زرعی اصلاحات کی ضرورت، منطق اور زمانی ترتیب کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان دنوں دروغ بیانیوں کا ایک پورا سلسلہ گردش میں ہے۔اصلاحات کے بارے میں مشہورکیا جانے والا ایک غلط بیانیہ یہ ہے کہ ’’ایم ایس پی منسوخ کردیا جائے گا۔‘‘
نہ صرف مودی سرکار نے پیداواری لاگت کے ڈیڑھ گنا تک ایم ایس پی بڑھانے کی سوامی ناتھن کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کیا ہے بلکہ اس نے ایم ایس پی کو تمام فصلوں کے لیے 40 سے 70 فیصد تک بڑھادیا، اور2009-14 کے مقابلے 19-2014 میںایم ایس پی پر خریداری میں 85 فیصد تک اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہی برسوں کے دوران زراعت کے شعبے کا بجٹ چھ گنا ہوا ہے۔
ایم ایس پی ایک انتظامی میکانزم ہے۔ اگر حکومت کو صرف ایم ایس پی ہی کو منسوخ کرنا ہوتا تو وہ یہ تین قوانین، خاص طور پر ایکوسسٹم کی اصلاحات والا قانون، کیوںلاتی؟ اگر ایم ایس پی کو ہٹانے کا خیال ہی ہوتا تو کیوں حکومت گذشتہ پانچ برسوں میںایم ایس پی میں اضافہ کرتی رہتی؟
کسانوں کی زبوں حالی کا حوالہ دیتے ہوئے جناب راہل گاندھی نے 2015 میں لوک سبھامیں کہا تھا ’’چند سال پہلے ایک کسان نے مجھے دس روپے کی قیمت والے چپس کے بارے میں سوال کیا تھا، جب کہ ہم آلو محض دو روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کرتے ہیں۔ اگر ہم براہ راست فیکٹریوں کو اپنی پیداوار دیں تو بچولیوں کو فائدہ نہیں ملے گا۔‘‘
سوشل میڈیا پر یہ بے بنیاد جھوٹ پھیلایا جارہا ہے کہ کارپوریٹ ادارے کسانوںسے ان کی زمینیں چھین لیں گے۔ قوانین خصوصی طور پر ہمارے کسانوں کے لیے کئی تہوں میں تحفظ فراہم کرتے ہیں، وہ انھیں کارپوریٹ اداروں کے غلط دعووں کو ردکرنے کے لیے قانونی تحفظات دیتے ہیں۔ مزید برآں، ہم نے واضح طور پرمذکورہ قوانین میں کہا ہے کہ ہمارے کسانوں کی اراضی کا حصول یا پٹے پر لینا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگا۔ ہمارے کسان زمین، مٹی اور جنگلات کے محافظ ہیں، اور زمین واقعی ان کی ماں جیسی ہے۔ انھوں نے اس کی دیکھ بھال میں اپنی زندگیاں وقف کی ہیں، اپنا خون پسینہ بہایا ہے۔ ان کی ماں محفوظ ہے۔ ہم کسی کو بھی آکر ان سے ان کی زمین چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے۔
کارپوریشنیں آج بہت سارے شعبوں میں کام کرسکتی ہیں، اور زراعت ان میں سے سب سے منافع بخش شعبہ یقینی طور پر نہیں ہے۔ سو یہ کہنا کہ کہ کارپوریشنیں ہمارے کسانوں کا فائدہ اٹھاکر بہت سی دولت کمالیں گی، ایک بہت ہی مضحکہ خیز بات ہے۔ ہمیں زرعی سپلائی چین میں کارپوریشنوں کی ضرورت ان کے ان پٹس اور مصنوعات کی جانچ، آوٹ پٹ میں سائنسی نقطہ نظر اپنانے، دیہی لچک بنانے کے ساتھ ضروری بنیادی ڈھانچے کی رسائی پیدا کرنے میں ان کے ذریعے قدر بڑھانے کی وجہ سے ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ مثال کے طور پر، کینیا میں،یونی لیور کینیا ٹی ڈیولپمنٹ ایجنسی لمیٹڈ (کے ٹی ڈی اے)کے ساتھ مل کر لچک بنانے اور غریب زمین کے مالکان کو اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ کیا ہمیں بھارتی زراعت میں ایسے بہت سارے اقدامات کی ضرورت نہیں ہے؟
امول کوآپریٹیو کی کامیابی نے ثابت کیا ہے کہ کسی شعبے میں موجود بکھرے ہوئے چھوٹے پیمانے کے پیداواری نظام کے باوجود لوگ مل کر ایک شاندار کامیابی کی داستان تخلیق کرسکتے ہیں۔ آج، امول صرف دودھ پیدا نہیں کر رہا ہے، بلکہ اس کی آمدنی کا بڑا حصہ پراسیس شدہ کھانے کی اشیا سے آتا ہے جنھیں دنیا بھر میں برآمد کیا جاتا ہے۔ ان اصلاحات کے ذریعے ہم اپنے کسانوں کے لیے اسی طرح کی کامیابی کی داستان چاہتے ہیں۔ ہماری حکومت نے دس ہزار فامر پروڈیوسر آرگنائزیشنز بنائی ہیں جو چھوٹے اور غریب کسانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتی ہیں اور انھیں سماجی سرمائے، معلومات اور مول تول کرنے کی طاقت بخشتی ہیں۔
اسی سمت میں کئی دیگر قدم بھی اٹھائے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے مہاراشٹر سے بنگال کے لیے 100 ویں کسان ریل کا افتتاح کیا ہے جس میں کسان اپنے 50-100 کلوگرام کی پیداوار کولڈ چین کوچز میں بھیج سکتے ہیں۔ ایک لاکھ رو کروڑ کے زرعی انفراسٹرکچر فنڈ بنایا گیا ہے تاکہ ضروری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی جاسکے جیسے گوداموں، سردخانوں، چھٹائی، گریڈنگ اور پیکیجنگ اکائیاں، دیہی مارکیٹنگ پلیٹ فارم،ای مارکیٹنگ اکائیاں وغیرہ۔
کسان سمان ندھی ( اس کے تحت پہلے ہی 1,10,000 کروڑ روپے دیے جاچکے ہیں) ہمارے کسانوں کے گزراوقات کے مسائل کو حل کرنے میں مدد مہیا کرتی ہے، جب کہ ان کے وقار کی حفاظت کی جاتی ہے جو ہمارے چھوٹے اور غریب کسانوں کے لیے شدید تکلیف کا باعث تھی۔
ہم نے ایک مضبوط فصل بیمہ میکنزم، پردھان منتری کسان فصل بیمہ اسکیم بنائی، جس کے تحت 17,450 کروڑروپے کے پریمیم پر کسانوں کو 87,000کروڑ روپے کی انشورنس کی رقم ادا کی جاچکی ہے۔
ہم پنجاب اور ہریانہ کو بھارت کے گوداموں کے طور پر جانتے ہیں۔ یہ ریاستیں خوراک کی قومی پیداوار کا تقریباً 30 فیصد پیدا کرتی ہیں، نیز ہماری اہم ایس پی کی 70 فیصد خریداری انھی ریاستوں سے ہوتی ہے۔ نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورول ڈیولپمنٹ (نبارڈ) کے دوسرے 2018 کے ایک مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ تمام زرعی خاندانوں کا 52.5 فیصد مقروض تھا جس کا اوسط قرض 1,470ڈالر تھا۔ وہیں فصوں کی پیداوار کا 30 فیصد حصہ مناسب کولڈ چین بنیادی ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے برباد ہوجاتا تھا، جو خراب ہونے والی غذائی اجناس کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ زرعی شعبہ بہت سے بچولیوں کی وجہ سے، جو اکثر بڑا منافع کماتے ہیں، انتہائی بکھرا ہوا ہے۔
وزیراعظم مودی ، جو ہمیشہ سکھ گروئوں سے تحریک حاصل کرتے ہیں، جپ جی صاحب کی 38 ویں پوڑی کی پیروی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ سنار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ مقصد کے پورے اخلاص، دل کی پاکیزگی، صبر و تحمل اورمضبوط قوت ارادی کے ساتھ اپنے کاشت کار بھائیوں اور بہنوں کی بہبود کے لیے زراعت کے سونے کو خوب صورت زیورات میں ڈھال دینا چاہتے ہیں۔ وہ ان کی جیبوں میں اور زیادہ پیسہ ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ کسان قرض کے چنگل سے آزاد ہوجائیں، دولت کمانے اور روزگار کی نئی راہیں کھلیں اور کارپوریٹ شعبے سمیت ہر معاشی عامل کسانوں کے فائدے کے لیے استعمال ہو۔
ہمارے محنتی کسان ہماری زرعی ریاستوں کو دنیا کے گوداموں تبدیل کر سکتے ہیں۔ زرعی اصلاحات کے قوانین ان کی مد کے لیے صحیح ایکو سسٹم کی تشکیل، ان کی رہ نمائی اور ان کو خود کفیل بنانے کے لیے ہیں۔
(مضمون نگار وزیراعظم نریندر مودی کی وزارتی کونسل میں مکانات و شہری ترقی اور شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر اور صنعت وتجارت کے وزیر مملکت ہیں)