حسین محتشم +عشرت حسین بٹ
پونچھ// اننت ناگ۔راجوری پارلیمانی حلقہ کے رکنِ پارلیمنٹ میاں الطاف احمد نے منگل کو ضلع پونچھ کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں کا تفصیلی دورہ کرکے حالیہ موسلادھار بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی، ان کی مشکلات سنیں اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔جاری بیان کے مطابق میاں الطاف احمد نے خراب موسمی حالات کے باوجود پیدل چل کر سنگلہ، لوران، سرنکوٹ، مینڈھر اور دیگر متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے مقامی عمائدین، پنچایتی نمائندوں اور عوام سے ملاقات کرکے رہائشی مکانات، زرعی اراضی، کھڑی فصلوں، مویشیوں اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات حاصل کیں۔رکنِ پارلیمنٹ نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفت نے ضلع پونچھ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو چکے ہیں، متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں جبکہ بے شمار لوگوں کے مکانات، کھیت، باغات اور روزگار کے ذرائع تباہ ہو گئے ہیں، جس سے متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
میاں الطاف احمد نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے بڑی ترجیح لاپتہ افراد کی تلاش اور ہر متاثرہ خاندان تک فوری امداد کی فراہمی ہونی چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ امدادی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ متاثرہ لوگوں کو بروقت خوراک، رہائش، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے کہاکہ ’پونچھ میں اچانک آنے والے سیلاب سے ہونے والی تباہی انتہائی تشویشناک ہے۔ کئی خاندان اپنے عزیزوں کو کھو چکے ہیں جبکہ متعدد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ لوگوں کو اپنے گھروں، زرعی زمینوں اور ذریعہ معاش کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس وقت ہماری اولین ترجیح لاپتہ افراد کی تلاش اور ہر متاثرہ خاندان تک بلا تاخیر امداد پہنچانا ہونی چاہیے‘۔رکنِ پارلیمنٹ نے حکومت سے اپیل کی کہ ریسکیو اور سرچ آپریشن کو مزید مؤثر اور تیز بنایا جائے تاکہ لاپتہ افراد کا جلد از جلد سراغ لگایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کے لیے خصوصی منصوبہ تیار کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔میاں الطاف احمد نے سیلاب سے متاثر ہونے والی بنیادی سہولیات کی فوری بحالی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں میں پل، رابطہ سڑکیں، بجلی کا نظام، پانی کی فراہمی کی اسکیمیں اور دیگر عوامی ڈھانچے شدید متاثر ہوئے ہیں، جن کی جلد از جلد مرمت ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی سہولیات کی بحالی کے بغیر عوام کی مشکلات میں کمی ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ متاثرہ علاقوں میں سڑکوں، پلوں، آب رسانی کی اسکیموں اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی فوری مرمت کا کام شروع کرے تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا ازالہ ہو سکے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں سے اپیل کی کہ بحالی کے کام جنگی بنیادوں پر انجام دیے جائیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں معمولاتِ زندگی جلد بحال ہو سکیں۔دورے کے اختتام پر میاں الطاف احمد نے متاثرین کو یقین دلایا کہ وہ ان کے مسائل کو پارلیمنٹ اور متعلقہ حکومتی اداروں کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھائیں گے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ، فوری امداد اور مکمل بازآبادکاری کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اس قدرتی آفت کے اثرات سے جلد نکل سکیں۔