عظمیٰ ویب ڈیسک
شوپیاں/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کو اپنے باہمی مسائل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہئیں اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے حق میں آواز اٹھانے پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔شوپیاں میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نےکہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، تاہم گزشتہ سال پہلگام واقعے کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا۔
انہوں نے حال ہی میں وزیر اعظم کو مبینہ طور پر لکھے گئے اس خط کا حوالہ دیا جس میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی اپیل کی گئی تھی، اور کہا کہ ایسی اپیل پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔وزیر اعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ جب جموں و کشمیر کے رہنما دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور بہتر تعلقات کی بات کرتے ہیں تو انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر اسی نوعیت کی بات آر ایس ایس کے سینئر رہنما کریں تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے مشہور قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’دوست بدلے جا سکتے ہیں، مگر ہمسائے نہیں۔‘‘عمر عبداللہ نے کہا کہ مقصد یہی ہونا چاہیے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مذاکرات، باہمی اعتماد اور پرامن روابط کے ذریعے تعلقات کو بہتر بنایا جائے۔
ہند-پاک کو تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہئیں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ