جموں//وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب اے درابو نے ماہرین کا ایک گروپ تشکیل دینے کا اعلان کیا تاکہ ریاست کے پچھڑے علاقوں میں ترقیاتی خسارے کی وجوہات کا پتہ لگایا جاسکے اور ان پچھڑے علاقوں کے ترقیاتی عمل کو فرو غ دینے کے لئے اقدامات تجویز کئے جائیں ۔وزیر خزانہ نے بجٹ 2018-19کے حوالے سے ایوان بالا میں ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ریاست کے دور افتادہ علاقوں میں مجوزہ سٹیٹ فائنانس کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کے حصے کے طور پر ترقیاتی عمل کو دوام بخشے گی اور اسی حساب سے وسائل کو مختص کیا جائے گا۔وزیر نے مزید کہا کہ ریاست کے کٹے ہوئے ہوئے علاقوں جن میں کپواڑہ سے کٹھوعہ تک کے تمام علاقے شامل ہیں جنہیں پچھلے برسوںکے دوران نظر انداز کیا گیا تھا ، کی طر ف خصوصی توجہ دی جائے گی اور اضافی وسائل مختص کئے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی طرف سے تشکیل دئیے جانے والے فائنانس کمیشن کی طرف سے بھی سفارشات سامنے آئیں گے تاکہ ان علاقوں کے معیار زندگی میں بہتری لائی جاسکے۔ڈاکٹر درابو نے ریاست کے ان علاقوں کے لوگوں کو درپیش مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان علاقوں میں جو ملازمین اپنے فرائض انجام دیں گے ان کے حق میں سپیشل ڈیوٹی الائونس 10فیصد بنیادی تنخواہ کے حساب سے دیا جائے گا۔پبلک سیکٹر انٹر ٹیکنگس اور خود مختار اداروں کے ملازمین کے لئے ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کی عمل آوری کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا اگر یہ ادارے وسائل کی دستیابی کی صورت میں تنکواہ کمیشن کی سفارشات لاگو کریں۔ڈاکٹر درابو نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ مستحقین کو سماجی سیکورٹی کے دائرے میں لانے کے لئے 15کروڑ روپے کے اضافی فنڈ موجودہ کارپس میں ڈالے جائیں گے۔ڈاکٹر درابو نے لڑکیوں کے لئے مختلف سکالر شپ او ربہبودی سکیموں کے ساتھ میریج اسسٹنس کو مجوزہ طور ضم کرنے کی بھی بات کہی تاکہ اسے مزید کار آمد بنایا جاسکے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے پچھلے تین برسوں کے دوران روزگار کے زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنے کے لئے مالی وسائل کو بروئے کار لانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے مختلف محکموں میں کام کر رہے انجینئروں کے ایف ٹی اے کا از سر نو جائزہ لینے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا اس وقت ان ملازمین کو 30روپے فی ماہ کے حساب سے ایف ٹی اے فراہم کیا جات اہے۔وزیر خزانہ نے اسمبلی اجلاس کے دوران سرکاری ملازمین کے ریفریشمنٹ کو 7500روپے سے بڑھا کر 10,000روپے کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پھولبانی شعبے کو بڑھاوا دینے کے لئے 5کروڑ روپے فراہم کئے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ اس ضمن میں مراعات پر مبنی ایک سکیم بھی وجود میں لائی جائے گی۔ارکان اسمبلی کے فلاحی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سابق ارکان اسمبلی کا میڈیکل الائونس موجودہ ارکان اسمبلی کے برابر کیا جائے گا۔اس کے علاوہ کار لون کو پانچ لاکھ روپے سے بڑھا کر دس لاکھ روپے کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ اگر کوئی ارکان کار لون کی سہولیت سے استفادہ نہیں کرتا تو وہ اس ضمن میں 20لاکھ روپے تک کا ہوم لون لے سکتا ہے۔