معراج وانی
جموں و کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں فطری حسن کے ساتھ ساتھ موسمی شدت بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔ خصوصاً موسمِ سرما یہاں کی روزمرہ زندگی، معیشت اور تعلیمی نظام پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اسی موسمی حقیقت کے پیش نظر یوٹی میں سرمائی تعطیلات کا ایک طویل رواج قائم ہے، جس کے تحت اسکول اور تعلیمی ادارے مہینوں تک بند رہتے ہیں۔ ماضی میں یہ فیصلہ زمینی حقائق اور سہولیات کی کمی کے باعث ناگزیر تھا، تاہم آج کے جدید سائنسی اور ڈیجیٹل دور میں اس روایت پر نظرِ ثانی نہایت ضروری ہو چکی ہے۔سرمائی تعطیلات کا بنیادی مقصد طلبہ کو شدید سردی، برف باری اور آمدورفت کی دشواریوں سے محفوظ رکھنا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کے منفی اثرات زیادہ نمایاں ہونے لگے ہیں۔ طویل تعطیلات کے باعث طلبہ کا تعلیمی ربط اسکول سے منقطع ہو جاتا ہے، سیکھے ہوئے اسباق ذہن سے محو ہونے لگتے ہیں اور دوبارہ تعلیمی ماحول میں واپسی ایک مشکل مرحلہ بن جاتی ہے۔ خاص طور پر ابتدائی جماعتوں کے طلبہ اس تعلیمی خلا سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
آج کے اس جدید اور سائنسی دور میں، جہاں آن لائن تعلیم (Online Education) ایک مؤثر، قابلِ عمل اور آزمودہ متبادل کے طور پر پوری دنیا میں رائج ہو چکی ہے، وہاں جموں و کشمیر میں سرمائی تعطیلات کے دوران تعلیمی سرگرمیوں کو مکمل طور پر معطل رکھنا دانش مندی نہیں۔ آن لائن نظامِ تعلیم کو متعارف کروا کر نہ صرف طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ تعلیم کا تسلسل بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اور ملکی سطح پر ایسے ادارے قائم ہوچکے ہیں جو اس آن لائن سسٹم کے ذریعے لاکھوں طلباء کو فیض یاب کررہے ہیں اور طلباء اعلی سطحی امتحانات میں شامل ہو کر کامیاب بھی ہو رہے ہیں مثلاً فزیکس والا ، ڈاکٹر عطاء الرحمن نوری صاحب کی نوری ایکیڈمی وغیرہ قابل ذکر ہیں .
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سرمائی تعطیلات کے باوجود چھوٹے بڑے بچوں کو گھروں سے نکل کر کوچنگ سینٹروں اور ٹیوشن اکیڈمیوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس عمل میں ایک طرف بچوں کو شدید سردی اور خطرناک موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو دوسری طرف غریب اور متوسط طبقے کے والدین پر اضافی ٹیوشن فیس کا بوجھ بھی پڑتا ہے۔
اگر آن لائن تعلیم کو سرمائی تعطیلات کے دوران باقاعدہ طور پر نافذ کیا جائے تو طلبہ گھر بیٹھے اسکول کا ماحول بنا کر اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ اساتذہ آن لائن کلاسز، اسائنمنٹس، ویڈیو لیکچرز اور تشخیصی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ سے مسلسل رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف نصاب بروقت مکمل ہو سکتا ہے بلکہ طلبہ میں خود نظم و ضبط، ڈیجیٹل مہارت اور خود سیکھنے کا رجحان بھی فروغ پاتا ہے۔
حکومتِ جموں و کشمیر اور محکمۂ تعلیم کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنائے، اساتذہ کو آن لائن تدریس کی تربیت فراہم کرے اور طلبہ، بالخصوص دیہی و پسماندہ علاقوں کے بچوں کو ضروری سہولیات مہیا کرے۔ اگر یہ اقدامات سنجیدگی سے اٹھائے جائیں تو سرمائی تعطیلات کا طویل اور نقصان دہ رواج بتدریج ختم کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سرمائی تعطیلات کے نام پر طلبہ کو طویل عرصے تک تعلیمی اداروں سے منقطع رکھنا وقت کی ضرورت نہیں رہا۔ بہتر یہی ہے کہ ہم آن لائن نظامِ تعلیم کو اپنا کر اس روایت کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالیں، تاکہ تعلیم کا سفر رکے نہیں، بلکہ ہر موسم اور ہر حالت میں جاری رہے۔
[email protected]