اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے تفصیلی احکام بہت ہوگئے ہیں ، جو مجھ جیسے (عامی آدمی) کے قابو میں نہیں آتے، کوئی ایسی مختصر بات بتا دیجئے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں۔رسول اکرم و مربی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی کی بات توجہ سے سنی اور فرمایا : خدا کے ذکر سے تمہاری زبان ہمیشہ تَر رہے۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الادب )
بجائے اس کے کہ پیغمبر اسلام ﷺ اس اعرابی کو ملامت کرتے اور اس کے اس مطالبہ کو پست ہمتی اور علم دین کی مکمل معلومات حاصل کرنے سے پہلو تہی پر محمول فرماتے (جیسا کہ آج کل لوگ کتب ِ فضائل سے فیض یاب لوگوں پر اس طرح کے بلکہ اس سے بھی زیادہ شدید اور قابل اعتراض فقرے کستے ہیں) آپ ﷺنے پوری توجہ سے اس کے اس سوال کا جواب دیا کہ ذکر کے عمل کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔
ا س ضمن میں مفکرِ ا سلام مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ رقمطراز ہیں:؎
یہ اور اس قسم کی روایات ان حضرات کے لئے قوی محرک اور ولولہ انگیز بن گئیں جنہوں نے مسلمانوں کے نفع عام کے لئے ایک جامع کتاب تالیف کرنے کا بیڑہ اٹھایا ۔ جو بقدر امکان ضروری دینی معلومات، روز مرہ کے فرائض و اعمال، اسلامی اخلاق و اجتماعی زندگی کی ہدایات پر مشتمل اور ایک اوسط درجہ کے مسلمان کے لئے کافی اورشافی ہو اور جس کو زندگی کا دستور العمل بنایا جاسکے۔
(دستور ِ حیات ص ۷ )
اسی ضرورت کے پیش نظر امت کے دور رس و محسن علماء کرام و مجددینِ عظام نے اگر ایک طرف تفسیر قرآن ، احادیث مبارکہ کو کتب میں جمع فرمایا تو دوسری طرف عوام الناس و اوسط درجہ کے مسلمانوں کی خاطر انہوں نے ایسی مفید کتابیں مرتب کیں، جن کا مقصد متوسط طبقہ ، مبتدیوں) (Beginners اور دین سے دور لوگوں کو دین سے قریب کرکے ان کو اعمالِ صالحہ کا شوق دلانا اور ضرورت کی حد تک ان کو دین کی معلومات پہنچانا تھا۔
چونکہ تین چار صدیوں تک لوگوں میں طلب ِعلم اور دین داری کا عنصر غالب تھا، اس لئے اس طرح کے اقدام کی ضرورت کا احساس سب سے پہلے امام غزالی ؒ کو ہوا ۔ انہوں نے اس ضرورت کی تکمیل کے لئے مؤ ثر قدم اٹھایا اور احیاء علوم الدین جیسی شہرہ آفاق کتاب تصنیف فرماکر اس مفید و ناگزیر سلسلہ کا آغاز فرمایا۔ انہوں نے اپنی اس کتاب میں عقائد، مسائل ، تزکیہ نفس ، اصلاح اخلاق اور اسی طرح فضائل کی احادیث، وعدوں اور وعیدوں کی آیات و روایات، مؤثر ملفوضات اور قلب میں سوز و گداز پیدا کرنے والی حکایات جمع کیں تاکہ طالبین حق کے لئے یہ کتاب استاد و مربی کا کام دے سکے، لیکن روایات میں کمزوری و ضعف اور قا بل تنقید واقعات کو بھی اس میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود تمام اہل نظر نے کھلے دل و دماغ سے اس کتاب کو بہت سراہا ہے۔ حتیٰ کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ جیسے ناقد نے کلامہ الاحیاء غالبہ جید (احیاء میں عموماًان کا کلام اچھا ہے ) فرما کر اور ابن الجوزی ؒ جیسے محتسب و امام فن نے’’ منہاج القاصدین ‘‘کے نام سے کتاب مذکورہ کی تلخیص لکھ کر کتاب کی تاثیر و افادیت کا اعتراف کھلے دل سے فرمایا ہے۔
اسی طرح امام غزالی ؒ نے اہل عجم کے لئے ان کے معیار تعلیم اور ضرورت و حالات کو سامنے رکھ کر ’’ کیمیائے سعادت‘‘کے نام سے فارسی میں ایک کتاب لکھی۔
’’احیاء العلوم‘‘ کے بعد جس کتاب نے طالبین اصلاح اور سالکین حق کو شریعت و سنت کے مطابق رہنمائی کا سامان بہم پہنچایا، وہ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی کتاب ’’الغنیۃ لطالبین طریق الحق عز وجل‘‘ ہے۔ اس کو عام طور پر ’’غنیۃ الطالبین‘‘ کہتے ہیں۔اس کتاب میں فرائض و سنن، احکام آداب، معرفت الہٰی کی آیات، سنت نبوی کی اہمیت و ضرورت اور سلف صالحین کے سبق آموز واقعات و حکایات جمع کئے گئے ہیں۔ ایک باب امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا بھی شامل کیا گیا ہے۔ کتاب نے مردہ دلوں کی مسیحائی کام کیا ہے۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ فرماتے ہیں :
یہ کتاب حضرت موصوف کے حلقہ بگوش مریدین و منتسبین اور ان تمام لوگوںکے لئے دستور العمل رہی ہے، جوکتاب و سنت اور عقیدہ ٔ سلف کی روشنی میںاپنی زندگی کو منضبط اور منظم کرنا چاہتے ہیں اور اصلاح اخلاق اور صفائی باطن کا شوق رکھتے ہیں، اس کتاب سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد ایشیا اور افریقہ دونوں برّاعظموں میں لاکھوں تک پہونچتی ہے۔ (ایضاً ص ۱۱)
شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے صحبت یافتہ ابو النجیب سہروردی ؒ نے دعوت و تذکیر اور اصلاح نفوس کا کام کامیابی کے ساتھ جاری رکھا۔ پھر مؤخر الذکر کے خلیفہ شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ نے خلق ِ خدا کی اخلاقی تربیت اور ان کے نفسانی امراض کا بیڑا اٹھایا اور ’’عوارف المعارف‘‘ کے نام سے ایک کتاب تصنیف فرمائی ۔
اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے عربی زبان کے ماہر اور محقق علامہ مجدالدین فیروزآبادی ؒ (م۸۱۷ھ) نے ’’ سفر ا لسعادۃ‘‘ کے نام سے فارسی میں ایک کتاب تصنیف فرمائی جس میں سیرت ، عبادات و معاملات ، اخلاق و خصائل مبارک اور اسی طرح ایک باب طب نبویؐ پر باندھا گیا ہے۔اس موضوع پر سب سے جامع و مستند اور مقبول و مشہور کتاب حافظ ابن القیم الجوزیہ ؒ کی ’’زاد المعادفی ھدی خیر العباد‘‘ ہے جس میں تفصیل کے ساتھ سیرت و سنن، تزکیہ و احسان کے علاوہ کلام و فقہ کے مباحث کو بھی بیان کیا گیا ہے۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں:۔۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے دینی کتب خانہ کے دریا کو اس کتاب کے کوزہمیں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کتاب ایک مربی و مرشد اور فقیہ و محدث کی نیابت کاحق ادا کرتی ہے۔ حدیث کا ذوق رکھنے اور سنن و آداب نبوی ﷺ کا اہتمام کرنےوالے طالبین وعلماء نے اس کتاب کو ہمیشہ حرزِ جان بنایا۔(ایضاً ص ۱۲)
اسی سلسلہ کی ایک اور کڑی رُکن الاسلام علامہ محمد بن ابو بکر سمرقندی کی ’’شرعۃ الاسلام الی دارالسلام ‘‘ ہے۔ اپنی کتاب کے تعارف میں مصنف خود فرماتے ہیں :
یہ وہ کتاب ہے جس کی نونہالان اسلام کو سب سے پہلے تلقین کرنی چاہئے اور اہل یقین کو پیش نظر رکھنی چاہئے، بلکہ سالک راہ ِ حق کو اس کے بغیر چارہ نہیں ۔
(ایضاً ص ۱۳)
اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے فقیہ ابو لیث سمرقندی ؒ نے ’’ تنبیۃ الغافلین ‘‘ کے نام ایک کتاب تصنیف فرمائی جوآج بھی ہم جیسے آخرت سے غافل و دین بیزار لوگوں کی تنبیہ کا سامان مہیا کرتی ہے۔ مصنف نے کتب احادیث سے فضائل و کتاب الرقاق کی روایت کو اپنی کتاب میں درج کرکے ان کے ذیل میں سلف الصالحین و بزرگان دین کے ایسے ایمان افروز واقعات ذکر کئے ہیں جن کو پڑھ کر ایک انسان کے اندر اعمال ِصالحہ کو کرنے کا شوق و داعیہ پیدا ہوتا ہے۔
پھر بیہقی ٔوقت قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒنے دین سے واقفیت نہ رکھنے یا کم رکھنے والے بے شمار لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ایک کتاب ’’مالا بدَّ منہ ‘‘کے نام سے ایک رسالہ فارسی میں تصنیف فرمایا،جس میں عقائد کو چھوڑ کر، نماز کی فضیلت، طہارت کے فضائل و مسائل،باقی ارکان اسلام کے احکام کو اجمالی طور پر ذکر کرنے کے بعد تقویٰ وا صلاح، زمانے کے عام باطنی امراض، آداب ِ معاشرت، حقوق العباد اور عام منہیات و معاصی ، اخلاقی رزائل، جاہلی رسومات کو ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی تاکید بھی کی گئی ہے۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ فرماتے ہیں :
کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں صرف وہ ضروری باتیں آئی ہیں، جن سے واقفیت اوسط درجہ کے اور مشغول مسلمان کے لئے لابُدی (ضروری و لازمی) ہے۔ ۔یہ کتاب تقریباً ایک صدی سے زائد ہندستان کے شریف گھرانوں اوردیندار خاندانوں میں نصابی کتاب کی طرح پڑھی پڑھائی جاتی رہی۔ (ایضاً ص ۱۵)
اسی موضوع و مقصد کے پیش نظر ، اخلاق و اعمال اور صراط مستقیم کی راہ پر چلنے والوں کے لئے مولانا شاہ اسماعیل شہید ؒ نے اپنے مرشد و رفیق سید احمد شہید ؒ کے ملفوضات و افادات کو جمع کرکے’’ صراط مستقیم‘‘ کے نام سے ایک کتاب مرتب کی۔ بدعات و غلط رسومات اور جاہلی عادات و اطوار کی مذمت کے علاوہ کتاب میں تہذیب اخلاق، تزکیۂ نفس اور قرب الٰہی کے حصول کی راہوں کااس کتاب میں تذکرہ کیا گیا ہے۔
ان اصلاحی و تربیتی کتب کی فہرست میں مولانا اشرف علی تھانویؒ کی’’ تعلیم الدین‘‘ بھی شامل ہے۔ اس میں ایمانیات، اعمال و عبادات، معاملات ، آداب معاشرت اور تزکیۂ نفس کے بارہ میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسی سلسلہ کو آگے لے جاتے ہوئے مصنف نے اس سے بھی جامع و ضخیم کتاب ’’ بہشتی زیور ‘‘کے نام سے ایک کتاب تصنیف فرمائی۔ گو کتاب مسلم بچوں و خواتین کے لئے بالخصوص لکھی گئی ہے تاہم طلباء و علماء بھی اس کتاب سے فائدہ اٹھاتے ہے۔
غرض ہر دور میں علماء کرام نے جو ہم سے زیادہ قرآن وحدیث کو جانتے تھے، دین بیزار اور اوسط درجہ کے مسلمانوں کے لئے ایسی کتابیں مرتّب کیں جن کا مقصد ایسے لوگوں کو اعمال کا شوق دلانا، اخلاق عالیہ کو اختیار کرنا ، دین کو دنیا پر ترجیح دینے کا جذبہ پیدا کرکے ان کو زہد و قناعت اور استغناء و توکل کی شاہراہ پہ کھڑا کرنا تھا۔ ( تفصیل میں جانے کے لئے ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ از مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ کا مطالعہ مفید رہے گا)
یہ ایسی سیرت ساز کتابیں ہیں جن کو پڑھ کر عوام میں دین پر چلنے کا شوق پیدا ہوتا رہا ہے۔ ان کے اندر اعمال صالحہ کی قدر و منزلت آگئی۔ دین پر خوشی خوشی چلنا آسان ہوگیا۔ یہ کتابیں خدانخواستہ قرآن مجید و کتب احادیث کے بالمقابل کھڑی نہیں کی گئیں بلکہ ایک عامی مسلمان جس کے لئے علوم اسلامیہ کا ضبط و احاطہ کرنا محال ہے، کو دینی احکام پر قائم رکھنے ، اعمال کا پابند بنانے اور ضروری حد تک دینی معلومات پہنچانے کی بغرض مرتب کی گئیں۔
Email: [email protected]