جموں// اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے جمعرات کے روز بعض سیاسی رہنماؤں کے غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ اعتراض تبصرے پر شدید افسوس کا اظہار کیا جو جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ایک بیان کے مطابق بخاری پارٹی صدر دفتر جموں میں یوتھ ونگ کے استقبالیہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔اپنی پارٹی کے صدر نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے حالیہ ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ نام نہاد عوامی اتحاد سے وابستہ قائدین جموں و کشمیر کے عوام کو ہمیشہ تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپنے قیام کے بعد سے ، اپنی پارٹی جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں تاکہ عوام کو ایک منتخب اور جوابدہ حکومت مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اب اپنی پارٹی کا یہ مقصد پورا ہونے والا ہے ،لیکن کچھ قائدین اس عمل کو روکنے کی کوششیںکر رہے ہیں۔بخاری نے کہا کہ حکومت ہند کو جموں و کشمیر کے لوگوں کے دکھ اور تکالیف کا احساس بھی ہوا ہے اور اسی وجہ سے مرکزی وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ میں حالیہ تقریر میں ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق اپنے وعدے کا اعادہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کے ذریعہ کھیلی جانے والی دو ٹوٹکوں کی پالیسی اچھی طرح سے قائم ہے جس کیلئے جموں و کشمیر کی سات دہائیوں کی تاریخ خاموش گواہی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رہنما جذباتی بیان بازی کرتے ہوئے کچھ مخصوص الفاظ میں تجربہ کرتے ہیں۔ تاہم ، لوگ اب ان کے ٹوٹکوں میں آنے والے نہیں ہیں۔اپنی پارٹی کے صدر نے مزید کہا، ’’ جموں و کشمیر میں بہت سے سیاسی رہنما اس وجہ سے مبہم بیانات دیتے ہیں کیونکہ انہیں خوف ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام ان کی بدانتظامیوں اور کئی دہائیوں سے ہونے والی جذباتی بلیک میلنگ کیلئے انھیں جوابدہ ٹھہرائیں گے‘‘۔ بخاری نے کہا، ’’وہ فی الحال گمراہ کن بیانوں کے ذریعے جموں و کشمیر کے سیاسی میدان میں اپنے آپ کو معزز بنانے کی سخت تک و دو میں ہیں، مجھے حیرت ہے کہ یہ قائدین کیوں ریاستی درجہ کی بحالی کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں اور اس میں خلل ڈال رہے ہیں جو لوگوں کے معاشرتی اور معاشی و سیاسی استحکام کی ضمانت دیتا ہے‘‘۔