سمت بھارگو
پونچھ// ضلع پونچھ میں مسلسل تیسرے روز بھی بجلی کی مکمل بندش برقرار رہنے سے پورا ضلع شدید بحران کی لپیٹ میں ہے۔ تین دن سے جاری بلیک آؤٹ نے ہزاروں خاندانوں کی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے جبکہ بجلی کی بحالی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سیلاب سے پہلے ہی متاثرہ ضلع میں بجلی کی عدم دستیابی نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور شہری بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔بجلی کی طویل بندش کے باعث نہ صرف گھریلو سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں بلکہ کاروباری مراکز، تجارتی سرگرمیاں، تعلیمی ادارے، صحت کی سہولیات اور مواصلاتی نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ موبائل فون مسلسل بند ہونے سے لوگوں کا اپنے عزیز و اقارب اور ضروری خدمات سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے، جس کے باعث عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔اطلاعات کے مطابق یہ بحران راجوری ضلع کے تھنہ منڈی علاقے میں 132 کے وی ٹرانسمیشن لائن کے ایک بڑے ٹاور کے منہدم ہونے کے بعد پیدا ہوا۔ اس حادثے میں تین دیگر ٹرانسمیشن ٹاور بھی جزوی طور پر متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں پورے ضلع پونچھ کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ محکمہ بجلی کے انجینئر اور تکنیکی عملہ متاثرہ مقام پر مسلسل کام میں مصروف ہے اور جنگی بنیادوں پر ٹرانسمیشن لائن کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں
۔دوسری جانب ضلع بھر میں ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ شہری اپنے موبائل فون چارج کرنے کے لیے واشنگ اسٹیشنوں، دکانوں، ہوٹلوں اور دیگر ایسے تجارتی مراکز کا رخ کر رہے ہیں جہاں جنریٹر دستیاب ہیں۔ ان مقامات پر لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں اور ہر شخص اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے تاکہ چند منٹ کے لیے ہی سہی، اپنا موبائل فون چارج کر سکے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ عام حالات میں موبائل فون چارج کرنا ایک معمولی کام سمجھا جاتا ہے، مگر موجودہ بحران میں یہی ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔ کئی افراد نے بتایا کہ مسلسل بجلی نہ ہونے کے باعث ان کے کاروبار ٹھپ ہو گئے ہیں، طلبہ اپنی آن لائن پڑھائی یا تعلیمی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ پا رہے جبکہ گھروں میں پانی کی فراہمی، خوراک کی حفاظت اور دیگر بنیادی ضروریات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔مقامی باشندوں نے انتظامیہ اور محکمہ بجلی سے اپیل کی ہے کہ خراب شدہ ٹرانسمیشن لائن کی مرمت کے کام میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ ضلع میں جلد از جلد بجلی بحال ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل بلیک آؤٹ نے نہ صرف عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ مواصلات، تجارت، صحت، تعلیم اور روزمرہ معمولات کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، اس لیے اس بحران کے فوری حل کے لیے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔