) فلاں (یعنی وارث) کا ہی ہوتا ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم) واضح ہوا کہ زمان (وقت) تسلسل کے ساتھ انسان کو مکان (دنیا) سے بے دخل کرتا رہتا ہے۔ اس لئے اگر صحیح وقت پر میسر مادی وسائل سے مفید کام نہ کیے جائیں تو مہلت کے ختم ہوتے ہی یہ وسائل جانشینوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ ان وسائل کا صحیح استعمال کرو جن کا اللہ نے تمہیں خلیفہ (ٹرسٹی، امین) بنایا ہے۔ (الحدید: 7) صحیح وقت پر صحیح استعمال نہ کرنے کی صورت میں انسان ظالم ٹھہرے گا کیونکہ ظلم کے معنی ہی یہ ہیں کہ کسی چیز کو اس جگہ پر رکھا (یعنی استعمال کیا) جائے جو اس کا اصل محل نہ ہو۔
حدیث نبوی ؐمیں انسان کو خبردار کیا گیا ہے کہ ’’ان الدنیا خلقت لکم وانتم خلقتم للآخرہ، یعنی بے شک دنیا تمہارے لئے بنائی گئی ہے اور تمہیں آخرت کے لئے بنایا گیا ہے۔‘‘ جب انسان اس ترتیب کو الٹ دیتا ہے تو وہ مادی دنیا کو اپنے اوپر سوار کرلیتا ہے اور دنیا میں حاصل شدہ مہلت عمل کے ساتھ ساتھ در دست مادی اور فکری وسائل کو ضائع کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان نفسیات کے تحت انسان ہر آن فسق و فجور میں (لیفجر امامہ، القیامہ: 5) مست رہنا چاہتا ہے اور تصور آخرت، جو زمان (وقت) کی ہی ایک مختلف صورت ہے، سے اس طرح جان چھڑانا چاہتا ہے: ’’انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہی ہے۔ ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی مار ڈالتا ہے۔‘‘ (الجاثیہ: 24) لیکن خدا ایک سلیم الفطرت انسان کو زمان و مکان کی ترتیب کا اس طرح خوگر بنانا چاہتا ہے کہ نماز، جو تمام پیغمبران کرام علیہ السلام کی شریعت میں ذکر الٰہی کا معتبر ترین ذریعہ رہی ہے، کو میقات کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے: ’’بالیقین نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے۔‘‘ (النساء: 103) چونکہ نماز کے اندر مجموعی طور پر انسان کی زندگی کو ترتیب و تظیم کی تجلی سے فروزاں کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اس لئے کسی نے اس حسین عمل کو، جو زندگی کے ہر عمل میں حسن پیدا کرتی ہے، حشر کے ساتھ ملاکر کہا ہے:
روز محشر کہ جانگداز بود
اولین پرسش نماز بود
شیخ العالم ؒ کا یہ قول بھی صحیح وقت پر ادا کی جانے والی نماز کی کرشماتی تاثیر کے لحاظ سے انتہائی دلچسپ ہے:
وقتئچ نماز چھے تختس رندے
وقتئچ نماز چھے بندگی
زمان و مکان اور ان میں خدا کی طرف سے عطا کردہ مادی اور غیر مادی انعامات (وسائل) کی ترتیب و تنظیم ہی دراصل تزکیہ اور طہارت کا دوسرا نام ہے، جس سے انسانی زندگی دنیا میں جنت نما بن جاتی ہے اور یہی انسان کو ابدی دنیا میں دار السلام تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
(رابطہ: 9858471965ای۔میل: [email protected])
���������������������������