آخر کار دنیا نے مجبور اور بے بس ہوکر تسلیم کرلیا کہ کرونا وائرس کافی عرصے تک دنیا سے جانے والا نہیں اور عالم انسانی کو اس کے ساتھ ہی جینا پڑے گا ۔ لا ک ڈائون ملکوں اورسماجوں سے وائرس کو دور کرنے کی وجہ نہیں بن سکتا بلکہ اس سے جو نئے مسائل اورمصیبتیں جنم لے سکتے ہیں ،وہ کرونا کی مہا ماری سے زیادہ بھیانک ہوں گیں، چنانچہ یورپ بھی لاک ڈائون سے نکلنے کی کوشش میں ہے اور برصغیر بھی ۔ پاکستان میں یوں تو پہلے بھی لاک ڈائون پر عمل درآمد نہیں ہوا اور اب حکومت بھی بازار کھولنے پر آمادہ ہوچکی ہے۔بھارت کے وزیر اعظم کی بھی رائے یہی ہے کہ اب ملک کو کرونا کے ساتھ ہی جینا ہوگا ۔احتیاط تو لازم ہے لیکن صنعت ، تجارت اور تعمیر و ترقی کو زیادہ دیر معطل نہیں رکھا جاسکتا ۔جب وزیر اعظم بیس لاکھ کروڑ کے پیکیج کے ساتھ اپنے عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے تھے کہ کرونا کے خوف سے بھارت کو اکیسویں صدی کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بنانے کا سفر نہیں روکا جاسکتا ،شمالی کوریا ، جہاں کرونا پر کافی حد تک قابو پانے کے بعد نائٹ کلب اور ریستوران کھولے گئے تھے،سے یہ خبریں آرہی تھیں کہ نئے کرونا متاثرین کی بہتات سامنے آنے کے بعد پھر سے لاک ڈائون شروع کرنے پر غور کیا جارہا ہے اور اٹلی سے بھی جہاں کئی علاقوں میں لاک ڈائون میں نرمی برتی گئی تھی، پھر سے نئے کیس کافی تعداد میں سامنے آنے کے بعد لاک ڈائون لاگو کیا جانے لگا ۔اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ لاک ڈائون برقرار رکھنا کرونا کی تباہی سے زیادہ بڑی تباہی کا باعث ہوگا، لاک ڈائون ختم کرنا یا اس میں نرمی کرنا بھی کارے دارد والا معاملہ بن چکا ہے ۔وزیر اعظم نے لاک ڈائون کے چوتھے مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئی شکل و صورت کا لاک ڈائون ہوگا ۔ نئے قواعد وضع ہوں گے اور نئے اقدامات کئے جائیں گے ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لاک ڈائون اور اس کے خاتمے کے بیچ کا کوئی راستہ اختیار کرنے کا منصوبہ بناچکے ہیں ۔اگر ایسا ہوا تو یہ نیا تجربہ ہوگا جس کی کامیابی اور ناکامی کا اندازہ اس کے نفاذکے کچھ عرصے کے بعد ہی ہوسکتا ہے ۔
فی الحال صورتحال یہ ہے کہ صرف ایک ملک چین ہے جہاں سے کرونا وائرس ظاہر ہوا ،اور پھراس قہر پر قابو پانے میں کامیاب ہوسکا ہے ۔ حال ہی میں کئی نئے کیس سامنے آنے کے بعد چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کا ٹسٹ کرائے گا ۔ وہ ایسا کرسکتا ہے اور ایسا کرنے کے بعد وہ کرونا کو پوری طرح سے ملک بدر کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے ۔اس کے پاس ٹسٹ کٹ بھی ہیں ،ادویات بھی اوردیگر ضروری ساماں بھی جبکہ دیگر ممالک کے پاس ضرورت کے مطابق یہ سب چیزیں نہیں ہیں، اس لئے وہ ابھی تک کرونا کو قابو کرنے میںناکام ہیں ۔چین کے اعتماد کا یہ عالم ہے کہ اس نے کرونا قہر ظاہر ہونے کے بعد سے ایک لمحے کے لئے بھی اپنی توسیع پسندی اور عالمی بالادستی کے منصوبوں پر کام نہیں روکا ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اوردیگر کئی یورپی ممالک چین کو ہی کرونا وائرس پیدا کرنے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ گو کہ اس کا کوئی ثبوت کسی کے پاس نہیں اور عالمی ادارہ صحت بھی واضح کرچکا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ وائرس چین کا پیدا کیاہوا ہے حالانکہ امریکہ ڈبلیو ایچ او کو چین کا دم چھلا قرار دے رہا ہے لیکن پھر بھی اس کے بیان کی اپنی ایک اہمیت ہے ۔اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کی ایک جنگ شروع ہوچکی ہے جو رفتہ رفتہ شدید تر ہوتی جارہی ہے اور اس میں دوسرے ممالک بھی شامل ہوتے جارہے ہیں ۔ امریکہ کا یہ الزام بھی حیرت انگیز ہے کہ چین سائبر جاسوسی کے ذریعے کرونا کی ویکسین بنانے کی ہر کوشش پر نظر رکھنے میں مصروف ہے اور وہ بہت قریب پہنچ چکا ہے۔چنانچہ اسے اب یہ خدشہ لاحق ہوچکا ہے کہ امریکہ میں ابھی ویکسین کا فارمولا تیار ہی ہوا ہوگا کہ چین اسے تیار کرکے مارکیٹ میں فروخت بھی کررہا ہوگا ۔
ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا یہ عالم ہے تو دوسری طرف سکم میں چین کے فوجی بھارت کے علاقے میں گھس جاتے ہیں اور بھارت کی فوجوں سے گتھم گتھا ہوتے ہیں ۔بھارت کے نئے نئے علاقوں کو چینی علاقے قراردیا جارہا ہے اور نیپال جو بھارت کا سب سے قریبی دوست رہا ہے، کی طرف سے بھارت کو سکم میں سڑک کی تعمیر پر احتجاج کیا جارہا ہے ۔ نیپال میں کمیونسٹ پارٹی کو طاقتور حیثیت حاصل ہونے کے بعد یہ ملک چین کے قریب آرہا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ مسلسل کی جارہی بحری مشقیں بھی شد ومد کے ساتھ جاری رکھی گئیں ۔اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ چین کرونا کی پرواہ کئے بغیر اپنے احداف پورے کرنے پر بضد ہے ۔یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ وہ کرونا کے عالمی بحران کا فایدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے ۔ یہ صرف بھارت اورامریکہ کے لئے ہی تشویش کا باعث نہیں بلکہ بہت سارے ملکوں کے لئے یہ خطرے کی گھنٹی ہے ۔ہر حالت میں اپنی سیاسی ، اقتصادی اور فوجی بالادستی کی اسی سوچ کے ساتھ نازی جرمنی دنیا کے لئے ایک چیلنج بن کر کھڑا ہوا تھا اوردنیا کو تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر اس کے خلاف متحدہ ہونا پڑا ۔اس وقت صرف چین ہی نہیں بلکہ ایک اور ملک اسرائیل اسی طرح کی سوچ کے ساتھ مصروف عمل ہے ۔اسرائیل کوبھی نہ کرونا وائرس کی عالمی تباہی سے کوئی غرض ہے اور نہ ہی انسانی مسائل کی۔ وہ گریٹراسرائیل کا جو نقشہ بناچکا ہے، اسے روبہ عمل لانے کے لئے ہر جائز اور ناجائز طریقہ کار اختیار کرنے کیلئے تیار ہے ۔چنانچہ فوجی صف آرائی کا وہ مرحلہ آچکا ہے جو دنیا کو تقسیم کرکے ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہونے کیلئے تیار کرے گی ۔اس میں مسلم دنیا بھی تقسیم ہوکر ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہوگی ۔
عالمی ادارہ صحت نے اب صاف کردیا ہے کہ ویکسین تیار ہونے کے بعد بھی کرونا وائرس انسانی دنیا سے ختم نہیں ہوجائے گا۔جس طرح کئی دوسرے وائرس ،جن میں ایڈس اورخسرہ شامل ہے، کاخاتمہ نہیں ہوسکا ہے ۔چنانچہ اس وائرس کے ہوتے ہوئے امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی ، فرانس او ر اٹلی جیسے ملک اقتصادی بحران کے شکار ہوجائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی سیاسی اورفوجی قوت بھی بری طرح سے متاثر ہوجائے گی اور وہ چین کا مقابلہ کرنے کی حیثیت کھودیں گے ۔تیل کی قیمتوں میں کمی خلیجی مسلم ممالک کو بھی تباہی کے دہانے پرکھڑاکردے گی اور وہ بھی اسرائیل کے توسیعی عزائم کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے ۔اس طرح چین اور اسرائیل دو بڑی طاقتوں کی صورت میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے اور دنیاکے ترقی پذیر ممالک انہی کے اتحادی بن جائیں گے۔اس صورت میں اسرائیل زیادہ طاقتور بن کر ابھرے گا کیونکہ موجودہ دور کی بیشتر بڑی طاقتیں اسی کے ساتھ کھڑی ہوں گی ۔مسلم ممالک میں ایران ، پاکستان اور ترکی چین کے ساتھ کھڑا ہوں گے ۔روس بھی آخر کار چین کے ساتھ ہی کھڑا ہوگا ۔جبکہ سعودی عرب اور کئی دیگر خلیجی ممالک اس کے باوجود کہ وہ مسجد اقصیٰ کو اپنی تحویل میں لے گا اوراسے ڈھاکر گریٹ ٹمپل میں تبدیل کرنے کا کام شروع کرے گا ،اسی کے ساتھ کھڑے رہیں گے ۔اس طرح ایک نئی دنیا کا وجود عمل میں آئے گا جس میں بہرحال تیسری دنیا کا انسان فطری او ر انسانی دونوں طرح کی آفات کا بدترین شکار ہوگا ۔ دنیا کے اعلیٰ تجزیہ نگاروں کے یہ تجزئیے اور یہ اندیشے کس حد تک درست ثابت ہوں گے اورکس حد تک غلط ،یہ وقت ہی بتائے گا تاہم اتنا ضرور ہے کہ اگر کرونا وائرس بھی انسانی زندگی کا حصہ بن جائے گا اور انسان کے جابرانہ منصوبے بھی جاری رہیں گے تو یہ دنیا ہی انسان کے لئے ایک ایسا جہنم بن جائے گی جس میں انسان کے لئے کوئی سکون ، کوئی خوشی ، کوئی خوشحالی اور کوئی فارغ البالی باقی نہیں بچے گی ۔اس کی زندگی زندگی نہیں بلکہ وہ موت ہوگی جس میںاس کی سانسیں چل رہی ہوں گی مگر ان سانسوں پر بھی اس کا کوئی اختیار نہیں ہوگا ۔