ضلع بڈگام زمانہ قدیم سے ہی ایسے درجنوں جلیل القدر اور مقتدر صوفی شعراء کا مسکن رہا ہے جواپنے روحانی اور آفاقی کلام سے اب تک لاکھوں اذہان و قلوب کو روشن کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور آئندہ بھی لاکھوں انسان ان حضرات کے الہامی کلام کے فیض وبرکت سے منور ہوتے رہیں گے۔ان حضرات کے کلام میں علم و عرفان کے ایسے بیش بہا دریا رواں دواں ہیں ،جن سے اُجڑے چمن سرسبز و شاداب گلستانوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔صوفی شاعروں کے اس جُرمٹ میں حضرت شیخ نورالدین ولی ؒ ایک تابناک ستارے کی مانند اپنا جلوہ اطراف و اکناف میں بکھیر رہے ہیں۔ حضرت شمس فقیر ؒ ، حضرت عبدالصمد میرؒ اور حضرت شاہ غفورؒ موتیوں کی اس خوبصورت مالا میں لالِ بیباک کی طرح چمک رہے ہیں اور انکی چمک دھمک سے ہماری وادی کا نام اور مقام ہمیشہ روشن رہے گا۔
آج کے مضمون میں راقم حضرت شاہ غفور ؒ کی زندگی اور آپ کی شاعری پر مختصر الفاظ میں تبصرہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ عقیدت مندوں کو اس بزرگ شاعر کو جاننے اور پہچاننے کا موقع دستیاب ہوسکے۔ حضرت مرحوم شاہ غفورؒ کی ولادت آج سے لگ بھگ ساڑھے چار سو برس قبل سترہ ویں صدی کے آخری ایام کے دوران وسطی کشمیر میںہوچکی تھی۔اگر چہ ان کے یوم پیدائش کو لیکر محققین میں اختلاف رائے پا یا جاتا ہے تاہم بیشتر تاریخ دان سترہ ویں صدی کو ہی حضرت شاہ ؒکی تاریخ پیدائش پر متفق نظر آرہے ہیں۔ حضرت شاہ غفور ؒ کی جائے ولادت کا صحیح اور مکمل اتہ پتہ تاریخی دستاویزات میں (چھان نگر)جوبعد میں چھون ؔنام کی شکل اختیار کرگیا ہے۔شاہ غفور ؒ کی زُریعت ضلع بڈگام کے اسی معروف گائوں( چھون ) جو ضلع صدر مقام بڈگام سے صرف ۵ ۔کلومیٹر کی دوری پر آباد ہے، میں ہی پھل پھول رہی ہے ،جس سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت شاہؒ (چھان نگر)چھون ؔمیں ہی تولدہوچکے ہیں اور اسی سر زمین پر ان کی فقیرانہ زندگی کا بیشتر حصہ گزرچکا ہوگا۔ فی الوقت مرحوم شاعر کی آٹھویں اورنوویں پیڑی گائوں ھٰذا میں اپنا گزر بسر کررہی ہے ۔چھونؔ میںشاہ آباد نام سے مشہور ایک محلہ آپؒ کے ہی نام کے ساتھ منسوب کیا جاچکا ہے۔جہاں محلہ ھٰذا میں شاہ غفور ؒکی زُریعت آباد ہے وہیں مرحوم شاعر کی آخری آرام گاہ بھی اسی محلے کے عقب میں ایک قبرستان میںموجود ہے۔بتایا جاتا ہے کہ جس جگہ پر مرحوم شاعر کا روضہ موجود ہے، یہاں پر آپ نے اپنے دور حیات میں ایک تکیہ قائم کر رکھا تھا، جہاںپر آپ اپنے یار دوستوں اور مریدوں کے ساتھ مل بیٹھ کر گیان بانٹا کرتے تھے اور اُن کے ساتھ اپنا کلام اور خداداد صلاحیتوں کا خزانہ شئیر کیا کرتے تھے۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام کے دوران اسی تکیہ کے پاس قبر کھدوائی تھی، جس میں آپ اللہ کی عبادت گزاری میں محو رہا کرتے تھے۔ حضرت شاہ غفور کی قبر پر مقامی شاہ برادری نے اپنے ذاتی خرچے پر ایک چھوٹا مگرخوبصورت روضہ تعمیر کروایا ہے تاکہ اس بزرگ شاعر کی آن بان اورشان آنے والی پیڑیوں کے سامنے آشکار ہوتی رہے گی۔ جموںو کشمیر کلچرل اکادمی کی طرف سے مرحوم شاہ غفورؒکے روضہ کے قریب ایک سنگ لوح بھی لگایا جاچکا ہے ۔ اگر چہ اس لوح پر شاہ غفور ؒ کا دور حیات انیس ویں صدی کندہ کیاجا چکا ہے اور سوچھ کرال اور محمود گامی کو شاہ غفور کے ہم عصر شعراء کی قطار میں شامل بتایا گیا ہے تاہم باوثوق خاندانی ذرائع اس سنگ لوح میں درج تاریخ پیدائش کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ لوح بغیر کسی تاریخی شہادت اور تحقیق کے تیار کی گئی، اسلئے اسکی درستگی کرنا لازم بن چکا ہے ۔
۲۳۔نومبر کو شاہ غفورؒ کا سالانہ عرس نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ آپ کے آبائی گائوں چھون نامی میں منایا جاتا ہے۔کلچرل اکادمی اور دوسرے سرکاری و غیر سرکاری ثقافتی اداروں کی طرف سے ان کے آستان عالیہ کے عقب میں ادبی و تمدنی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں ۔وادی کے بہترین گلو کار اس موقع پر مرحوم شاعر کا کلام حاضرین مجلس کے رُوبرو پیش کرکے مرحوم شاعرپر خراج عقیدت کے پھول نچھاور کرتے رہتے ہیں ۔ لنگر کا اہتمام بھی یہاں پر اس روز کیا جاتا ہے تاکہ زائرین کی غذائی ضرورت کو پورا کیا جاسکے۔ادیب شاعر اور دانشور اس موقع پر مرحوم شاعر کے آستان عالیہ پر حاضری دینے کیلئے تشریف لاتے ہیں اور دعائے مغفرت کا گلدستہ مرحوم کے حق میں پیش کرتے ہیں۔
جہاں تک شاہ غفور ؒ کی شاعری کا تعلق ہے ،اُن کے شاعرانہ کلام میں جہاں وحدت الوجود کا عکس نمایاں طور پر ظاہر ہے وہیں عشق حقیقی کا مُدر مس آپ کی شاعری کی مٹھاس بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ آپ کے کلام میں لگ بھگ شاعرانہ اہمیت کے حامل تمام تر رنگ و روپ موجودپائے جاتے ہیں ۔مرحوم شاعر کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انہوں نے کشمیری صوفی شاعری کو اپنے زمانے کے خوبصورت پیمانوں میں ڈال کر ایک ایسا مزاج فراہم کیا ہے جو یہاں کے بعض صوفی شعراء کی شاعری میں نہیں پایا جاتا ہے۔ شاہ غفورؒ کا شاعرانہ کلام حضرت شیخ نور الدین نورانیؒ اور لل عارفہ کے کلام کے ماسوا بعض دوسرے صوفی شعراء کی شاعری سے قدرے اعلیٰ بھی ہے اور جُدا گانہ بھی۔شاہ غفورؒ کے زمانے تک صوفی شاعری کا امتزاج شرُک یا شلوک کی صورت میں ہوا کرتے تھے لیکن شاہ غفور ؒ نے صوفی شاعری کوایک نئے پیمانے میں ڈال کر اسکو نیا طرح دیا ہے۔ما بعد شاہ غفور ؒ کی طرف سے قائم کئے جاچکے پیمانے کو ہی باقی ماندہ صوفی شاعروں نے اختیار کرنا مناسب سمجھا۔
بہر حال شاہ غفورؒ کی شاعری کے فلسفہ کو شیو ازم اور اسلامی افکار کا آئینہ دار سمجھا جاتاہے۔ آپ نے شیو فلسفہ کو ایک لڑی میں پرُوکر عوام الناس تک پہنچانے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔یہ واقعی شاہ غفورؒ کی شاعری کا کمال درجہ ہے اوراس خاص مقام کو آج تک کوئی شاعر چھوسکا، نہ آئندہ اس کو حاصل کرنے کی کوئی شاعرجرأت کرسکتا ہے۔
حضرت شاہ غفورؒ کو سنسکرت پر بہت زیادہ دست رس حاصل تھا، اسکا ثبوت ان کے کلام میں صاف صاف نظر آرہا ہے۔ان کے کلام میں کشمیری کے علاوہ اور بھی بہت ساری زبانوں کا امتزاج پایا جاتا ہے البتہ سنسکرت زبان کا امتزاج قدرے کچھ زیادہ ہی نظر آرہا ہے۔مرحوم قد آورشاعر کے بیشترکلام میں قرآنی آیات کو حضرت شیخ نور الدین نورانیؒ کی طرح شاعرانہ طرز اندازمیں بیان کیا جاچکا ہے، جس سے یہ بات عیاںہوتی ہے کہ کلام پاک کے ساتھ مرحوم شاعر کو کتنی زیادہ قُربت اور وابستگی رہ چکی ہے۔حمد باری تعالیٰ اور نعت و منقبت شاہ غفور کے کلام کا خاص محور رہ چکاہے جس سے ان کی دینداری خدا پرستی اور بے پناہ محبت ِمحمدی ؐکا عکس نمایاں طور نظر آرہا ہے۔ حضرت شاہ غفورؒ نے ھوُ اللہ ھو ُ جیسے بابرکت الہامی وظیفے کو اپنے کلام میںجس طرح سے شاعرانہ زبان دی ہے وہ یہ سمجھنے کیلئے شاید کافی ہوگا کہ آپ کو اپنے شاعرانہ ہنر اور مذہبی عقائد پر کس قدر عبور اور یقین تھا۔
ھُوپر ھُو ھُو اللہ ھُو۔ھُو وُچھ کتہ سہ نیران چھُو
منہ سان پر دُشوئے ھُو۔دون منزنُن نیرہ اکوئی ھُو
حضرت شاہ غفور ؒ کے کلام کا مطالعہ جب گہرائی سے کیا جاتا ہے تواس بات کا اقرار کرنے میں کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ مرحوم شاعر صوفی شعراء کے پہلے صف میں آن اوربان کے ساتھ کھڑے ہیں اور بہت سارے صوفی شعراء اپنے شاعرانہ سفر کے دوران شاہ غفور ؒ کی تقلید کرچکے ہیں اور بعض دوسرے آپ کی تقلید میں محو سفر ہیں ،جس پر اُن سب کو بہت زیادہ فخرحاصل ہے۔ آج بھی صوفی شاعروں کی ایک لمبی قطار شاہ غفورؒ کو اپنا پیرو مرُشد تسلیم کرنے میں فخر محسوس کر رہی ہےاور ان کے کلام اور طرز اندازکی تقلید کرنے کی راہ پر گامزن نظر آرہی ہے۔
شاہ ابدال ؒ شاہ غفور ؒکے پیر و مُرشد رہے ہیں۔ شاہ ابدال ؒ اسلام کی تشہیر و ترویج کیلئے یہاں افغانستان سے تشریف لا چکے تھے۔ شاہ ابدال ؒ کی نگاہ کرم اور صحبت صالح کے سائے میں رہ کر شاہ غفورؒ علم و عرفان کے سمندر میں غوطہ زن ہوکر ایک ا یسا اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہے جس مقام کو حاصل کرنا سب کے نصیب میں نہیں ہوتا۔نگاہ مرد مومن کی ہی یہ کرامت تھی کہ شاہ غفورؒ روحانیت اور صوفیت کے اس اعلیٰ منصب پر براجمان ہونے میں کامیاب ہوچکے ہیں جس کا اعتراف موجودہ دور کے بڑے بڑے محقق دانشوراور فلسفی بلا کسی جھجک کے کر رہے ہیں۔
حضرت شاہ غفور ؒ کے کلام کا کچھ حصہ آپ کی اولاد اور مریدوں کے سینوںمیں محفوظ تھا، جس کو تین چار پیڑیوں کے بعد کا غذ پر اُتارکر قلم بند کردیا گیا تھا۔ وہی مختصرقلم بند کلام اس وقت بعض کتابوں اور رسالوںمیں موجود پایا جارہاہے اور اسی کلام کو ہمارے گلوکا رحضرات اپنی مُدر لئے میں ریکارڈ کراچکے ہیں ۔یہ کلام ریڈیو کشمیر اور دور درشن کی لائبرریوں میں اور سوشل میڈیا پر موجود ہے جس کو ہم بسا اوقات سماعت کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔جموں وکشمیرکلچرل اکادمی نے آج تک مرحوم شاعر کے کلام کو کھوج نکالنے اور اس کو شائع کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی نہ ہی یہ ادارہ مرحوم شاعر کو وہ مقام دلانے میں کامیاب رہا جس کا وہ حقدار ہے۔ اس سمت میں اب شاہ غفور ؒکے عزیز و اقارب نے سنجیدگی کے ساتھ اپنی کوششیں تیز کردی ہیں تاکہ اُن کا پوراا نمول خزانہ بازیاب ہوکر قلم بند کیا جاسکے اور مرحوم کے عقیدت مندوں تک پہنچایا جاسکے۔حضرت شاہ غفور ؒکے ایک سپوت ایڈوکیٹ شاہ محمد مقبول (سابق ڈپٹی ڈائیریکٹر محکمہ قانون)’’حضرت شاہ غفورؒ ایک تعارف‘‘کےنام سے ایک خاص تصنیف قلم بندکر نے میں فی الوقت مصروف عمل ہیں، جس میں مرحوم شاعر کی شا عری ،کرامات اوردوسرے اہم معلومات کو ضبط تحریر لاکر بہت جلد منظر عام پر لایا جاسکتا ہے انشاء اللہ۔ تالیف ھٰذا فی الوقت تیار ہونے کے آخری مراحل سے گزر رہی ہے۔امید کی جارہی ہے کہ آئندہ ایک دو ماہ کے اندر اندر یہ کتاب انشاء اللہ ہمارے ہاتھوں میں ایک بیش قیمتی تحفے کی صورت میں موجود ہوگی۔
(خانصاحب بڈگام کشمیر)