پونچھ//مرکزی وزارت امور داخلہ کے جموں و کشمیر میں املاک پر ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے نیسرحدی ضلع پونچھ کے لوگوں کو بھی اضطراب اور پریشانیوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔اس ضمن میں ہیومن رائٹس کے صدر ایڈوکیٹ محمد زمان نے کہا کہ گذشتہ کم و پیش ایک برس سے جاری وبائی صورتحال اور اس سے قبل پانچ اگست 2019 کے فیصلوں سے پیدا شدہ صورتحال کے بیچ حکومت رعایت دینے کے بجائے ایک اور ٹیکس کو لاگو کر کے جموں کشمیر کے لوگوں کے مشکلات مزید پیچیدہ کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لفٹنٹ گورنر کے اس اعلان کے بعد کہ جموں کشمیر میں پراپرٹی ٹیکس نہیں لگے گا مرکزی وزارت امور داخلہ نے جموں وکشمیر انتظامیہ کو یونین ٹریٹری میں پراپرٹی ٹیکس لاگو کرنے کافیصلہ دہرایا ہے۔ انہوں نے کہ یہ ٹیکس میونسپل حدود کے تحت آنے والے علاقوں میں تمام اراضی، عمارتوں اور خالی زمین پر عائد کیا جاطرہا ہے جو یہاں کے غریب لوگ برداشت نہیں کرسکتے۔پینتھرس پارٹی کے ضلع صدر ایڈوکیٹ محمد سلیم شیخ نے کہا کہ وہ یہ ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے اسے لوگوں کا خون چوسنے کے مترادف قرار دیا ہے۔بار ایسوسی ایشن پونچھ کے صدر ایڈ کیٹ تاج حسین شاہ نے اس ٹیکس کے نفاذ کے فیصلے کے بارے میں بتایا کہ حکومت کو اس وقت ایک اور ٹیکس عائد کرنے کی بجائے رعایت دینی چاہئے۔انہوں نے کہاہماری صورتحال ملک کے دیگر حصوں سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا جموں کشمیر میں گذشتہ تیس برسوں کے دوران حالات خراب رہے ہیں جس سے تجارت کو نقصان پہنچا ہے اس لئے یہاں رعایت دی جانے چاہئے نہ کہ ایک اور ٹیکس عائد کیا جانا چاہئے۔سینئرکانگرس لیڈر تاج میر نے پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے پر مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے یہ ٹیکس عائد کر کے حکومت لوگوں کا خون چوسنا چاہتی ہے اور اس فیصلے سے لوگوں کے مالی حالات بد سے بد تر ہوں گے۔ انہوں نے حکومتی فیصلے کو جموں و کشمیر کی سابق شاہی حکومتوں کے استحصالی ٹیکس کے مترادف قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی عادت بن گئی ہے کہ وہ احکامات جاری کرتے ہیں لیکن یہ بات ذہن میں نہیں رکھتے ہیں کہ ان کے عوام پر کیسے اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی اقتصادی لحاظ سے پسماندہ ہیں دوسری طرف ہم وبا کے بیچ کیسے ٹیکس پر ٹیکس ادا کرسکتے ہیں اس لئے حکومت کو رعایت دینی چاہئے نہ ایک اور ٹیکس عائد کرنا چاہئے۔