زبان خدا کی عطا کی ہوئی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ کہنے کو تو یہ مضبوط جبڑوں کے بیچ ایک نرم گوشت کا ٹکڑا ہے لیکن یہی زبان انسان کے جسم میں سارے اعضاء کی ترجمان بھی ہے اور لیڈر بھی۔اس کے بنا جسم کے سارے اعضا گونگے ہیں اور مجبور بھی۔بھلائی اور برائی میں اس زبان کا بہت بڑا دخل ہے۔اس کو آزاد اور خودمختار رکھنے والا ہلاکت اور بربادی کے گڑھے کی طرف جاتا ہے لیکن جواس پر شریعت کی لگام لگاتا ہے وہ اس کے فساد اور شر سے محفوظ رہتا ہے۔زبان اعضائے انسانی میں سب سے زیادہ بے قابو عضو ہے کیونکہ اس کے استعمال میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔اتنا ہی نہیں بلکہ یہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جو وہ انسان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔زبان انسان کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے اور طاقت بھی۔زبان انسان کو حیوان ناطق کا درجہ بھی دیتی ہے اور اسفل سافلین تک گرا بھی دیتی ہے۔زبان سے انسان زہر بھی اگل سکتا ہے اور شہد بھی۔زبان ایک فلسفہ ہے ،تصوف ہے ،ذکر ہے ،شکر ہے،ایمان ہے ،وعدہ ہے ،عقیدہ ہے ،اعتبار ہے ،رشک ہے ،عشق ہے،محبت ہے ،مٹھاس ہے اور زبان ایک مذہب ہے کہا جاسکتا ہے کہ یہ گوشت کا ٹکڑا پوری کائنات ہے لیکن یہی زبان کسی بم سے بھی کم نہیں ہے ۔کسی شاعر نے کیا خوب فرمایا ہے ؎
تیغ و تبر سے گہرا ہے لفظ و بیاں کا زخم
نشتر سے تیزتر ہے جراحت زبان کی
جس نے زبان روک لی، وہ پا گیا نجات
کم بولنا، ہے اصل کرامت زبان کی
زبان میں نہ لوہا ہے اور نہ ہی ہڈی۔پھربھی اس کا دیا ہوا زخم کبھی بھرتا نہیں ہے ،وہ ہمیشہ ہرا رہتا ہے۔تلوارسے جسم زخمی ہوتا ہے لیکن زبان سے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور دل کے ساتھ ساتھ دھڑکن بھی درد محسوس کرتی ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ زبان کی کئی قسمیں ہیں جیسے لمبی زبان ، کڑوی زبان ، میٹھی زبان ، کالی زبان اورجھوٹی زبان وغیرہ ۔یہ بات یاد رکھئے کہ زبان نیکی اور بدی کے دروازوں میں سے ایک اہم دروازہ ہے۔ لوگ جہنم میں اوندھے منہ اپنی زبان ہی سے کہی ہوئی باتوں کی وجہ سے ڈالے جائیں گے۔تکلم اور خاموشی کا موازنہ کیا جائے تو تکلم چاندی ہے اور سکوت سونا۔
حدیث مبارک میں آیا ہے کہ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہئے کہ وہ اچھی اور بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔زبان کو بے معنی باتوں سے محفوظ رکھو کہ فرزند آدم کی خطاؤں کا زیادہ حصہ زبان ہی سے متعلق ہے اور زبان سے زیادہ کسی عضو کے گناہ نہیں ہیں۔خاموشی حکمت کے ابواب میں سے ایک دروازہ ہے۔وہ کہتے ہیں نا کہ کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکلی ہوئی بات کبھی واپس نہیں آتے۔لہٰذا زبان کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے۔زبان کو دل کے پیچھے رکھنا چاہیے تاکہ غوروفکر کے بعد ہی کلام کیا جائے۔جو لوگ زبان کو آگے رکھتے ہیں وہ اکثر چاپلوس ہوتے ہیں۔ ان کی باتوں میں سچائی نہیں ہوتی اور وہ من کے کالے بھی ہوتے ہیں۔خاموشی سے شرمندگی نہیں ہوتی لیکن کلام بعض اوقات دنیا اور آخرت دونوں میں شرمندہ بنا دیتا ہے۔
انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا رہتا ہے۔زبان کی خرابی شخصیت کا بیڑا غرق کردیتی ہے اور یہی زبان خراب شخصیت کو بھی پرکشش بنادیتی ہے۔ایک اور حدیث مبارک میں آیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مجھے اپنے دو جبڑوں کے درمیان کی چیز( زبان) کی اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز( شرمگاہ) کی ضمانت دے دے تو میں اس کے لئے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔اس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ زبان دراز مومن نہیں ہوسکتا۔زبان کو تابع رکھنا ایک عظیم کارنامہ ہے۔جو زبان پر قابو پانے میں کامیاب ہوا وہ قدرتی طور پر گالی گلوچ ،غیبت ،چغلی،جھوٹی گواہی اور برائی کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔
حدیث نبوی ہے کہ آدمی کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل سیدھا نہ ہوجائے ، اور دل اس وقت تک سیدھا نہیں ہوسکتا جب تک زبان سیدھی نہ ہوجائے۔تو معلوم ہوا کہ زبان انسان کے باطن کی ترجمان ہے۔جو انسان جتنا نیک سیرت اور پاک ہوتا ہے ،اس کی زبان بھی اتنی ہی میٹھی ہوتی ہے،اس کے کلام میں اثر ہوتا ہے اور سچائی بھی۔ایک بڑے بزرگ نے فرمایا ہے کہ آدمی قیامت کے دن نیکیوں کے پہاڑ لے کر آئے گا ،وہ دیکھے گا کہ اس کی زبان نے وہ تمام پہاڑ ملیامیٹ کردیئے ہیں اور انسان گناہوں کے پہاڑ لیکر آئے گا اور وہ دیکھے گا کہ اللہ کے ذکر اور اس جیسی چیزوں سے وہ گناہوں کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگئے ہیں۔زبان سے اللہ کا شکر ادا کرنے سے گناہ مٹ جاتے ہیں اور کفر کرنے سے نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں۔ زبان سے کیے جانے والے گناہ بہت ہی آسان اور سَرل ہوتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ انسان جب صبح سویرے جاگتا ہے تواس کے جسم کا ہر عضو زبان سے فریاد کرتا رہتا ہے کہ خدا کے لئے ہمیں جہنم میں نہ ڈال دینا۔
اب ذرا دوسرے پہلو پر غور کریں۔ زبان کا دوسرا معنی وعدہ کرنا ہے یعنی زبان دینا۔یہ اکثر اوقات پر استعمال ہوتا ہے کہ میں نے تجھے زبان دی ہے۔یہ مرد کی زبان ہے یا زبان سے کسی کی لڑکی کسی کے نکاح میں آتی ہے وغیرہ وغیرہ۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہماری زبان واقعی وعدہ ہے یا دھوکہ دہی کا سامان۔آج کل کے لوگوں میں یہ بات اتنی قدر نہیں رکھتی جتنی ہمارے جدواجداد میں ہوتی تھی۔وہ کم علم تھے لیکن سچے تھے۔وہ قدر شناس اور عامل تھے۔لیکن زمانے نے کروٹ کیا بدلی، لوگ ہر اس وعدے کو توڑتے ہیں جو نفع بخش نہ ہو یا جس میں سامنے والے کا فائدہ زیادہ ہو یا کسی اور سے زیادہ فائدہ مل رہا ہو۔یہ دغابازی عام ہوگئی ہے۔لوگوں کے قول وفعل میں تضاد ہے۔جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں اور جو کرتے ہیں وہ کہتے نہیں۔دلوں میں کھوٹ ہوتا ہے۔خوشامدی کی ریت نے مکاری اور عیاری کو فروغ دیا ہے۔لوگ خوشامدی کے عادی ہوگئے ہیں اور اپنا مطلب نکالنے کے لیے لوگ ایک شیطان کو مومن کا درجہ دیتے ہیں۔خوشامدی کا روگ کسی جان لیوا بیماری سے کم نہیں ہے۔یہ زبان درازی کا سب سے بڑا جرم ہے کہ ہم سچائی کے بجائے جھوٹ موٹ کی تعریفیں کریں اور اپنا مطلب نکالیں۔یہ منافقانہ خصلت ہے جو یقیناجہنم میں داخل کرے گی۔آج ہاں کل نا کے پراپیگنڈے نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ یہ سب زبان کی وجہ سے ہوا ہے۔ہمیں خوش اخلاقی اور خوش گفتاری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ’’زبان‘‘ چارحرفی ہے لیکن بے شمار الفاظ بولتی ہے، ان میں کچھ میٹھے ہوتے ہیں اور کچھ کڑوے۔آج کے دور میں سچ بولنے والے شخص کو نقصان ہی اٹھانا پڑتا ہے حالانکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میٹھے بول اس نذر و نیاز سے بہتر ہے جس سے کسی کو تکلیف پہنچے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زبان کا درست استعمال عبادت ہے۔ہمیں زبان کو جھوٹ ،غیبت ،چغلی ،گالی گلوچ ،بہتان اور جھوٹی گواہی جیسے گناہ کبیرہ سے پاک رکھنا چاہیے اور خدا کی تسبیح بیان کرنی چاہیے۔یاد رھے زبان ایک قینچی بھی ہے جو ایک پل میں مضبوط سے مضبوط رشتے کو بھی کاٹ دیتی ہے۔اللہ نے ہمیں دو کان اور ایک زبان اس لیے دی ہیں تاکہ ہم زیادہ سنیں یعنی دوسروں کی باتیں سنیں ،ان پر غور کریں اور جو اچھی لگیں ،ان کی تعریف کریں اور بہت کم بولیں۔کم بولنے والے زیادہ عقلمند ہوتے ہیں اور زیادہ بولنے والے چاپلوس۔انسان کی شخصیت اس کی زبان سے ظاہر ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہماری زبان پر قابو عطا فرمائے اور اچھی اخلاق کا اسوہ حسنہ بھی۔زبان کا تعلق دل سے ہے، جتنا دل صاف ہوگا اتنا ہی کلام بھی میٹھا ہوگا۔زبان ایک ایسی نعمت ہے جو اس دنیا میں انسان کے سوا کسی اور کو نہیں دی گئی۔ اگر زبان کو بقدر ضرورت استعمال کیا جائے تو اس میں انسان کے لئے نہایت عظیم فائدے ہیں اور اگر اسی زبان کو غیر ضروری کاموں میں استعمال کیا جائے تو یہ انسان کے لئے انتہائی مضر بن جائے گی۔
رابطہ۔قصبہ کھُل ،کولگام کشمیر
ای میل۔[email protected]