دو سال سے بر صغیر میں سرجیکل اسٹرائیکوں کا موسم چل رہا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ سرجیکل اسٹرائیکوں کا پھل اچانک پک گیا ہے اور رات دن یہ پھل اپنے پیڑوں سے گر رہے ہیں۔حکمران بھی اسٹرائیک کر رہے ہیں سیاستدان بھی،ترکھان بھی اور کسان بھی، شہر باش بھی اور دہقان بھی ،آشپازان بھی اور قصابان بھی، غازیاں بھی اور شہیدان بھی ،ہندوستان بھی اور پاکستان بھی۔اخباری بیان میں، مزیدار وازہ وان میں ، اونچی دوکان پر پھیکے پکوان پر، قبرستان پر شمشان پر، مکان پر زمان پر ، زمین پر آسمان پر یعنی سارے لین دین پر سرجیکل اسٹرائک ہو رہی ہے ۔ کبھی سرحد پر کبھی سرحد کے پار سرجیکل اسٹرائک سے تو ہم واقف تھے لیکن سرجیکل اسٹرائک کے نئے نئے نشانے سے ہم دم بخود ہیں ۔اب تو کھیل کے میدان کو بھی سرجیکل اسٹرائیک کے تاروں سے جوڑا گیا۔کبھی جس کھیل میں چوکوںچھکوں کی بات کرتے تھے وہاں بھی اب سرجیکل اسٹرائیک ہی ہوتی ہے۔ویسے تو سرجیکل اسٹرائیک میں کتنے مرے کتنے مارے کا ہندسہ چلتا تھا کہ یہ فوجی لوگ انجام دیتے لیکن اب کی بار دوبارہ مودی سرکار کے وزیر داخلہ نے سرجیکل اسٹرائیک کی پرِ بھاشا بدل دی۔کہیں امت شاہ نے اپنی پادشاہی دکھا کر پنجہ مار پارٹی پر سرجیکل اسٹرائیک کردی تو کہیں بنگالی دیدی کو بھی اس کا نشانہ بنا دیا ۔پر ادھر جو وراٹ کوہلی اینڈ کمپنی نے بولنگ بیٹنگ میں کمال دکھا کر سرفراز اینڈ پارٹی کے ہوش اڑا دئے دیا تو امت شاہ نے اسے بھی سرجیکل اسٹرائیک نام دیا ۔توبہ توبہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میدان کرکٹ میں بھی کتنے مرے مارے کی فہرست دکھانی پڑے۔ اور کہیں بلے سے چھکا نہ اڑے بلکہ کسی کا سر ہی پھوڑ دیں ۔ پھر وکٹ کی نوک تو تیز ہی ہوتی ہے کہیں بھی گھس سکتی ہے۔ اور بھاگتے بھاگتے ایمپائیر اپنی جان بچانے کے لئے حملہ آور پر گیند پھینک دے اور دلچسپ تو پھر اسکور بورڈ ہوگا ۔دو کے سر پر بیٹ لگنے سے وہ ہٹ آوٹ ہوگئے ، ایک وکٹ کی نوک پیٹ کی باونڈری پا رکر گئی۔اور ریڈیو ٹی وی کمینٹری کچھ اس طرح ہو گی ۔سرجیکل اسٹرائیک کے نتیجے میں اپنے بچائو کے لئے چار کھلاڑی بھاگ رہے ہیں جب کہ دو مخالف بلے باز ان کے ساتھ آگے پیچھے دائیں بائیں ڈاگ فائٹ میں مصروف ہیں۔آف سائیڈ باونڈری پر وکٹ امریکی میزائل کی مانند لہراتا ہوا کھلاڑی کی کھوپڑی میں لگنے ہی والا تھا کہ روسی ڈیفنس سسٹم کے سبب وہ وکٹ میزائل راستے میں گرا یا گیا۔تیز گیند باز کے ہاتھوں سے نکلی گیند ڈرون کی طرح ہوا میں اڑ رہی تھی کہ بلے باز کے سر پر لگ کر اسے چت کر گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں امت شاہ کے بھکتوں نے اس جیت کو سرجیکل اسٹرائیک کہنے پر اپنے گرو کی واہ واہ کی انہیں تو ایسا لگا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے قبضے میں انگلستان کا کھیل میدان تھا پر ہم نے کرکٹ میچ میں انہیں ہرا کر میدان مارا نہیں بلکہ جیت ہی لیا۔کیا پتہ جلد ہی وہ اس میدان کو امت شاہ کرکٹ گرائونڈ نام دیں کیونکہ نام کرن میں بھکت جن سب سے آگے ہیں۔البتہ مملکت خداداد والے سارے کھیل کو مذاق میں لے کر دلچسپ بنا گئے۔کسی کو بھارتی کھلاڑی ایتھلیٹ محسوس ہوئے لیکن اپنے کھلاڑی بس دو پلیٹ وارث نہاری، پھیکی لسی اور بے نظیر کلفا کھا کر مست اور سست محسوس ہوئے۔اور تو اور بھارتی رن ریٹ اور ڈالر کا ریٹ ان کے بس کا نہ رہا کہ دونوں کو سنبھالنا ان کے بس کی بات نہیں۔ اسی لئے تو پاکتانی کپتان سرفراز کو گھر واپسی کا مشورہ دینے والوں کو اس نے کہہ دیا کہ میں اکیلے گھر نہیں جائوں گا بلکہ کچھ اور لوگوں کو ساتھ آنا پڑے گا ۔ بھلا ان حالات میں گھر واپسی کوئی عام بات نہیں کہ اس میں جان پر جو بنی ہے۔کیا پتہ کرکٹ فین غصے میں آکر ہوائی اڈے ہی پہنچ جائیں اور تو اور سرکار براہ راست میاں والی سینٹرل جیل ہی پہنچا دیں ؎
ہر گلی کوچے میں یاں مشق کرکٹ دیکھئے
داخلہ وزارت میں پھر وہ سِٹ پِٹ دیکھئے
آوٹ دینے پر مچا کس قدر بھاری بوال
پھر وہ ایمپائر سے انگریزی میں گٹ پٹ دیکھئے
اس طرح طاری کرکٹ کا جنوں لڑکوں پر ہے
اب کرکٹ کا مزہ پچ پر نہیں سڑکوں پہ ہے
سرجیکل اسٹرائیک صرف کھیل میدان میں نہیں ہوئی ۔بھارتی پارلیمان میں بھی ہوئی ۔ ہل والے نیشنلیوں نے تو پہلے ا لیکشن کے دوران پنجہ مار پارٹی اور دودھ ٹافی آنٹی پر وار کیا اور انہیں دس فیصد ووٹنگ میں بھی ہرا دیا ؎
ہاتھ قلمدان سے ایسے روٹھی لیڈری
جیسے عاشق کا جنازہ جیسے مجنون کی برات
اور پھر جا کر نیشنل ٹیم نے حلف برداری کے دوران کشمیری زبان کا استعمال کر کے یہ میزائل چلا یا کہ اہل کشمیر ہوشیار خبردار ہل والے ہیں تیار ۔باقی لوگ ہوں گے فرار اور اپنی نیا ہو گی پار۔وہ جو ملک کشمیر کی کرسی روٹھ کر گئی تھی ٹنل پار وہ پھر سے آئیں گے اپنے دوار ۔ اور اب کی بار ہم دوار رکھیں گے بالکل کھلے جبھی تو ہم نے دل بھی زبان بھی رکھے ہیں بالکل نثار۔مطلب نثار تیری گلیوں پر ائے ملک کاشمر ۔اب ہم پھر سے سونمرگ سے سورسیار اور لال چوک سے گپکار آر پار ہوجائیں گے ۔ ابھی تو اسمبلی الیکشن کا بگل بجا بھی نہیں کہ ہل والے قائد ثانی نے مجاہدین سے ناطہ جوڑنے کی کوشش کی اور ببانگ دہل اعلان کردیا کہ بندوق بردار، کفن بردوش سمیت ، ہمارے بچے ہیں اور وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ کہاں وہ ان پر ایک نہیں بیسیوں الزامات لگاتے بلکہ بہتانات سر تھوپتے۔ پھر اتنا ہی نہیں کرسی پر بیٹھنے سے پہلے یہ ہوائی اُڑا دی کہ اس ممکنہ کرسی کا سارا شریہہ ’’چھین کے لیں گے‘‘نعرہ مستانہ لگانے والوں ،ٹھنا ٹھن برسانے والوں اور مملکت خداداد کے بسکینوں کو جائے گا جنہوں نے اگر ہم پر احسان کیا اور ہمیں عیش کوشی کی کرسی تک پہنچنے سے نہیں روکا تو ان کی بلائیں لیں گے ؎
ہو جا الیکشن میں کھڑا
بن جا سیاسی رہنما
نعرہ لگانا سیکھ لے
الو بنانا سیکھ لے
ادھر ایک اور سرجیکل اسٹرائیک شاہ فیصل نے کر ڈالی کہ مست ملنگ ہر فن مولا رشید انجینیر اور مست قلندر جاوید میر کو ایک ہی اسٹیج پر کھڑا کر کے اعلان کروایا کہ اب کی بار کوئی نیشنل سرکار نہیں بلکہ قلندرانہ سرکار بنے گی ۔ہم تو کچھ کہہ نہیں سکتے کہ مست قلندر لوگوں کی قلندرانہ باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آسکتیں۔ کسے نہیں معلوم کہ مجذوب باتیں کچھ کرتے ہیں اور ان کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے ۔ کیا پتہ قلمدان بردار آنٹی ضرور یہ گانا گاتی ؎
کوئی جب تمہارا ردے توڑ دے
کوئی جب تمہیں تڑپتا ہوا چھوڑ دے
تب تم میرے پاس آنا پرئے
ادھر اپنے وائسرائے کشمیر بھی پیچھے نہیں رہے ۔ویسے تو وہ پچھلے قریب ایک سال سے سرجیکل اسٹرائیک کرتے رہے اور اس کے سبب اپنے سیاست دان زیادہ ہی زخم خوردہ ہیں کہ ان کی ممکنہ کرسی اور دال چاول بھی ان سے کافی دور ہیں مگر اب کی بار چلو گائوں کی اور نامی نئی سرجیکل اسٹرائیک متعارف کروائی۔کیا پتہ شاید شہروں کا کام ختم کیا ہو جو اب گائوں کی جانب دوڑ لگانے کا منصوبہ ہے؟شہروں کی سڑکیں ٹھیک کی البتہ کہیں کہیں لوگ گڑھوں میں گر کر ہاتھ پائوں توڑ دیتے ہیں پر اسکے لئے تو ہڈیوں کے ہسپتال کے لئے ڈیڑھ سو کروڑ کا منصوبہ عالمی بنک سے منظور کروایا گیا ہے۔کہیں انہی گڑھوں میں پانی جمع ہونے کے سبب لوگ ان میں مچھلیاں پالنے لگے ہیں اور یوں بے رووزگاری کا قلع قمع کرنے کی صورت میں ڈھونڈ لی گئی۔شہروں قصبوں میں بجلی پانی کی کمی کے لئے بڑے منصوبے زیر تکمیل ہیں بس صبر کی ضرورت ہے اور کسے نہیں معلوم صبر کی بجلی اور پانی مزیدار ہوتے ہیں۔ان منصوبوں کو د یکھ کر تو یقین ہوتا ہے کہ گائوں کے مسائل ایک ہفتے میں حل کرنا کوئی بڑا معاملہ نہیں۔کسے معلوم یہ اپنے دیہات دو ہفتے میں قصبہ جات اور شہر ہی بن جائیں ۔ہاں پھر ان کے شہری اور بلدیہ مسائل اسی طرح حل کردیں گے جیسے شہروں کے دقیق مسائل حل کر ڈالے کہ وائسرائے کشمیر نے تو پہلے ہی ملی ٹنسی اور پتھر بازی کا قلع قمع کردیا ۔یقین نہ آئے تو دو ہفتوں میں افسران سمیت سکورٹی اہلکاروں کی موت سے ہی اندازہ لگائو کہ کام کتنی تیزی سے ہو رہا ہے۔ اس تیزی میں اگر کوئی ٹریفک اہلکار یا اسکول بس کا ڈرائیور فوجی غصے کا شکار ہوتا ہے تو کوئی گناہ نہیں کرتے ، بقول گبر سنگھ میں کہتا ہوں کوئی گناہ نہیں کرتے لیکن وہ جو اسکولی بچے ڈر کے مارے رو رہے تھے وہ تو انہی پتھر بازوں کی سازش ہےکہ یہ بچے اسکول کا ہوم ورک نہ کرنے اور استاد کے ہاتھوں ممکنہ مار پٹائی کے خوف سے رو پڑے لیکن قوم مخالف شر پسندوں نے یہ الزام فوج کے سر ڈال دیا۔
ادھر ایک اور سرجیکل اسٹرائیک بڑھیا بے نظیر بنک کے چیرمین پر ہوئی اور لگے ہاتھوں ڈپٹی مئیر بھی بقول سورما بھوپالی اس لپیٹے میں آگیا ۔اور کسے نہیں معلوم اپنے زندہ دلانِ کشمیر ہر با ت ہر واقعے کو دوکان کے تھڑوں پر تولتے ہیں ، پھر اپنی زیرکی میں بولتے ہیں۔ابھی اس نتیجے پر
پہنچے ہیں کہ کرپشن تو بہانہ ہے اصل میں جامبو لوچن کا پسر پروردہ بڑی کرسی پر بٹھانا ہے۔ الزامات کا مانو ترانہ ہے دراصل بنک نوکریوں کا لسٹ بدلوانا ہے۔چلتے چلتے یہ میوزک بھی سنانا ہے کہ ضلع سطح کا میرٹ پس پشت ڈلوانا ہے۔
………………………
رابط ([email protected]/9419009169)