نیویارک //دنیا کی نصف سے ذرا کم معیشتوں پر کنٹرول رکھنے والے گروپ آف سیون کے رکن ممالک کے لیڈروں نے جمعہ کے روز کووڈ نائینٹین وبا سے آگے کی صورت حال پر نظر رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے آزاد تجارت اور چین کی منڈیوں سے بالا تر پالیسیوں کا مقابلہ کر کے تنزلی کا شکار معیشتوں کی بحالی پربات چیت کی۔امریکی صدر جو بائیڈن اور اٹلی کے وزیر اعظم ماریو ڈراگی نے اپنے عہدے سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ کسی عالمی اجلاس سے خطاب کیا ہے۔ اجلاس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا، تو جی سیون رہنماوں نے غریب ممالک کیلئے کروناو وائرس ویکسین کی فراہمی کے پروگرام، کوویکس، میں خطیر رقم عطیے میں دینے کا اعلان کیا۔گروپ آف جی سیون کے ارکان میں امریکہ، جاپان، جرمنی، برطانیہ، فرانس اٹلی اور کینیڈا شامل ہیں، جن کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار تقریباً چالیس ٹریلین ڈالر ہے، اور یہ ممالک دنیا کی نصف سے ذرا کم معیشت کو کنٹرول کرتے ہیں۔اس اجلاس کی میزبانی برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانس نے کی۔عالمی لیڈروں نے مستقبل کی وباؤں سے نمٹنے کیلئے مضبوط حکمت عملی اپنانے پر زور دیا، جس میں صحت سے متعلق ایک عالمی معاہدہ شامل ہے۔ ماحول کے تحفظ اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کی روک تھام پر بھی بات ہوئی۔ جمعہ کے روز امریکہ نے پیرس معاہدے میں واپس اپنی شمولیت اختیار کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔اجلاس کے آغاز پر بورس جانسن نے کہا کہ عالمی وبا پر قابو پانے کے بعد ہمیں ملازمتوں میں اضافے اور معاشی ترقی تیز کرنے کی ضرورت ہو گی۔