سمت بھارگو
راجوری// ضلع راجوری میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ایک سو سے زائد گاڑیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، جن میں تقریباً پچاس گاڑیاں تباہ شدہ حالت میں برآمد کر لی گئی ہیں، جبکہ دیگر تقریباً پچاس گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہیں اور اب تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ یہ انکشاف ڈپٹی کمشنر راجوری ابھیشیک شرما نے میڈیا کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور بحالی اقدامات کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے اسسٹنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر (اے آر ٹی او) راجوری عاشق رفیق کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی، جس نے سیلاب کے دوران گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق راجوری کے بیلہ علاقے میں واقع نیو بس اسٹینڈ، سرکلر روڈ، تھنہ منڈی کے ایک کرشر پلانٹ اور دیگر نشیبی مقامات پر کھڑی تقریباً ایک سو گاڑیاں سیلاب کی زد میں آئیں۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق اب تک تقریباً پچاس گاڑیاں سیلاب زدہ مقامات سے برآمد کی جا چکی ہیں کیونکہ وہ ملبے یا پانی میں پھنس کر رہ گئی تھیں۔ تاہم تقریباً پچاس دیگر گاڑیاں، جن میں مسافر بردار گاڑیاں اور بھاری مشینری بھی شامل ہے، سیلابی ریلے کے ساتھ بہہ گئی ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے آئندہ چند دنوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے تمام ضروری احتیاطی اقدامات اختیار کیے ہیں۔ عوام کی سہولت اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلع بھر میں 15 عارضی رہائشی (لاجمنٹ) مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے دو مراکز پہلے ہی فعال ہو چکے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید مراکز بھی کھولے جائیں گے۔ابھیشیک شرما نے بتایا کہ ضلع راجوری کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے آئندہ دو دن تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت صرف اس وقت دی جائے گی جب تمام عمارتوں اور ان تک جانے والے راستوں کا مکمل حفاظتی آڈٹ مکمل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ بارش رکنے اور موسم صاف ہونے کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آتے ہیں، جو طلبہ اور عملے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے انتظامیہ کسی بھی تعلیمی ادارے کو جلد بازی میں کھولنے کے بجائے پہلے اس کی مکمل حفاظتی جانچ کرے گی اور اطمینان حاصل ہونے کے بعد ہی تدریسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ حالیہ سانحات کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے ایک اہم فیصلہ بھی لیا ہے، جس کے تحت کسی بھی عمارت کے تہہ خانے (بیسمنٹ) کو لائبریری، جم یا کسی دوسرے تجارتی مقصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نشیبی علاقوں میں واقع بیسمنٹ سیلاب کے دوران انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، اس لیے انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ایسے مقامات کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ کنٹرول روم یا انتظامیہ سے فوری رابطہ کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔