ایجنسیز
دبئی// امریکی بحریہ کی نگرانی میں کام کرنے والے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب واقع بحری راستے کو وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ آنے اور جانے والے جہازوں کی بیک وقت نقل و حرکت ممکن بنائی جا سکے۔اس اعلان کو ایران کے لیے ایک اور واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہاز اس کی ہدایات پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ تہران نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ وہ مستقبل میں اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے ٹرانزٹ فیس یا محصول وصول کرنا شروع کرے گا۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے ماضی میں عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی رہی ہے۔امریکہ اور خلیجی عرب ممالک نے ایران کے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے، اگرچہ اس کے پانی ایران اور عمان کی علاقائی حدود میں واقع ہیں، اس لیے کسی ایک ملک کو اس پر یکطرفہ محصول عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔