مڈل سکول نمبلاں کے کمیٹی دورہ کے بعدمجاز غیر حاضری پرکارروائی کی گئی
سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری میں محکمہ تعلیم نے سخت کارروائی کرتے ہوئے مڈل اسکول نمبلاں کے چار اساتذہ کو مبینہ طور پر طویل اور غیر مجاز غیر حاضری کے الزام میں معطل کر دیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب محکمہ کو اسکول میں اساتذہ کی مسلسل غیر حاضری سے متعلق شکایت موصول ہوئی۔محکمہ کے ذرائع کے مطابق شکایت کے بعد فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے دو لیکچررز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے اسکول کا اچانک معائنہ کیا۔ معائنہ کے دوران اسکول میں انتظامی اور تعلیمی سطح پر سنگین کوتاہیوں کا انکشاف ہوا، جس نے محکمہ کو سخت قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔
معائنہ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اسکول میں تعینات پانچ اساتذہ میں سے صرف ایک استاد، عبدالشکور، موقع پر موجود تھے جبکہ باقی چار اساتذہ ، ایاز احمد (سوم استاد)، محمد جہانگیر (ریگولرائزڈ آر ای ٹی ٹیچر)، وکرم بالی (استاد) اور مشتاق احمد (گریڈ دوم استاد) بغیر کسی منظور شدہ رخصت کے غیر حاضر پائے گئے۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں طلبہ کی کم حاضری پر بھی تشویش ظاہر کی۔ رپورٹ کے مطابق 123 درج شدہ طلبہ میں سے صرف 28 طلبہ معائنہ کے دن حاضر تھے، جو تعلیمی ماحول کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ اسکول کی مجموعی کارکردگی کو ‘‘انتہائی ناقص’’ قرار دیا گیا ہے۔چیف ایجوکیشن آفیسر راجوری، محمد حفیظ نے اس صورتحال کو ’سنگین بدعنوانی، لاپرواہی اور فرائض سے غفلت‘ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر چاروں اساتذہ کو جموں و کشمیر سول سروسز کے قواعد کے تحت معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔جاری کردہ حکم نامے کے مطابق معطل شدہ اساتذہ کو ضابطے کے مطابق گزارہ الاؤنس فراہم کیا جائے گا۔ معطلی کے دوران استاد وکرم بالی کو زون ڈھونگی کے گورنمنٹ پرائمری اسکول جبر دھارا کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے، جبکہ باقی تین اساتذہ ایاز احمد، محمد جہانگیر اور مشتاق احمد کو آئندہ احکامات تک مڈل اسکول نامبلاں کے ساتھ ہی منسلک رکھا جائے گا۔محکمہ تعلیم کے حکام نے واضح کیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اس طرح کی کارروائیاں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مستقبل سے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور آئندہ بھی ایسی شکایات پر سخت کارروائی جاری رہے گی۔مقامی لوگوں نے بھی اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض دیانتداری سے انجام دیں تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیم فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کارروائی سے دیگر اساتذہ بھی اپنی ذمہ داریوں کے تئیں مزید سنجیدہ ہوں گے اور تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی۔