ڈاکٹر شگفتہ خالد ی
’’اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ باہر نکلتے وقت اپنی چادر اپنے اوپر اچھی طرح لے لیا کریں۔ اس طرح وہ پہچان لی جائیں گی اور انہیں تنگ نہیں کیا جائے گا۔ اللہ بہت معاف کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘(سورۃ الاحزاب، آیت۔ 59)
حجاب اسلام میں عورت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہے۔ یہ صرف لباس کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی، سوچ اور کردار کی علامت ہے۔ حجاب عورت کو عزت، وقار اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حجاب کا حکم عورت کو محدود کرنے کے لیے نہیں دیا بلکہ اسے باوقار اور محفوظ زندگی عطا کرنے کے لیے دیا ہے۔
اسلام نے عورت کو بلند مقام عطا کیا ہے۔ جاہلیت کے دور میں عورت کو کمزور اور بے حیثیت سمجھا جاتا تھا، مگر اسلام نے آ کر عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے رشتوں میں عظمت بخشی۔ حجاب اسی عزت و احترام کی عملی صورت ہے۔ جب عورت حجاب اختیار کرتی ہے تو وہ اپنی پہچان اپنے اخلاق، علم اور کردار سے کرواتی ہے، نہ کہ صرف ظاہری حسن سے۔حجاب عورت کو غیر ضروری اور ناپسندیدہ نظروں سے محفوظ رکھتا ہے۔ آج کے دور میں میڈیا اور معاشرہ اکثر عورت کو نمائش کی چیز بنا کر پیش کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں حجاب ایک مضبوط ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے جو عورت کی شخصیت اور خودداری کی حفاظت کرتا ہے۔ حجاب یہ پیغام دیتا ہے کہ عورت ایک مکمل انسان ہے، جس کے جذبات، خیالات اور مقاصد ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ہر حکم حکمت سے بھرپور ہوتا ہے۔ حجاب کے پیچھے بھی گہری حکمت موجود ہے۔ جب عورت اللہ کے حکم پر عمل کرتی ہے تو اسے اندرونی سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ حجاب نہ صرف عورت بلکہ پورے معاشرے میں حیا اور پاکیزگی کو فروغ دیتا ہے۔ یہ مرد اور عورت دونوں کو ایک باوقار اور مہذب تعلق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
کچھ لوگ حجاب کو قید یا پابندی سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ حجاب عورت کو آزادی دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی اللہ کی رضا کے مطابق اور اپنی عزت کے ساتھ گزار سکے۔ حجاب پہن کر عورت تعلیم حاصل کر سکتی ہے، ملازمت کر سکتی ہے اور معاشرے کی تعمیر میں بھرپور کردار ادا کر سکتی ہے، بغیر اس خوف کے کہ اس کی عزت مجروح ہوگی۔حجاب عورت کے لیے فخر کا باعث ہے۔ یہ اس کے ایمان کی علامت اور اس کے رب کے ساتھ مضبوط تعلق کا اظہار ہے۔ جب ایک عورت حجاب اختیار کرتی ہے تو وہ دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ اپنی قدر و قیمت سے آگاہ ہے اور اللہ کے احکامات پر عمل کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔ حجاب عورت کو خود اعتمادی اور حوصلہ عطا کرتا ہے۔آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حجاب کو صرف رسم یا روایت نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی اصل روح کو سمجھا جائے۔ حجاب صرف سر ڈھانپنے تک محدود نہیں بلکہ نظریں، گفتگو اور رویّے کا بھی حجاب ہے۔ جب عورت حجاب کو اس جامع معنی میں اپناتی ہے تو وہ حقیقی معنوں میں اللہ کی قربت حاصل کرتی ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حجاب عورت کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ہدایت کا مظہر ہے جو عورت کو عزت، سکون اور کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔ حجاب عورت کے لیے اللہ کی طرف سے ایک خوبصورت، باوقار اور قیمتی تحفہ ہے۔