موجودہ دور میں اردو افسانہ اپنی شناخت قائم رکھنے میں اردو کی دوسری اصناف میں سرفہرست ہے. اس لئے محققین اکیسویں صدی کو افسانے کی صدی قرار دیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ موجودہ دور میں ہر پل ایک نیا رجحان اور موضوع جنم لے رہا ہے، چاہے وہ قومی سطح کے مسائل ہوں یا بین الاقوامی موضوعات، ذات پات، رسم و رواج، فرقہ پرستی، نسلی تنازے،انتہا پسندی، ملکوں کے سرحدی جھگڑے یا پھر عام انسان کے نجی مسائل انہیں مختلف مسائل نے نئے پرانے لکھنے والوں کو افسانے کی دہلیز پر لاکھڑا کر دیا ہے۔اور وہ سارے موضوعاتی چلینج بھی ختم کر دیے ہیں جن کا ایک ادیب کو سامنا کرنا پڑتا تھا۔اب سوال یہ ہے کہ اگر ادیب کے لئے موضوعاتی اعتبار سے کوئی چلینج نہیں رہا لیکن قاری اس دور میں کون سا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے؟ قاری نے کہانی میں ہمیشہ بیانیہ انداز پسند کیا ہے اور اس صدی میں کہانی کار نے بیانیہ انداز اپنا کر قاری کو واپس کہانیوں کی دنیا میں لا کھڑا کر دیا ہے۔اب جب کی قاری کہانیوں کے قریب آنے شروع ہوگئے تو ایسے میں ایک کہانی کار کا تحقیقی شعور اور نظریہ بھی وسیع ہوتا چلا گیا۔ لیکن کہیں پر کہانی کار موضوعاتی اعتبار سے افسانے کی اس صدی میں بھی مجبوری کی لاٹھی تھامے نظر آتا ہے۔ اس بات کا ایک ثبوت ہم جموں کشمیر کے کہانی کاروں کا بھی دے سکتے ہیں۔وہ اپنے نجی مسائل اور کشمیر کے روزمرہ کے بدلتے حالات میں اتنے گرفتار ہوئے ہیں کہ یہاں سے باہر نکلنا ان کے لئے ایک چیلنج رہا،لیکن اس کے باوجود بھی جموں کشمیر میں کچھ ایسے کہانی کار موجود ہیں جنہوں نے اس چیلنج کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے خیالات کو آزادی دی ،جن میں ایک اہم نام راجہ یوسف کا بھی ہے۔ جن کے افسانوں کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ احساس ہو جاتا ہے کہ انہیں موضوعاتی اعتبار سے کسی مخصوص دائرے کے اندر لپیٹ نہیں سکتے۔ وہ موجودہ دور کے مختلف موضوعات کو اپنے قلم کی نوک سے کاغذ پر ترا شنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ حالانکہ اردو میں کسی ایک موضوع پر لکھنے والوں کو اس موضوع کے اعتبار سے جو نام ملا ، وہ ان کی پہچان بن چکا ہے۔ جیسے پریم چند کو چلتا پھرتا گاؤں کہا گیا، منٹو پے فحش افسانہ نگار کی لیبل لگائی گئی۔ جہاں تک جموں کشمیر کے افسانہ نگاروں کی بات کی جائے تو نور شاہ کو رومانیت کے ترازو میں تولا گیا۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی کو درد کشمیر کا کہانی کار کے لقب سے نوازا گیا۔ اگرچہ راجہ یوسف صاحب کے ہاں ایک مخصوص موضوع نہیں لیکن ان کے افسانوں میں زندگی کی حقیقت کو جس طرح پیش کیا گیا ہے ،آنے والے وقت میں قارئین سے انہیں بھی کوئی لقب ملے گا۔ راجہ یوسف کے متنوع انداز کا اعتراف کشمیر کے معروف افسانہ نگار، ناقداور اقبال شناس ڈاکٹر ریاض توحیدی نے بھی کیا ہے، وہ راجہ یوسف کی افسانہ نگاری کا احاطہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔’’ راجہ یوسف کے افسانوں کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ یہ متنوع موضوعات پر تخلیق ہوئے ہیں جو کہ رومانوی، سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی اور عائلی موضوعات کی دلچسپ فنی عکاسی کرتے ہیں‘‘۔حالانکہ اس متنوع انداز کے لئے ہر موضوع پر گہری تحقیق اور وسیع مطالعے کی ضرورت ہے۔لیکن پھر بھی راجہ یوسف نے ایک مصور کی طرح ان موضوعات کو خیالات کے پیکر میں ڈال کر ایسی کہانیاں بنی ہیں جن میںلوگوں کی دھڑکنیں نظر آتی ہیں ۔جو انہوں نے بحیثیت کہانی کار خود بھی محسوس کی تھی ۔راجہ یوسف کی کہانیوں کے عنوانات کو اگر ہم لفظوں کا جامہ پہنائیں تو وہ اپنے اندر خیالوں کی ایک وسیع دنیا بسائے بیٹھے ہیں،خیالوں کی دنیا کو رنگوں سے بھرنے کے لیے رنگ میں بھیگا برش آپ کی انگلیوں اور کلائیوں کی نزاکت کے تین عکس چھوڑ دے تو سمجھ جائے گا کہ خیالات کی دنیا امنگوں سے بھر چکی ہے۔ورنہ جذبات ہمیشہ’’نقش فریاد‘‘ کرتا آپ کو ناکام رنگساز کہتے مر جائے گا اور ساتھ میں احساس جو صدیوں کی فکر اور سوچ لیے’’مکڑی‘‘ کے جالے کی طرح خود کو پھیلائے اپنے کناروں سے آزاد ہوکر اپنا اکار کھو دے گا۔ لیکن ایسے میں کیا کیا جا سکتا ہے اس خیالی دنیا کو آباد کرنا ’’ناقابل تنسیخ‘‘ ہی تو ہے چاہے یہ ایک’’ضدی‘‘ بچے کے اسکول جانے کے پہلے دن سے ہی کیوں نہ ہو، جب اس کے ہاتھ میں کھانے کا ٹفن دیا جاتا ہے اور کندھے پر کتابوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے تو اس کے دل میں پہلا احساس احتجاج ہوتا ہے۔ وہیں سے شروع ہوتا ہے من میں خیالوں کی دنیا کو سجانے کا سلسلہ اور ختم ہوتا ہے ’’گورکن‘‘ کی دہلیز پر۔انسان اپنے خیالوں کا بادشاہ ہوتا ہے۔ جو اپنی مرضی سے خیالوں کے دھاگوں میں مستقبل کی لڑیاں پروتا من ہی من مسکراتا دنیا کی بے ثابتی سے کہیں دور آزاد فضا میں مسکراتے لبوں سے دھاگے میں پروئے موتیوں سے بنے سنہرے لفظوں کو بار بار اپنی زبان سے آزاد کرتا ’’کن فیکون‘‘ ہو جا اور ہو جاتا ہے، وہ سب جسے وہ ترتیب دے رہا ہوتا ہے۔اب سوال یہ بھی تو ہے! کیا اس کے لیے یہ بہترین’’سبیل ہے‘‘؟ ہاں ہے نا وہ راستہ جس میں سنہری گھاس اس کے کھردرے پاؤں کو کچھ پل کے لیے آرام اور سکون میسر کرتی ہے۔ شاید ایسا نہ کرنے پر ’’درد حد سے بڑھ جائے‘‘ لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ خیالوں کی دنیا آباد کرنا ایک ’’نالائق‘‘ کا کام ہے۔ کبھی حقیقت نہ ہوں گے۔لیکن وہ ’’بزدل‘‘ نہیں وہ ’’چیل‘‘ کی طرح تیز نظررکھتا ہے ’’چنار‘‘سے بڑا سایہ پھیلانا چاہتا ہے لیکن وہ ’’چوزے‘‘کی طرح خیالوں میں قید پھنک پھیلانے نے سے قاصر ہے ،وہ جانتا ہے پنکھ آنے کے بعد ایک بار گھونسلے سے نکلا شاید کبھی واپس نہ آئے۔ یہاں اس کے خیالوں کی دنیا محدود ہو جاتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے صبح کی ’’روشنی کے لٹیرے‘‘ ساتھ میں اس کی ’’پلکوں میں چھپے خواب‘‘ بھی لیے اوڑھے اسی لئے تو وہ اپنے قیدخانے کی ’’بند کھڑکی کا کرب‘‘ مدتوں سے سہ رہا ہے اور ایک نئی ’’عید‘‘ کے انتظار میں حقیقت اور خیالوں سے آنکھ مچولی کھیل رہا ہے ،جس دن اس کے خیال اپنی ایک نئی دنیا بسا لیں گے جن پر وہ برسوں سے توکل کئے ہے، اُس دن اسے ’’انسانیت‘‘ سے ’’بو‘‘ آنے لگے گی ۔جیسے راجہ یوسف کے افسانے ''مانگے کا اجالا ''اور ''مزاق'' میں اس بو کا انداز ہو جاتا ہے کہ کیسے جبار بٹ جیسا شخص سماج کی بنائی ہوئی رسموں کی اونچی دیواروں کو پھلانگ نہیں سکتا، اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کے لئے وہ اپنے سینے کے اندر گولیاں کھاتا ہے۔
افسانہ مانگے کا اجالا سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو ۔ ’’جبار بٹ پانچ دن پہلے شام کی نماز پاس والی مسجد میں ادا کرنے کے بعد غائب ہو گیا تھا۔ تلاش بسیار کے باوجود نہیں ملا۔ راتوں رات بات پھیل گئی ،جبار بٹ کو یا تو نامعلوم افراد نے اغوا کیا ہے یا کسی تعذیب خانے میں بند پڑا ہوگا۔‘‘جبار بھی یہی چاہتا تھا کہ سب یہی سمجھے اسے کسی نے اغوا کیا ہے یا گولی مار کے مار دیا ہے۔تاکہ سرکار کی طرف سے اس کے گھر والوں کو پیسے اور نوکری ملے اور اس کی دو بیٹیوں کے ہاتھ پیلے ہو جائیں۔لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔
افسانے سے اقتباس :
’’ آج ہڑتال ختم ہوگی ۔۔۔۔ہسپتال والوں نے جبار بٹ کی موت کو قتل نہیں بلکہ خود کشی قرار دیا۔لوگوں کا غصہ افسوس میں بدل گیا۔ہر چہرے پر ندامت کا پسینہ تھا۔سرکار خوش تھی ،ان کا ایک لاکھ بچا تھا اور نوکری بھی۔‘‘ اب سوال یہ ہے کہ جبار بٹ کیا دے کے چلا گیا؟ اپنوں کے لئے سسکیاں اور آہیں! اور چند امیدیں کہ کبھی کسی دن یہ بے رنگ ہاتھ پیلے ہوں گے لیکن انہیں پیلا کرے گا کون۔ افسانہ نگار نے افسانے کے آخر میں قاری کو احساسات اور جذبات کے سمندر میں غوطہ زن کر دیا ہے ،قاری جبار بٹ کے جانے کے بعد اس کے گھر والوں کے مستقبل کی سوچ لیے دوسری کہانی کے بنے پلٹنے لگتا ہے۔
افسانہ مذاق قاری کی آنکھوں میں ایک عکس باندھ دیتا ہے۔ جس میں اسے اپنے اردگرد سوکھے ہونٹ، پھٹے پرانے کپڑے،اداس نظریں،کھردرے پیر،مٹی بھرے جسم والے آدمی صدیوں سے کسی امید کے منتظر کھڑے نظر آتے ہیں۔ شاید وہ اپنے حاکم کے منہ سے ایک بار اپنے حق میں کوئی ایسا فیصلہ سننا چاہتے ہوں،جن سے ان کی مفلسی کے دن دور ہوں جائیں۔ لیکن افسوس وہ حاکم اپنی کرسی پہ بیٹھے ان لوگوں کو بھول چکا ہوتا ہے، جس کرسی کے چار پائے ان کسانوں اور مزدوروں کے کندھوں پر ٹکے ہوئے ہیں۔
افسانہ مزاق سے ایک اقتباس :’’ منسٹر صاحبان اور افسران حضرات VIP گاڑیوں میں چلے گئے تھے۔لیکن اس بھاگ دوڑ میں وہ ان سیلاب متاثرین کو بھول ہی چکے تھے۔ جن کو حاکم اعلیٰ سے ملانے کے لئے مفت گاڑیوں میں دور دراز علاقوں سے یہاں تک لایا گیا تھا۔ جن کو ملانے کے بعد میں ضرورت ہی نہیں پڑی تھی۔ اب یہ شہر بے پرساں کے لوگ سڑکوں پر حیران و پریشان کھڑے تھے۔ پھر ان کے قدم آس پاس کی کسی ایسی مسجد یا گردوارے کی تلاش میں اٹھ گئے تھے، جہاں پر اب بھی سینکڑوں بے آسرا لوگ رہے تھے'۔راجہ یوسف صاحب نے اس افسانے میں ملک کی حکومت چلانے والوں کا اپنی عوام کے ساتھ برتاو کا ایک پہلو بیاں کیا ہے ۔لیکن اگر دیکھا جائے تو ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو مہینوں سے اس دن کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب حکومت ان کے حق میں فیصلہ سنائے لیکن حکومت کی بے رخی آخر کار انہیں ناامید کر دیتی ہے پھر وہ کسی سنسان سڑک کا کنارہ پکڑ کر اپنی زندگی سے ناراض بنامطلب جیے جاتے ہیں۔
(مضمون جاری ہے ،بقیہ اگلی سنیچر کو ملاخطہ فرمائیں)
رابطہ۔9906700711