کشتواڑ//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ مختلف صورتوں میں تشدد نے جموں وکشمیر میں امن، خوشحالی اور اچھی حکمرانی کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ بخاری چوگان میدان میں منعقدہ پارٹی کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کر رہے تھے جس میں کثیر تعداد میں مقامی لوگوں نے شرکت کی۔ نوجوانوں سے تشدد کا راستہ ترک کر کے خطہ میں امن واستحکام میں اپنا تعاون پیش کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مسلح تشدد نے ترقی، امن اور اچھی حکمرانی پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں جس سے عوامی ادارے کمزور ہوئے اوربدعنوانی کا ماحول پیدا ہوا‘‘۔ بخاری نے کہاکہ امن وہم آہنگی جموں وکشمیر میں ترقی وخوشحالی کے لئے ناگزیر ہے، گذشتہ روز سرینگر میں نوجوان پولیس افسر جو ابھی پروبیشن پر تھا کا سفاکانہ قتل کیاگیا۔ اِس سانحہ نے صرف اکیلے اُن کے خاندان کو تکلیف نہیں پہنچائی بلکہ کشمیر میں پہلے سے اذیت ناک صورتحال میں اضافہ کیا ہے۔اپنی پارٹی صدر نے کہاکہ جموں وکشمیر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے جن کو بروئے کار لاکر سابقہ ریاست کے ہر گھر کی معاشی صورتحال بہتر بن سکتی ہے۔ اس کے لئے ہم سب کو تعاون دینے اور ایسا ماحول قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اِن وسائل کا استعمال کیاجاسکے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو اُن کا بیان یاد جس میں انہوں نے کہاکہ تھاکہ جموں وکشمیر میں بڑے پیمانے پر ترقی ہونی چاہئے ، دلاتے ہوئے بخاری نے افسوس ظاہر کیاکہ کشتواڑ کے نوجوان خود کو نظر انداز اور الگ تھلگ محسو س کرتے ہیں جوخطہ کے اندر پن بجلی پروجیکٹوں میں بھرتی عمل سے مایوس ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے اپیل کی کہ پن بجلی پروجیکٹوں میں مقامی لوگوں کو روزگار دیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ ترقی صرف اعدادوشمار کے متعلق نہیں ہوسکتی بلکہ یہ سماجی، انسانی اور ماحولیاتی طور بہترکا مظہر ہونی چاہئے۔ حکومت ِ ہند کو چاہئے کہ جموں وکشمیر میں حالیہ شروع کئے گئے مرکزی مالی معاونت والے پن بجلی پروجیکٹوں میں مقامی نوجوانوں کا روزگار یقینی بنایاجائے۔انہوں نے کہاکہ قدرت نے کشتواڑ کو آبی وسائل سے مالا مال کیا ہے جہاں پر کم سے کم پانچ نئے پروجیکٹ پکل ڈول، کیرو، کواڑ، ڈہل ہستی دوم اور ریٹیلی کا احیا ء شامل ہیں اور عوام کی توقعات ہیں کہ اِن پروجیکٹوں میں ترجیحی بنیادوں پر اُنہیں روزگارملنا چاہئے۔ بخاری نے کہاکہ خطہ میں 20ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے بشرطیکہ حکومت اِس صلاحیت کا بھر پور استعمال کرنے کے لئے اقدامات اُٹھائے۔ اگر چہ حکومت نے کشتواڑ میں تین اہم پروجیکٹوں پر کام شروع کیا ہے مگر اِس میں مزید اضافہ انتہائی ضروری ہے۔ کمپنیاں جنہیں ٹینڈر الاٹ ہورہے ہیں، کو چاہئے کہ وہ ہنراور غیر ہنر یافتہ مقامی افرادی قوت کو ہی استعمال کیاجائے تاکہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے اچھے خاصے مواقعے ملیں۔بخاری نے مزید کہاکہ اِن پروجیکٹوں سے نکلنے والی زہریلی گیسوں اور فضلہ کے مقامی ماحول پر سنگین اثرات بھی ہیں، ڈیموں کی تعمیر سے لگاتار پانی رسنے سے علاقہ کی سڑکیں تباہ ہورہی ہیں۔ لہٰذا اس طرح کے میگا پروجیکٹوں سے بہت زیادہ فائدہ اٹھاتے ہوئے اِن کمپنیوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے سی ایس آر فنڈز کو کشتواڑ میں لگائیں۔ اس طرح کے فنڈز کو سڑکوں کی تجدید، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی تعمیر میں استعمال کیاجائے۔ اپنی پارٹی صدر نے کشتواڑ کے قدرتی حسن کو بھی ایکسلپور کرنے پرزور دیا جس میں عالمی سطح کے سیاحتی مرکز بننے کی صلاحیت ہے۔ اگر چہ کشتواڑ کو ایک بہترین سیاحتی مقام کے طور ترقی دی جاسکتی ہے لیکن لیکن بنیادی ڈھانچہ کی سہولیات ، ناقص رابطہ سڑک، طبی سہولیات، ہوٹل، سیاحتی ہٹس اور خراب مواصلاتی نظام اِس خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے میں رکاوٹ ہیں۔ اس سے مقامی لوگوں کو بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقعے بھی مل سکتے ہیں جوکہ پچھلے کئی سالوں سے ترقی کی خواہش رکھتے ہیں۔ بخاری نے اپنے اس عزم کا دوہرایاکہ اگر اپنی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو فی گھر کو ماہانہ 300یونٹ بجلی مفت دی جائے گی۔ اس موقع پر اپنی پارٹی سنیئر نائب صدر غلام حسن میر نے کہاکہ کشتواڑ معدنیات سے مالامال ہے جس میں نیلم، ماربل اور جپسم کی بھرمار ہے لیکن بدقسمتی سے اِن شعبہ جات کو ترقی دینے کی طرف توجہ ہی نہ دی گئی۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ اِن معدنیات کی کان کنی کے لئے حکومت کو پروجیکٹ شروع کرنے چاہئے تاکہ جموں وکشمیر کی معیشت کو رفتار ملے۔